یہ آئین ایک ٹائم بم ہی ہے جو جب پھٹا تو۔۔۔۔؟

aaj-ki-bat-logoاٹھارہویں ترمیم پاکستان کے خلاف ایک بہت بڑی سازش تھی۔ اس سازش میں کچھ لوگ دانستہ طور پر اور کچھ نادانستہ طور پر شریک تھے۔ اس سازش کا سب سے بڑا حصہ یہ تھا کہ تعلیم کا شعبہ صوبائیت اور علاقائیت کے پرچم برداروں کے سپرد کردیا گیا۔ اگر یہ آئین موجود رہا یا اٹھارہویں ترمیم اس کا حصہ بنی رہی تو ایک وقت آئے گا جب سندھ بلوچستان اور کے پی کے کے لوگوں کے لئے قائداعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ نامانوس نام ہوں گے۔ ” نظریہ پاکستان “ کی تو ترکیب ہی لغت سے غائب ہوجائے گی۔ میں اِس صورتحال کی ذمہ داری نوازشریف او ر ان کے حواریوں پر ڈالتا ہوں۔ گزشتہ شب ایک پروگرام سنتے ہوئے مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ پنجاب تک میں پانچویں جماعت کے نصاب سے پاکستان کے نقشے اور قائدؒ و اقبال ؒ کی تصاویر کو غائب کردیا گیا ہے۔
میں اس ضمن میں اپنا وہ مضمون دوبارہ پیش کررہا ہوں جو 2013ءکے اوائل میں شائع ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا ” یہ نظام ایک ٹائم بم ہی ہے۔“
آج میں عنوان بدل رہاہوں ۔ کیوں نہ اس ” آئین “ کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے جس نے اس نظام کو جنم دیا ہے۔؟
۔۔۔۔۔۔
جب ژاں جیکس روُسو نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف نیو سوشل کنٹریکٹ یعنی نیا عمرانی معاہدہ کو قلمبند کیا تھا تو فرانس کے اس عظیم سیاسی و عمرانی فلسفی کے ذہن میں اپنے ملک کے ہی حالات ہوں گے۔ یا پھر وہ یورپ کے دیگر ممالک یعنی جرمنی ` ہالینڈ ` بلجیم ` سپین ` برطانیہ اور پرتگال وغیرہ کے بارے میں ہی سوچ رہے ہوں گے جن کی قومی شناخت ” یک لسانی “ یا ” یک نسلی “ بنیاد پر ہوتی تھی اور ہوتی ہے۔ نیو سوشل کنٹریکٹ کی تصنیف اٹھارہویں صدی کی آخری چوتھائی میں ہوئی تھی اور یہ جدید دنیا کی تاریخ کا بڑا ہی ” تلاطم خیز “ دور تھا۔ ایک طرف اس دور میں فرانسیسی انقلاب برپا ہوا جس کے بعد نیپولین کے ظہور عروج اور زوال کا زمانہ آیااور دوسری طرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے برطانوی نو آبادیاتی نظام کو پہلی کاری ضرب لگا کر ایک آزادجمہوری مملکت کے طور پر تاریخ کی شاہراہ پر اپناسفر شروع کیا۔
روُسو کا زمانہ نوآبادیاتی نظام کے عروج کا زمانہ تھا۔ یورپ کے تقریبا ً تمام ہی ممالک باقی دنیا کے وسائل پرقابض ہونے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ بنیادی طور پر یہ دور بادشاہوں کی مطلق العنانی کادور تھا ` اور ایسے دور میں ”کاروبارِ مملکت ” کے اندر جمہور یعنی عوام کی شرکت کا ذکر اس انداز میں کرنا جس انداز میں ” نیو سوشل کنٹریکٹ “ میں روُسو نے کیا ایک ایسے ذہن کی نشاندہی کرتا تھا جو صدیوں کے فاصلے تک اپنی فکری نگاہیں پہنچانے کی صلاحیت سے مالا مال ہو۔روُسو نے عوام کی پارلیمنٹ کے تصور کو غیر حقیقی اور پرُ فریب قرار دیتے ہوئے بڑے جامع انداز میں مقامی حکومتوں کی وہ تاریخی ڈاکٹرائن پیش کی جو آج دنیا کی تمام حقیقی جمہوریتیں یا تو بھرپور انداز میں اپنا چکی ہیں یا اپنانے کے عمل میں آگے بڑھ رہی ہیں۔
