چیئر مین نیب نا اہل وزیراعظم کے طاقتور حلیف: نواز شریف فیملی کیخلاف ریفرنسز میں مجرمانہ تاخیر کیوں؟

  • سپریم کورٹ نے پانامہ فیصلے میں نیب کو ہدایت کی تھی کہ وہ نواز شریف ، ان کی صاحبزادی ،صاحبزادوں اور کیپٹن(ر)صفدر کےخلاف بیرون ملک کاروباری اور رہائشی، غیر قانونی جائیدادوں اور اسحاق ڈار کے آمدن سے زائد اثاثوں بارے ریفرنسز چھ ہفتوں کے اندر احتساب عدالتوں میں فائل کر ے
  • ریفرنسز تیار اور فائل کرنے کے عمل کو تاخیر کا شکار کر دیا گیا ہے اور اگر بفرض محال ریفرنسز فائل ہو ہی جائیں تو ان میں ایسے قانونی سقم موجود ہونگے کہ جن کے باعث ملزمان کی موجیں ہی موجیں ہونگی

نواز شریف فیملیراولپنڈی (نمائندہ خصوصی) قومی احتساب بیور(نیب) جو کہ ملک میں انسداد بدعنوانی کا معتبر ترین ادارہ سمجھا جاتا ہے اور جس کا کام کرپشن میں ملوث بڑی بڑی مچھلیوں کو نہ صرف کیفر کردار تک پہنچاتا ہے بلکہ ان سے قومی خزانے سے لوٹی گئی دولت بھی واپس لینا ہے لیکن عجیب صورتحال ہے کہ موجودہ وقت میں نیب کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نہ صرف نااہل وزیر اعظم کے حلیف کے طو رپر سامنے آئے ہیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے بھی نظر آتے ہیں اپنے اس طرز عمل سے وہ نہ صرف آئین و قانون کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں بلکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت، سپریم کورٹ کے واضح اور غیر مبہم احکامات کو بھی پس پشت ڈالتے نظر آ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 28جولائی 2017ءکو پانامہ کیس فیصلے میں نیب کو ہدایت کی تھی کہ وہ میاں نواز شریف اور ا ن کے صاحبزادوں حسین نواز اور حسن نواز کے خلاف عزیزیہ اسٹیل کمپنی ، ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ جدہ اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ لمیٹڈ کی غیر قانونی ملکیت بارے ریفرنسز تیار کرکے چھ ہفتوں کے اندر اندر راولپنڈی، اسلام آباد کی احتساب عدالتوں میں فائل کر دے علاو ہ ازیں نواز شریف ، مریم نواز، حسن نواز، حسین نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے پارک لین لندن کے چار فلیٹس، وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے اور پانامہ کیس میں تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی کی طرف سے حدیبیہ پیپرز ملز سے متعلق سامنے آنے والے مواد کا معائنہ کرکے ریفرنسز تیار کرنے اور فائل کرنے کے لئے بھی چھ ہفتوں کا وقت دیا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ کی طرف سے نیب کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ تمام ریفرنسز جے آئی ٹی کے اکٹھے کے گئے شواہد ، ایف آئی اے اور کسی بھی دوسرے ذریعے سے حاصل ہونے والے متعلقہ مواد پر مبنی ریفرنسز فائل کرے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ چیئرمین نیب نے علاقائی ڈائریکٹر جنرلز کو حکم دیا ہے کہ وہ نیب کے ضابطہ کار کو یکسر نظر اندا ز کرتے ہوئے صرف اور صرف جے آئی ٹی کے مہیا کردہ مواد کی بنیاد پر ریفرنسز تیاراور فائل کرے ، اور ایک بند کمرے کے اجلاس میں انہوں نے متعلقہ ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی گواہ کو طلب نہ کریں گے اور یہ کہ ریفرنسز صرف اور صرف جے آئی ٹی کے مہیا کردہ مواد پر مبنی ہوں گے۔ یاد رہے کہ اس تمام عمل میں جو چیز سب سے زیادہ اہم ہے وہ سپریم کورٹ کی طرف سے دیا گیا چھ ہفتے کا ٹائم فریم ہے اور یہ تلخ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ دو ہفتے کا وقت پہلے ہی جیسے تیسے گزار دیا گیا ہے اور اب صرف چار ہفتے کا وقت باقی ہے کہ جس میں یہ سارا کام پایہ تکمیل تک پہنچایا جانا ہے لیکن یہ امر بھی قابل غورہے کہ خود پراسیکیوٹر جنرل نیب کو ریفرنسز کی سکروٹنی کے لئے کم از کم دو ہفتے کا وقت درکار ہوتا ہے۔ اندریں حالات اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ خود چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری 9 اکتوبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ نیا چیئرمین کون ہوگا؟ ، اس سلسلے میں ابھی تک حکومت کی طرف سے کسی کارروائی کا آغاز ہوتا دکھائی نہیں دے رہا جبکہ ڈپٹی چیئرمین نیب صرف اور صرف تیس دن کے لئے اس سلسلے میں کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف راولپنڈی، اسلا م آباد کی نیب عدالتوں کے ججز تیزی سے ریٹائر ہو رہے ہیں اور باقی ماندہ کو مختلف اخلاقی معاملات کا سامنا ہے اور سونے پہ سہاگہ خود پراسیکیوٹر جنرل بھی آئندہ تین ماہ میں ریٹائرمنٹ پر گھر چلے جائیںگے۔ مذکورہ بالا صورتحال کو مدنظر رکھ کر یہ نتیجہ بخوبی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ نہایت ہی ماہرانہ اور شاطرانہ طریقے سے ریفرنسز تیار اور فائل کرنے کے عمل کو تاخیر کا شکار کر دیا گیا ہے اور اگر بفرض محال ریفرنسز فائل ہو ہی جائیں تو ان میں ایسے قانونی سقم موجود ہونگے کہ جن کے باعث ملزمان کی خیر ہی خیر اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو غلط اور بدنیتی پر مبنی ثابت کرنے کا موقع بھی ہاتھ آ جائے گا اور بلآخر فائدہ ملزمان بالخصوص میاں محمد نواز شریف کو ہوگا۔ مذکورہ بالا تمام صورتحال سے نکلنے کے لئے بہتر تو یہ ہوگا کہ سپریم کورٹ کے سپروائزری جج خود نیب سے رابطہ کریں اور اس سلسلے میں ہونیوالی تمام پیش رفت کی رپورٹ طلب کرلیں بصورت دیگر یہ معاملہ حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ علاوہ ازیں پانامہ کیس میں پٹیشنرز جن میں پی ٹی آئی ، جے آئی اور اے ایم ایل شامل ہیں خود سپریم کورٹ سے نئے چیئرمین نیب کی تقرری کے سلسلے میں رابطہ کریں تاکہ تاخیری حربوںسے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے اور اصل ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جاسکے۔

Scroll To Top