نواز شریف سے اب نہ کوئی معاہدہ ہو گا نہ رابطہ، بلاول بھٹو

  • نواز شریف کے جھوٹ کا پول کھل گیا،پاکستان آج بھی اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے ،اس بار دھاندلی نہیں ہونے دینگے
  • پوچھتا ہوں خیبر پختونخوا کے کس علاقے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں؟چیئرمین پیپلز پارٹی کا چنیوٹ میں خطاب
Pic12-123 CHINIOT: Aug 12 – PPP chairman PPP Bilawal Bhutto Zardari addressed the public gathering . ONLINE PHOTO

CHINIOT: Aug 12 – PPP chairman PPP Bilawal Bhutto Zardari addressed the public gathering . ONLINE PHOTO

چنیوٹ (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ سوچنا ہو گا کیا یہ پاکستان قائداعظم کی سوچ والا پاکستان ہے؟ پاکستان آج بھی اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں نواز شریف اور عمران خان پر کڑی تنقید کی، بلاول کا کہنا تھا کہ دونوں نے ملکر ملکی سیاست کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، ان کو ملک کی صورتحال کی کوئی فکرنہیں، نام نہاد بڑی سیاسی پارٹی کے لیڈرز کی یہ حالت کہ اہم مسائل پر بات نہیں کرتے، ان کی نظر صرف کرسی اور اقتدار پر ہے۔بلاول بھٹو نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب جی ٹی روڈ کے اطراف رہنے والے کیسے یاد آ گئے؟ میاں صاحب آپ کی چالبازی نہیں چلے گی، اقتدارکا نشہ اترنے کے بعد میاں صاحب کو میثاق جمہوریت یاد آ رہا ہے، میاں صاحب کو گرینڈ ڈائیلاگ یاد آ گیا ہے۔چنیوٹ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی کیا ہے ہماری آواز دوسرے ملکوںتک کیوں نہیں پہنچ رہی؟ پولیس اور فوج قربانیاں دے رہے ہیں، دہشت گردی پھر سے سر اٹھا رہی ہے، کہاں ہے نیشنل ایکشن پلان؟ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیوں نہیں ہو رہا، دہشت گردی، فرقہ وارایت صرف آپریشن سے ختم نہیں ہو سکتی، اگر جڑ سے ختم کرنا ہے تو پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کو اس ناسور کیخلاف جنگ کرنا ہو گی، نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل کرنا ہو گا۔بلاول بھٹو نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران کے وزیر اعلیٰ پر کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں، وزیر اعلیٰ کی کرپشن سے عمران کا جہاز اور جہانگیر ترین کا کچن چل رہا ہے، پوچھتا ہوں خیبر پختونخوا کے کس علاقے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں؟ اگر نئے پاکستان میں گالی کی سیاست ہو گی تو پھر نیا پاکستان نہیں چاہیے، میاں صاحب اور عمران دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، ان کی منزل صرف اقتدار ہے۔

Scroll To Top