روُسو نے ” نیو سوشل کنٹریکٹ “ میں لکھا کہ اقتدار میں عوام کی شرکت صرف مقامی حکومتوں کی سطح پر ممکن اور موثر ہوسکتی ہے۔ یہی حقیقی جمہوریت ہے۔ عوام کو اگر اپنے محلے ` اپنے قصبے ` اپنے شہر یا اپنے ضلع کے معاملات طے کرنے کا موثر اختیار حاصل ہو تو انہیں دارالحکومت کی طرف پرُ امید نظروں سے دیکھنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ اسے میں شراکتی جمہوریت کا نام دوں گا۔ جس میں عوام ووٹ دینے کے مرحلے سے لے کر فیصلہ سازی کے مرحلے تک براہ راست حصہ لے سکتے ہیں۔ جہاں تک بالواسطہ جمہوریت کا تعلق ہے یعنی وہ جمہوریت جس میں عوام چار پانچ سال کے بعد اپنے ووٹوں کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں اس میں عوام کا حقیقی اختیار صرف ایک دن تک محدود ہوتاہے ¾ یعنی وہ دن جب وہ ووٹ ڈالنے کے لئے نکلتے ہیں۔ ایک دفعہ ان کا ووٹ پڑ جاتا ہے تو پھر دوبارہ با اختیار ہونے کے احساس سے سرشار ہونے کے لئے انہیں چار پانچ سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔“
روُسو نے جو بات سوا دو سو برس قبل لکھی تھی وہ آج بھی بہت بڑا سچ سمجھی جاسکتی ہے۔ نام نہاد عوامی نمائندے جو درحقیقت علاقے کے امراءہوا کرتے ہیں صرف انتخابی مہم کے زمانے میں اپنے ووٹروں کو یاد کرتے ہیں۔ ورنہ باقی ساری مدت وہ اقتدار کے مزے لوٹنے یا اقتدار پر قابض لوگوں کی حاشیہ برداری کی ” برکات “ سے فیضیاب ہونے میں گزار دیتے ہیں۔
میں نے اس موضوع کا انتخاب بلدیاتی نظام یا مقامی حکومتوں کے سسٹم کے ” فیوض“ پر روشنی ڈالنے کے لئے نہیں کیا۔ میرا مقصد یہاں صرف اِس حقیقت کی نشاندہی کرنا ہے کہ ہم نے پاکستان کے لئے جس ” نظام“ کو جمہوریت کے نام پر اختیار کیا ہے وہ نہ صرف یہ کہ حقیقی جمہوریت کی بڑی ہی پرُ فریب نفی ہے ` بلکہ یہ بھی کہ اسے پاکستان کی بنیادوں میں چھُپا کر رکھا گیا ایسا ٹائم بم قراردیا جاسکتا ہے جو آنے والے ادوار میں کسی بھی وقت کسی بھی حادثے کے نتیجے میں پھٹ سکتاہے ۔ اگر ہمارا حافظہ جواب نہیں دے چکا تو ہمیں یہ بات یاد آجانی چاہئے اور یاد رکھنی چاہئے کہ تقریباً اکتالیس برس قبل اسی انداز کا ایک ٹائم بم پھٹا بھی تھا جس کے نتیجے میں ہمیں 14اگست 1947ءکو قائم ہونے والے پاکستان کی سرحدیں بڑے ڈرامائی اور کرب انگیز انداز میں سمیٹنی پڑی تھیں۔
میں نے آغاز میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ” نیو سوشل کنٹریکٹ “ لکھتے وقت ژاں جیکس روُسو کے ذہن میں یا تو اپناملک یعنی فرانس ہوگا یا پھر آس پاس کے دوسرے یورپی ممالک جنکی قومی شناخت صرف زبان یا نسل کی یگانگت کی بنیاد پر ہوتی تھی (اور ہے)۔ یعنی کوئی بھی ملک ایسا نہیں تھا جس کی 2 یا 3 یا چار پارلیمینٹیں تھیں۔
روُسو کی دُور بین نظریں بہت دور تک دیکھ سکتی تھیں لیکن نظریات کی بنیاد پر ایک مملکت کا قیام پہلی بار بیسویں صدی میں عمل میںآیا ۔میری مراد سویت یونین سے ہے جسے اگر چہ زار کے روس کی شہنشاہت کی بنیادوں پر کھڑا کیا گیا تھا ` لیکن یہ مملکت عملی طور پر متعدد نسلوں اور زبانوں پر مشتمل کئی علاقوں کا ایک نظریاتی الحاق تھا۔ وسطی ایشیا کی ترک ریاستوں کے علاوہ اس میں جارجیا یوکرین اور بیلا روس کی ریاستیں بھی تھیں۔ ان سب کو ایک مملکت کا درجہ دینے والی مشترکہ قدر ” کمیونزم “ یا اشتراکیت تھی۔
