نواز شریف معصوم نہیں بلکہ مجرم ہیں‘ بلاول بھٹوزرداری

  • مسلم لیگ اور تحریک انصاف دونوں مفاد پرست جماعتیں ہیں، نواز شریف انقلاب دیکھاہی نہیںبلکہ سازشی اور فسادی ہیں
  • خیبر پختونخوا کے ٹھیکوں سے عمران خان کا کچن اور ترین کا جہاز چل رہا ہے،دہشتگردی کم ہونے کا کریڈٹ لینے والے خان صاحب ماضی میں سرکاری خزانے سے طالبان کے مدرسے کو کروڑوں روپے دے چکے ہیں
  •  میاں صاحب کے منہ سے انقلاب کا نعرہ اچھانہیں لگتا ‘پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا جلسہ سے خطاب

Pic19-079 MANSEHRA: Aug 19 – PPP chairperson Bilawal Bhutto Zardari addressing the public meeting. ONLINE PHOTO

مانسہرہ(صباح نیوز )پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایک جانب سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ملکی دولت کولوٹنے کی پاداش میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نااہل ہو کر عوام کو چیخ چیخ کر سڑکوں پر لانے کے وعدے لے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب نیا خان صاحب آئینی ترمیم کے خلا ف عوام کو سڑکوں پر لانے کے لئے مجبور کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف دونوں مفاد پرست جماعتیں ہیں جن کی نظریں صرف عوام کے ووٹ کی طاقت سے اقتدار کی کرسی کا حصول ہے۔ میاں محمد نواز شریف معصوم نہیں بلکہ مجرم ہیں جبکہ صوبائی حکومت کے ٹھیکوں سے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان عرف نیاخان کا کچن اور ان کے ساتھی جہانگیر ترین کا جہاز چلتا ہے۔ انقلاب کے نعرے لگانے والے میاںصاحب کے منہ سے انقلاب کا نعرہ اچھانہیں لگتا کیونکہ انہوں نے انقلاب دیکھاہی نہیںبلکہ یہ سازشی اور فسادی ہیں اور انہوں نے شہید بے نظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے لئے اسامہ بن لادن سے سرمایہ حاصل کیا۔ترقی کے نام پر نمائشی منصوبوں پر کھربوں روپے ضائع کرکے لوٹ گھسوٹ کا نظام قائم کیا اور اپنی کرسی بچانے کے لئے پارلیمنٹ کو استعمال کر کے میاں صاحب نے مفادات کے حصول کے بعد پارلیمنٹ کی طرف مڑ کردیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے گذشتہ روز ہزارہ ڈویژن کے ضلع مانسہرہ میں آمدہ انتخابات کے حوالے سے منعقدہ عوامی جلسہ سے اپنے پہلے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر شیری رحمن، فیصل کریم کنڈی، فرحت اللہ بابر، ہمایون خان، خورشید شاہ، نیئر بخاری، سید احمد حسین شاہ، شجاع سالم عرف شازی خان کے علاوہ دیگر قومی و صوبائی قائدین بھی موجود تھے۔ اپنے خطاب میں بلاول زرداری نے مسلم لیگ ”ن“کی وفاقی اور پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے غریب غریب سے غریب تر ہوا جبکہ میاں صاحب کا بنک بیلنس بڑھتا رہا۔ نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں اٹھائے پھر رہے ہیں۔ روزگار کے مواقع چھین لیئے گئے ۔ اس حکومت کے دورمیں خاک ترقی ہوئی ہے صرف لوٹ گھسوٹ کا نظام چلتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف معصوم نہیں بلکہ مجرم ہے۔ جسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نااہل قرار دیا جا چکا ہے اور اب وہ سڑکوں پر چیخ چیخ کا عوام کو سڑکوں پر نکلنے کے وعدے لے رہا ہے۔ جی ٹی روڈ پر تماشا برپا کرکے پارلیمنٹ اور جمہوریت کی بات کرنے والے میاں صاحب نے نہ صرف ملکی دولت کو لوٹا بلکہ جعلسازی اور دھوکہ دہی کی اور جھوٹ بولا اور جھوٹی گواہیاں دیں۔