ترک-ایران مشترکہ کارروائی ہمیشہ سے ایجنڈے کا حصہ رہی:اردوگان

jjjترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے ایرانی فورسز کے اعلیٰ کمانڈر کے انقرہ کے دورے کے ایک ہفتے بعد کہا ہے کہ کرد دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائی 'ہمیشہ سے ایجنڈے میں شامل' تھی۔

ترکی گزشتہ کئی دہائیوں سے کالعدم کردستان ورکرز پارٹی(کے کے پی) کے خلاف لڑرہا ہے جبکہ ایرانی سیکیورٹی فورسز بھی اسی پارٹی سےمنسلک پارٹی آف فری لائف آف کردستان (پی جے اے کے) سے لڑرہی ہیں۔

خیال رہے کہ ان دونوں پارٹیوں کی بنادیں ہمسایہ ملک عراق سے ہیں۔

طیب اردوگان نے سوڈان کےدورے سے قبل استنبول میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'خطرے کا باعث بننے والی تنظیموں کے خلاف ایران کے ساتھ مل کر مشترکہ کارروائی کرنا ہمیشہ سے ایجنڈے کا حصہ تھا'۔

قبل ازیں ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل محمد حسین بغیری نے گزشتہ ہفتے ترکی کا دورہ کیا تھا جہاں دونوں اطراف سے دہشت گردی کے خلاف تعاون پر بحث کی گئی تھی۔

ترک اخباروں میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ایرانی جنرل نے اپنے دورے میں عراق کے شمالی علاقے کندیل اور سنجار کے علاقوں میں کرد دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی حیران کن تجویز پیش کی ہے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تجویز انقرہ کے لیے حیرانی کا باعث تھا کیونکہ ترک حکام کو ایران سے ہمیشہ یہی شکایت تھی کہ انھوں نے کرد پارٹی کے خلاف کارروائی کے لیے ترکی کو مالی اور سیاسی سرگرمیوں میں تنہا چھوڑ دیا ہے۔

واضح رہے کہ پی کے کے کو ترکی کےعلاوہ یورپین یونین اور امریکا نے بھی دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔

ترک صدر اردوگان نے یہ واضح نہیں کیا کہ کارروائی کا مرکز کس علاقے کو قرار دیا جائے تاہم انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں اطراف کے ملٹری چیفس نے کرد دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیسے کی جائے، اس پر بات چیت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کام جاری رہے گا کیونکہ پی کے کے کی جیسی دہشت گرد تنظیم کی موجودگی ایران میں بھی ہے'۔

ترک صدر نے کہا کہ 'وہ ایران اور ہمارے لیے ہمیشہ سے خطرہ ہیں اس لیے ہم کام کریں گے کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ جب دونوں ممالک تعاون کریں گے تو ہم قلیل عرصے میں نتیجے پر پہنچیں گے'۔

انھوں نے کارروائی کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیے بغیر کہا کہ 'مجھے امید ہے کہ ہم وہاں سے کامیاب نتائج حاصل کریں گے'۔

خیال رہے کہ ترکی اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ سال کشیدہ ہوگئے تھے جب ترکی نے شام کے حوالے سے ایران کی مخالف پالیسی اپنائی تھی۔

ترکی نے شام کے صدر بشارالاسد کی مخالفت کی تھی جبکہ ایران نے روس کے ساتھ مل کر بشارالاسد کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

Scroll To Top