سوویت یونین کے بعد دوسری مملکت جو نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوئی وہ یوگوسلاویہ تھی۔ اس کا نظریہ بھی وہی تھا جو سوویت یونین کا تھا۔ نظریہ کی بنیاد پر جو تیسری مملکت قائم ہوئی وہ ہمارا پاکستان ہے۔ اس کے فوراً ہی بعد اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔
اِن چار مملکتوں کے علاوہ دنیا میں کوئی بھی مثال ایسی نہیں ملتی ` جس میں نظریے نے کئی نسلوں اور کئی زبانوں کو ایک ” وحدت “ میں پرویا یا جوڑا ہو۔
آج اِن میں سے صرف دومملکتیں قائم ہیں۔ سوویت یونین اور یوگوسلاویہ` دونوں نظریے کی زنجیر کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی مختلف مملکتوں میں تقسیم ہوگئیں۔ کہاجاتا ہے کہ سوویت یونین کو توڑنے کا سہرا گورباچوف کے سر پر ہے جنہوں نے Prestoroikaیعنی ” تعمیر نو “ کی جمہوری ڈاکٹرائن کے ذریعے ان تمام ریاستوں کو آزادی کا خواب دکھایا جنہیں مارکسزم اور اشتراکیت کی نظریاتی زنجیر نے ایک دوسرے کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔ اسی صورتحال کا سامنا یوگوسلاویہ کوبھی کرنا پڑا۔
اگر سوویت یونین کے بانی لینن نے ژاں جیکس روُسو کا ” نیا عمرانی معاہدہ “ پڑھا ہوتا اوروہ اپنی نظریاتی مملکت کا ڈھانچہ علاقائی یونٹوں کی بجائے مقامی حکومتوں کے تصور پر قائم کرتے ` تو شاید سوویت یونین اس انداز میں شکست و ریخت کا شکار نہ ہوتا جس انداز میں شکست و ریخت کا شکار وہ ہوا۔
مجھے ڈر ہے کہ پارلیمانی جمہوریت کے ساتھ ہمارے اقتدار پر ست سیاستدانوں کا عشق پاکستان کوجس مستقبل کی طرف دھکیلتا چلا جارہا ہے وہ اس ملک کے عوام کی غالب اکثریت کے لئے خوش آئند ہرگز نہیں ہوگا۔
ہم پاکستان میں لسانی اور نسلی بنیادوں پر سیاسی خود مختاری کے اُس تصور کو فروغ دینے کے متحمل نہیںہوسکتے جو آنے والے ادوار کے دوران ہر صوبے میں ویسی ہی صورتحال پیداکر سکتا ہے جیسی صورتحال 1971ءکے دوران ڈھاکہ میں پیداہوئی تھی۔ آج بھی ” سندھ کارڈ “ ” بلوچ کارڈ “ اور” پختون کارڈ“ تشویشناک سیاسی حقیقتوں کا درجہ اختیار کرچکے ہیں۔ پنجاب کا رڈ بھی ایک لحاظ سے سامنے آتا چلا جارہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ 1973ءکا آئین پاکستان کے مستقبل کے لئے کوئی اچھی نوید نہیں تھا۔ رہی سہی کسر ہم نے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے پوری کردی۔ میں نے جس ” ٹائم بم “ کاذکر اوپرکیا ہے ` وہ یہی اٹھارہویں ترمیم ہے۔ اگر ہم نے اقتدار کی منتقلی کا عمل اسلام آباد سے کراچی کوئٹہ ` پشاور اور لاہور تک محدود رکھا ` اور ایسی درجنوں بلکہ سینکڑوں مقامی حکومتیں قائم نہ کیں جو متذکرہ ”راج دھانیوں “ پر قابض ہونے کا خواب دیکھنے والی قوتوں کے ناپاک عزائم کے راستے میں چٹانیں بن کر کھڑی ہوجائیں ` تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
کیا ہم پاکستان کو ایک اور اندلس بناناچاہتے ہیں۔ اندلس کیسے طوائف الملوکی کا شکار ہوا؟ کیسے ایک اندلس کی جگہ قرطبہ` طلیطلہ ` اشبیلیہ ` غرناطہ اور المریہ وغیرہ نے لے لی۔ ؟ اقتدار کی طلب نے کیسے اندلس کے ٹکڑے ٹکڑے کئے ؟ اور کیسے آٹھ سو برس تک اندلس پر حکومت کرنے والے مسلمان واپس افریقہ کے ساحلوں کی طرف دھکیل دیئے گئے ؟ ہمارے پاکستان کی عمر تو ابھی 66برس بھی نہیں ہوئی !
خدا نہ کرے کہ اس عظیم اسلامی مملکت کی 100ویں سالگرہ منانے والوں کی آنکھوں میں 14اگست 2047ءکے روز کرب اور پچھتاوے کے آنسوﺅں کے سوا اور کچھ نہ ہو۔

Scroll To Top