جس وجہ سے انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نااہل کر دیا گیا۔ میاں محمد نواز شریف سے سوال کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بات کرنے والے میاں صاحب کتنی مرتبہ پارلیمنٹ اور سینٹ میں آئے۔ انہوں نے تو ہمیشہ پارلیمنٹ کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور اپنے مفادات کے حصول کے بعد پارلیمنٹ کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب نے ترقی کے نام پر عوام کا معاشی قتل کیاا ور آج انہی کی پالیسیوں کی وجہ سے غریب غریب سے غریب تر ہوتا چلا گیا۔ جبکہ ان کے بنک بیلنس بڑھتے گئے۔ میاں محمد نواز شریف کے داماد کیپٹن(ر)صفدرکو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے ہاتھوں میں بھی جلد ہتھکڑیاں ہی لگیں گی۔ اپنے خطاب کے دوران بلاول زرداری نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو نیا خان کا لقب دیتے ہوئے للکارتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہونے والے انتخابات ان کے پہلے انتخابات ہوں گے جبکہ آئندہ ہونے والے انتخابات عمران خان کے آخری انتخابات ہوں گے۔ ”نیا“ اور”تبدیلی“ کا نعرہ لگانے والے نیاخان کا کچن اور اس کے ساتھی جہانگیر ترین کا جہاز صوبائی حکومت کے ٹھیکوں سے چلنے کی ان کے وزراءاورایم این ایز تائید کر چکے ہیں۔ کے پی کے کی عوام نے انہیں پہچان لیا ہے اور اب جھوٹ، الزامات اور گالی کی سیاست کونہیں چلنے دیا جائے گا۔ صوبائی حکومت میں ہونے کے باوجود فاٹا ریفارمزاورآئی ڈی پیز کے حوالے سے کبھی بات تک نہیں کی۔ CPAC اور بجلی کی رائیلیٹی کے حصول کے لئے کوئی دھرنا نہیں دیا۔ کبھی صوبے کے حقوق کی بات نہیں کی بلکہ عوام کو اپنے مفادات کے لئے نیا خان نے استعمال کیا۔ نیا خان نے دہشت گردی کم ہونے کا سہرا اپنے سر لیتے ہوئے دعویداری کی۔ حالانکہ نیا خان صاحب نے دہشت گردوں کے خلاف بات کرنا تو دور کبھی ان کے اقدامات کی مذمت بھی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ عوام وقت کبھی نہیں بولتے۔ عمران خان نے طالبان کو دفتر کھولنے کی پیشکش کی۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کرنے والوں میں شامل ہوئے اور عمران خان انہیں اپنا بھٹکا ہوا بھائی کہتے رہے۔ نیا خان نے نجی سکولوں سے سرکاری سکولوں میں ایک لاکھ بچے منتقل ہونے کی نئی دعویداری کی اور نیا جھوٹ بولا ۔ آج کے پی کے کے سرکاری سکولوں کی حالت یہ ہے کہ آج کوئی بھی سرکاری سکول پوزیشن حاصل نہیں کر سکا۔ سرکاری سکولوں میںتعلیم پستی کی طرف جا رہی ہے جبکہ پوزیشنیں انہی کے نجی سکولوں میں تقسیم ہو رہی ہیں۔ آج صوبائی حکومت کی تعلیمی اصلاحات کا یہ عالم ہے کہ مالاکنڈ کے بچے احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صادق اور امین کے نعرے لگانے والا نیاخان صاحب خود ہر بار نیا جھوٹ بولتا ہے اور اب کرپشن کے خلاف نعرے لگا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا خان نے بڑے فخر سے احتساب کمیشن کے اقدامات کو سراہتے ہوئے دعویداری کی کہ ان کی حکومت میں احتساب کمیشن نے پہلی مرتبہ ایک وزیر کو گرفتار کیا۔ مگر یہ نہیں بتایا جا رہا کہ وزیر کی جانب سے وزیر اعلیٰ کی کرپشن کے الزامات، اتحادی جماعت کی جانب سے خیبر بنک میں کرپشن کے الزامات اور مائن کے ٹھیکوں میں اربوں روپے کی کرپشن پر احتساب کمیشن حرکت میں کیوں نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ نیا اور تبدیلی کا نعرہ لگانے والے کیا تبدیلی لائے ہیں۔ انہوں نے تو صحت اور تعلیم کی حالت تباہ کر دی ہے اور بے روزگاری کا عالم یہ ہے کہ ڈگریاں نوجوانوں کے ہاتھوں میںگل سڑ رہی ہیں اور انہیں روزگار میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی حالت سب کے سامنے ہے ۔ صحت کے انصاف کے نام پر محکمہ صحت کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے عمران خان کو نصرت بھٹو کینسر ہسپتال کی بندش کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ نصرت بھٹو کینسر ہسپتال کو صوبائی حکومت نے بند کر دیا۔ نیا خان خود شوکت خانم کینسر ہسپتال کی بات کرتا ہے۔ مگر اس نے نصرت بھٹو کے نام سے ہسپتال کو بند کر کے سیاسی دشمنی کا ثبوت دیا۔ اگر انہیں نصرت بھٹو کے نام سے اختلاف ہے تو اس ہسپتال کو بھی شوکت خانم کا نام دے دیں کیوں کہ مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر ہزارہ وال کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہزارہ والوں کا کردار پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ اہم رہا ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور پھر آصف علی زرداری نے پی پی پی کے پلیٹ فارم سے یکساں ترقی کے مواقع فراہم کئے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ضلع ہزارہ ختم کرکے اسے ڈویژن کا درجہ دیا اور ضلع ایبٹ آباد اور ضلع مانسہرہ کے قیام کا اعلان کیا اور اس کے بعد پی پی پی کے دور میں ضلع کوہستان اور ضلع بٹگرام کی بنیاد رکھی گئی اور صدر آصف علی زرداری نے اپنے دور صدارت میں ہزارہ ڈویژن کو ضلع تورغر کا تحفہ دیا اور آج ہزارہ ڈویژن سات اضلاع پر مشتمل بڑا ڈویژن ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہی ہزارہ کے عوام کے حقوق کی آواز بلند کی اور ان کے حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے انہیں ان کے حقوق فراہم کئے۔ نوجوانوں کو روزگارکی یقینی فراہمی پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہی ممکن ہوئی۔ ریڈیو پاکستان، کوہستان ڈیویپلمنٹ پراجیکٹ، شاہراہ ریشم کی تعمیر، تعلیمی بورڈ اور کیڈٹ کالج بٹراسی کا قیام، ہری پور سے سوئی گیس کی فراہمی، بوئی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پی پی پی کے نمایاں کارنامے ہیں۔ جبکہ دیگر سیاسی پارٹیوں نے عوام کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ پی پی پی نے ہزاروں نوجوانوں کو تعلیم کی دولت سے مستفید کرنے کے لئے 250 سکولوں اور 9کالجز کی بنیاد رکھی اور آج کی نوجوان نسل اس سے مستفید ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کامنشور مزدور دوست، عوام دوست، تاجر دوست، کسان دوست اورعوام دوست ہے۔ پی پی پی عوام کے لئے روزگار کے مواقع کھولے گی، غربت کا خاتمہ یقینی بنائے گی ،عورتوں کو ان کے بنیادی اور برابری کے حقوق دے گی اور اقلیتوں کا ان کا حق فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا وہ اقتدار اپنی یا اپنی پارٹی کے لئے نہیں بلکہ عوام کے لئے چاہتے ہیں اور آئندہ انتخابات میں عوام انہیں کامیابی سے ہمکنار کرکے ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لئے اپنا ووٹ پی پی پی کے امیدواروں کے حق میں استعمال کریں۔ قبل ازیں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق صدر ملک سہراب ایڈووکیٹ کی وفات پر ان کے لواحقین سے ان کے گھر غازیکوٹ جا کر تعزیت کی اور ملک سہراب کی سٹوڈنٹ لائف سے تاحال پارٍٹی کے لئے خدمات کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔

Scroll To Top