بھارتی ساز ش کا پہلا مرحلہ ناکام ] جسٹس کھوسہ کیخلاف ایاز صادق کا ریفرنس دائر نہ ہو سکا

  • جج نے ایاز صادق کو نواز شریف کا وفادار کہہ کر ایوان کے 343اراکین اور اسپیکر کا استحقاق مجروح کیا، عہدے پر برقرار رہنے سے معزز جج صاحب کو مزید متنازع فیصلوں کا موقع ملے گا،5صفحاتی ریفرنس میں مو¿قف، اٹارنی جنرل کا اظہار لاعلمی
  • ریفرنس کا گھڑا گیا ڈرافٹ کسی نے محنت سے تیار کیا ہے،پیر کے روز اسلام آباد جاﺅں گااورخود بھی ڈرافٹ کو سنجیدگی سے پڑھوں گا ‘ ایاز صادق ، عدلیہ کےخلاف کسی قسم کی محاذ آرائی قبول نہیں، ہم عدلیہ کےساتھ ہےں‘سیکرٹری سپریم کورٹ بار

jit

اسلام آباد (این این آئی/یو این پی)اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس تیار کر لیا، اسپیکر نے ریفرنس جسٹس آصف سعید کھوسہ کے خلاف دائر کیا جائے گا،اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ ریفرنس کا گھڑا گیا ڈرافٹ کسی نے محنت سے تیار کیا ہے ،ڈرافٹ کے پوائنٹس دلچسپی لے کر بنائے گئے ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سردار ایاز صادق نے کہا کہ میں پیر کے روز اسلام آباد جاﺅں گا اور خود بھی ڈرافٹ کو سنجیدگی سے پڑھوں گا ۔انہوں نے چار لوگوں کی طرف سے ڈرافٹ کی تیاری کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم ریسٹورنٹ میں کھانا کھائے گئے اور اس کی چھت پر اتنا اندھیرا تھا کہ وہاں کیسے ڈرافٹ تیار ہو سکتا ہے ۔ اس سوال کہ آپ نے ڈرافٹ کو سنجیدگی سے پڑھنے کی بات کی ہے کیا آپ ریفرنس فائل کرنے جارہے ہیں کا جواب دیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آپ ابھی اس بات کو چھوڑیں میں ابھی اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ریفرنس آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت دائر کیاجائے گا۔یوا ین پی رپورٹس کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل میں سپیکر ایاز صادق کی جانب سے دائر ریفرنس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اسپیکر قومی ا سمبلی کو نواز شریف کا وفادار قرار دیا، اسپیکرقومی اسمبلی کو نوازشریف کاوفادار قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاناما کیس کے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسپیکر نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں اور اس بنیاد پر پاناما کیس سے متعلق درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا۔ ایاز صادق نے ریفرنس میں کہا کہ اسپیکر کو وزیراعظم کا وفادار اور جانبدار قرار دینا حقائق کے منافی ہے، اسپیکر ایوان کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے اور اسپیکر کا دفتر کوئی تحقیقاتی ادارہ نہیں ہوتا، جب کہ سپریم کورٹ نے دس ماہ تک پاناما سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا اور اسپیکر کا اس حوالے سے کوئی کردار نہیں تھا۔ریفرنس میں کہا گیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف ریمارکس سے ذاتی عناد اور جانبداری کا تاثر ملتا ہے، معزز جج کے ان ریمارکس سے کئی منفی سوالات پیدا ہوگئے ہیں، عہدے پر برقرار رہنے سے معزز جج صاحب کو مزید متنازع فیصلوں کا موقع ملے گا۔ایاز صادق کی جانب سے ریفرنس میں کہا گیا کہ اسپیکر کے بارے میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے،فیصلے میں لکھا گیا اسپیکر نے معاملہ الیکشن کمیشن کو نہیں بھیجا یہ ناکامی ہے،اسپیکر قومی اسمبلی کو ایوان نے منتخب کیا ہے، یہ فیصلہ ایوان کے 343 اراکین اور اسپیکر کے استحقاق کو مجروح کرتا ہے۔ادھر اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے ریفرنس سے متعلق لا علمی کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق ایسا کوئی ریفرنس دائر نہیں ہوا۔دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ریفرنس کو عدلیہ کے خلاف سازش قرار دے دیا۔ سیکرٹری سپریم کورٹ بار آفتاب باجوہ نے کہا کہ عدلیہ کے خلاف کسی قسم کی محاذ آرائی قبول نہیں، سپریم کورٹ کے جج معزز ہیں اور سپریم کورٹ بار عدلیہ کے ساتھ ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق ریفرنس دائر کیے جانے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل ابتدائی سماعت کرکے ریفرنس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے گی۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں ہائی کورٹس کے دو چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔ترجمان قومی اسمبلی نے کہا ہے سپیکر سردار ایاز صادق نے کسی جج کے خلاف کوئی ریفرینس فائل نہیں کیا ۔ہفتہ کو ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی کے بارے میں غلط بیانی اور مبالغہ آرائی سے گریز کیا جائے ۔

Scroll To Top