دو قومی نظریہ کی تشریح ابتدائی قرآنی آیات میں کردی گئی ہے

basilsala-azadi-logoمغربی سرمائے کے زور سے قائم اور سرگرم ” این جی اوز“ نے سب سے پہلے آسیہ بی بی کا معاملہ اٹھایا۔ پھر مغربی میڈیا میدان میں کود پڑا۔ اور فوراً ہی پنجاب کے مرحوم گورنر سلمان تاثیر آسیہ بی بی کو ایک ” ظالمانہ کالے قانون “ کی چیرہ دستیوں سے بچانے کے لئے سرگرم ِعمل ہوگئے۔ انہوں نے ناموسِ رسالت کے تحفظ کے قانون سے ملک کو نجات دلانے کا بیڑہ جرا¿تِ رندانہ کے ساتھ اٹھالیا۔ یہ پورا قصہ جس المناک سانحے پر ختم ہوا وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
ممتاز قادری نامی ایک پو لیس مین نے قانون ہاتھ میں لے کر اس ریاست کے خلاف ایک جرم کیا جسے ہم مملکتِ خداداد پاکستان کہتے ہیں۔ اسے اس کے جرم کی سزا ضرور ملنی چاہئے۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گاکہ وہ اپنی سزا اس وقت خود ہی منتخب کر چکا تھا جب اس نے بقائمی ہوش و حو اس ایک چلتے پھرتے زندہ آدمی کو خون میں نہلا دیا۔ اگر مقتول کا نام سلمان تاثیر کی بجائے قلندر بخش یا کرم دین ہوتا تب بھی قاتل کو وہی سزا ملنی چاہئے تھی جو ہماری ریاست کا قانون قتل کے مجرم کو دیتا ہے۔
قتل کا یہ واقعہ عالمی توجہ کا مرکز اس لئے بنا ہے کہ مقتول کا نام سلمان تاثیر تھا ' اور وہ ناموسِ رسالت کے تحفظ کے قانون کے خلاف پرجوش مہم چلانے کی وجہ سے مغربی دنیا کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کے ” روشن خیالوں“ کا بھی ہیرو بنا ہوا تھا۔آسیہ بی بی کے کیس کے دو پہلو تھے ۔ اور اب بھی ہیں۔
ایک پہلو یہ کہ موصوفہ کے خلاف ایک جھوٹا کیس بنا جس کی بناءپر اسے وہ سزا ملی جو ناموسِ رسالت کے قانون کے تحت آئین میں مقرر کی گئی ہے۔دوسرے الفاظ میں موصوفہ بے گناہ تھی مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کا جرم ثابت کردکھایا۔
دوسرا پہلو یہ کہ جس قانون کے تحت اسے سزا دی گئی وہ غلط اور نظرثانی کا مستحق ہے۔
اگر بات پہلے پہلو تک محدود رکھی جاتی ' اور آسیہ بی بی کے ہمدردوں کا تعلق صرف موصوفہ کو انصاف دلانے تک محدود رہتا تو معاملہ شاید سلمان تاثیر کے قتل تک نہ جاتا۔ پاکستان میں کوئی بدبخت ایسا نہیں جو کسی بے گناہ کو کسی ناکردہ جرم کی سزا سے بچانے کے لئے تیار نہ ہو۔
مگر جن لوگوں نے اس معاملے کو اچھالا اور پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنادیا ان کی دلچسپی اس بات سے تھی کہ ” توہینِ رسالت “ کے عمل کو ” جرم کے دائرے “ سے نکال دیا جائے اور یوں ان لوگوں کے لئے میدان صاف ہوجائے جو آنحضرت کی ذاتِ مبارکہ اور قرآن حکیم دونوں کو ناقدانہ اور تمسخرانہ تجزیوں اور تبصروں کی زد میں لانے کی حسرت اپنے سینوں میں چھپائے رکھتے ہیں۔
اگر بات قانون کے غلط استعمال کی ہوتی تو کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہمارے ملک میں ہر قانون کا غلط استعمال ہوا ہے۔؟ کیا سینکڑوں بے گناہ قتل کے جرم میں پھانسیوں پر نہیں لٹکائے جاچکے ؟ کیا کبھی کسی نے اس بناءپر قتل کی سزا کے قانون پرنظرثانی کا مطالبہ کیا ہے کہ کئی بے گناہوں کے سزائے موت پا جانے کا امکان موجود رہتا ہے ؟
جو بات اس سارے ڈرامے میں مجھے ناقابلِ فہم لگتی ہے وہ یہ ہے کہ ” آسیہ بی بی “ کے لئے تڑپنے والی روحوں میں کبھی عافیہ صدیقی کے لئے تڑپ کیوں پیدا نہیں ہوئی۔
