انقلاب، تبدیلی اور میاں نواز شریف

ahmed-salman-anwer-izhar-khiyalڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کی تقلید میں کنٹینر میں بیٹھ کر، جی ٹی روڈ پرکئی روز رواں دواں رہنے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ عوام میرے پیغام کا انتظار کریں اور انقلاب کے لیے تیار رہیں، سابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں تبدیلی اور انقلاب لانا ہے۔
یہ فقرے میرے لیے میاں نوازشریف کے منہ سے نہایت حیران کن لگے اور پہلے تو یوں لگا کہ شائد ان کے ہاتھ کوئی غلط تقریر لگ گئی ہے۔ کیونکہ یہ وہ دو نام، ایجنڈہ یا نعرہ ”تبدیلی“ اور ”انقلاب“ کے ہمیشہ سے وہ سب سے بڑے دشمن رہے ہیں۔
پاکستان میں انقلاب کا تصور اور نعرہ جناب ڈاکٹر طاہر القادری کو جاتا ہے۔ جن کی انقلابی طرز سیاست کا ا?غاز 90 کی دہائی سے ہوا۔ اسی انقلاب کا گلہ گھونٹے کے لیے نواز شریف کے دور حکومت میں سانحہ ماڈل ٹاو¿ن جیسا اندوہناک اور بہیمانہ ظلم بپا کیا گیا۔ڈاکٹر طاہر القادری پاکستان میں غریب عوام کی بہتری اور ملکی ترقی کے لیے انقلابی اصلاحات کا ایجنڈا لیے ”انقلاب“ کا پرچم تھامے میدان سیاست میں ہیں۔ لیکن اسی انقلاب کا راستہ روکنے کے لیے میاں نواز شریف جاتی عمرہ میں تمام حلیف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، ہوا میں لہراتے دکھائی دیتے رہے۔ یاد رہے کہ آئین کے 62، 63 کو نئی زندگی دینا سہرا بھی ڈاکٹر طاہر القادری کو ہی جاتا ہے۔ 2013 میں ان کا پہلا دھرنا کا محورآئین کے آرٹیکل 62،63 کا اطلاق ہی تھا۔
دوسراایجنڈا ”تبدیلی“ جناب عمران خان کا ہے۔ جو ارض وطن پر نفاذ فرسود ہ نظام میں ایسی تبدیلی لانا چاہتے ہیں جس سے قوم کے حالات بہتر اور ملک میں ترقی لاسکیں۔ سرمایہ کار اور وڈیرہ کا بھی احتساب ہو سکے۔ ان دونوں رہنماﺅں کا اپنے نعروں اور ایجنڈوں کے پیچھے مقاصد اور حاصل سے پوری قوم باخوبی آگاہ ہے۔ جس کے تابع ان دونوں لیڈروں نے ایک لمبی جدوجہد کی ہے۔ میاں نواز شریف کا ان دونوں نعروں کو قبول کر لینا درحقیقت اس بات کا ادراک ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کی سیاست عوامی اور ملکی سیاست ہے۔
سوال یہاں یہ ہے کہ میاں نواز شریف کس ”انقلاب اور تبدیلی“ کی بات کر رہے ہیں۔ کیا وہ انقلاب اور بدلاو¿ ویسا ہی ہو گا جو ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کا نصب العین جس سے ملکی نظام میں بہتری، معشیت میں استحکام اور غریب کی حالت زار بہتر ہو سکے گی اور ظالم، جابر، کرپٹ کا کڑا احتساب ہوسکے گا۔ عوام کو بر وقت وستا انصاف، روزگار اور عزت مل سکے گی۔ اگر میں میاں صاحب کی ذات کو سامنے رکھ کو سوچوں تو جواب مکمل نفی میں ملے گا۔ کیونکہ میاں نواز شریف کی سیاست صرف اور صرف خاندان، اشرافیہ اور کاروبار کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ ن لیگ کے عہدایدران میں صرف اور صرف رشتے دار، وڈیرے، بزنس مین، جاگیراور صنعت کار نظر آئیں گے۔ میں نے آج تک ن لیگ کا کوئی ایسا نمائندہ نہیں دیکھا جس میں ان خوائص میں سے کم از کم ایک خصوصیت موجود نہ ہو۔
در حقیقت میاں نواز شریف کا ”انقلاب اور تبدیلی“ کے لبادے میں لپیٹا ہوا نصب العین اپنی ذات، جائیدار اور سیاست کا تحفظ ہے۔ میاں صاحب کے خلاف فیصلہ ان کی کرپشن اور اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ناجائز طریقے سے اثاثے بنانے پر دیا گیا۔ جن کی ابھی تحقیقات ہونا باقی ہیں۔ اورمیاں نوازشریف اس عمل سے بچنا چاہتے ہیں۔ جس کے لیے وہ اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے یہاں تک اپنی تقریر میں کہہ ڈالا کہ مجھے خدشہ ہے کہ 71 جیسا واقعہ پھر رو پذیر نہ ہو جائے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ میاںنواز شریف عوام پاکستان کو اکسا کر ایک نیا سقوط ڈھاکہ برپا کر ناچاہتے ہیں۔
لیکن میاں نواز شریف شائد اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر پا رہے کہ پانامہ جیسا ایشو درحقیقت کسی پاکستانی سیاستدان کا ایجنڈا نہیں درحقیقت اللہ کی طرف سے پکڑ ہے۔ جس میں ان کی کرپشن اور چوری مکمل طور پر سامنے ا?چکی۔ اور نہ ہی پاکستانی عوام اتنی بیوقوف ہے جتنا کہ میاں نواز شریف سمجھتے ہیں۔
ہر گزرتا دن میاں نوازشریف کو اپنے کئے ہوئے اعمال کی سزا کی طرف دھکیلتا جا رہا ہے۔ لیکن میاں صاحب تو میاں صاحب ہیں، وہ اپنے غرور اور تکبر کی مسند کو چھوڑ کر حقیقت کا سامنے کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

Scroll To Top