وہ لاکھوں کروڑوں بے بس 'بے کس ' مایوس اور غربت وافلاس کے مارے ہوئے لوگ جو نقطہ انجماد سے بھی نیچے گر جانے والے درجہ حرارت میں کھلے آسمان تلے ٹھنڈی زمین پر بغیر لحاف یا کمبل کے راتیں بسر کرنے پر مجبور ہیں ان کے لئے وہ ” فیشنیبل روحیں“ کیوں نہیں تڑپتیں جنہوں نے ایک آسیہ بی بی کی خاطر پورے ملک کو ” میدان کارزار “ بنانے کی ٹھان لی ہے۔؟
تو میرے بھائیو اور بہنو۔۔۔یہ ایک خوفناک کھیل ہے جو دینِ محمدی کے دشمن عالمِ اسلام میں کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ڈھکوسلا کھڑا کیا تاکہ اسلام کی ڈکشنری سے ” جہاد“ کی اصطلاح خارج کی جائے۔
گزشتہ ایک صدی کے دوران بیس کروڑ انسانوں کو جنگ کی ہلاکت آفرینیوں کے نتیجے میں موت کی نیند سلا دینے والا مغرب عالم ِاسلام سے کہہ رہا ہے کہ فلسطین 'چیچنیا ' کشمیر اور افغانستان میں آزادی کے لئے بلند ہونے والی ہر آواز ایک دہشت گرد کی آواز ہے۔
دینِ محمدی کو صرف کتابوں تک محدودرکھنے کی تمنا رکھنے والی مغربی فکر کے پرستار ہمیں یہ باور کرانے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں کہ ہر مذہب کی طرح اسلام بھی آدمی کا نجی معاملہ ہے اور اس معاملے کو سیاست اور معاشرت سے بالکل الگ تھلگ رکھا جاناچاہئے۔
یہ لوگ اپنے آپ کو سیکولر اور روشن خیال کہتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اسلام کا نٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ وہ اسلام کو ملائیت کے ساتھ نتھی کرکے اسے ” ڈسٹ بن“ میں پھینک دینا چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں دو قومی نظریے کا پرچم بلند کرنے والے جناحؒ درحقیقت اندر سے سیکولر تھے۔ انہوں نے یہ بتانے کی زحمت کبھی گوارہ نہیں کی کہ اگر بابائے قوم سیکولر تھے تو پھر انہوں نے مسلمانوں کے جداگانہ قومی تشخص کی بنیاد پر کھڑے دو قومی نظرےے کو اپنے سیاسی ایمان کا درجہ کیوں دیا۔؟
اس ضمن میں اگر بات ذوالفقار علی بھٹو کی بھی ہوجائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
کیا پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی نے ” جمہوریت ہماری سیاست ' سوشلزم ہماری معیشت اور اسلام ہمارا دین “ کا نعرہ نہیں لگایا تھا؟
اگرانہوں نے یہ نعرہ لگایا تھا تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام کو اپنا دین نہ سمجھنے والے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کرسکتے۔؟
نظریات اقلیتوں کو مدنظر رکھ کر قوموں کا مقدر نہیں بناکرتے۔
اسلام اور غیر اسلام کی تقسیم کسی مفکر یا فرد نے نہیں کی۔ اسلام کے سیاسی کردار کے منکرین اور سیکولر سوچ کے پرچم برداروں کی معلومات اور توجہ کے لئے میں سورہ البقرہ کی ابتدائی چند آیات کا ترجمہ پیش کروں گا۔
یہ کتاب )قرآن مجید(اس میں کچھ شک نہیں کہ کلام خدا ہے اور خدا سے ڈرنے والوں کی رہنما ہے۔
جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اورجو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
اور جو کتاب )اے محمد ﷺ (تم پر نازل ہوئی اور کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر ) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں۔
یہی لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں۔
اور جو لوگ کافرہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ' ان کے لئے برابر ہے ۔ وہ ایمان نہیں لانے کے ۔
خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب تیار ہے۔
تو بھائیو اوربہنو۔۔۔
دو قومی نظریہ ہماری ایجاد نہیں۔
اس کی تعریف تو اللہ نے اپنے کلام میں کردی ہے۔

Scroll To Top