عوام مجھے برطرف کرنیوالوں کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں، نواز شریف کا نعرۂ مستانہ

  • پاکستان چند مخصوص لوگوں کا ملک نہیں ،آپ ووٹ دیتے ہیں ، دوسرے اٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں ،کیا قوم ایسے ہتھکنڈوں کو معاف کرےگی ؟نوازشریف کو آپ نے کیوں نکالا ؟آج میرا پوچھنا بنتا ہے، عوام بھی پوچھیں ، گوجرانوالہ میں خطاب
  • جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول نہیں چل سکتا ، کروڑوں عوام نے وزیر اعظم بنایا پانچ افراد نے اٹھا کر باہر نکال دیا، حق حاکمیت عوام کا ہے اسے کوئی نہیں چھین سکتا ، میرے آئندہ پیغام کا انتظار کریں ، گجرات جلسہ سے خطاب

نواز شریف کا نعرۂ مستانہگوجرانوالہ (این این آئی)سابق وزیر اعظم محمد نوازشر یف نے کہا ہے کہ ،پاکستان جیسے ہی ترقی کر نے لگا تو سازشیں شروع ہوگئیں ، سوچا جارہا تھا کہ نوازشریف کامیاب ہوگیا تو اگلے سال پھر مسلم لیگ (ن) کی حکومت آجائیگی ، پاکستان چند مخصوص لوگوں کا ملک نہیں ،انشا ءاللہ جب تک پاکستان کو اصلی پاکستان نہیں بنا دیتے ہیں نہ خود چین سے بیٹھوں گا اور نہ آپ کو بیٹھنے دونگا ، نوازشریف کو انہوںنے وزارت عظمیٰ سے ہٹایا ہے آپ کے دلوں سے نہیں نکال سکے ، جب سے پیدا ہواہوں پاکستان کےساتھ وفا دارہوں ، آپ ووٹ دیتے ہیں ، دوسرے اٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں ،کیا قوم ایسے ہتھکنڈوں کو معاف کرےگی ؟نوازشریف کو آپ نے کیوں نکالا ؟آج میرا پوچھنا بنتا ہے عوام بھی پوچھیں ، آپ کے ووٹ کا احترام ہوگا تو آپ کو حقوق ملیں گے ، انصاف قائم ہوگا ، ظلم ختم ہوگا ، ترقی عروج پر جائیگی ، میں آپ کو پروگرام دونگا ، پاکستان کی تقدیر بدلنے کےلئے ساتھ دینا ہوگا ۔ ہفتہ کو گوجرانوالہ میں کارکنوں کے اجتماع سے سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہاکہ نوازشریف آج آپ کا مرید اور ممنون ہے جس طرح سے آپ نے نوازشریف کا فقید المثال استقبال کیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ نوازشریف زندگی بھر کبھی نہیں بھولے گا ،آپ نے مجھے بہت پیار دیا ہے ، مجھے بہت محبت دی ہے ، میں پہلے بھی گوجرانوالہ کئی بار آیاہوں لیکن جو پیار آج ملا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔انہوںنے کہاکہ شاندار استقبال کر نے پر گوجرانوالہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،گوجرانوالہ کے بھائیوں کو نوازشریف زندگی بھر نہیں بھولے گا ۔انہوںنے کہاکہ یہ پیار اور محبت کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے ، میں خوش نصیب ہوں کہ گوجرانوالہ کے لوگ اتنا پیار کرتے ہیں ،میں بھی آپ سے بہت پیار کرتا ہوں ۔انہوںنے کہاکہ میں آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ میں گھر جارہا تھا راستے میں آپ کا پیار نصیب ہوا ، میں لاہور جارہا تھا ،مجھے گوجرانوالہ نے روک لیا ہے۔ نوازشریف نے کہاکہ گوجرانوالہ کی بہت بڑی تاریخ ہے ، ججوں کی بحالی کےلئے لانگ مارچ کیا اور جیسے ہی گوجرانوالہ پہنچے اعلان ہوگیا کہ جج بحال ہوگئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ گوجرانوالہ میرے لئے بڑا مبارک شہر ہے ۔ اس موقع پر جلسے کے شرکاءنے آئی لو یو کے نعرے لگائے جس کے جواب میں نوازشریف نے آئی لو یو ٹو کہا ۔انہوںنے کہاکہ آج نوازشریف آپ کے سامنے ہے ۔انہوںنے سوال کیا کہ نوازشریف کو آپ نے منتخب کر کے وزیر اعظم بنایا تھا یا نہیں ؟ جس پر شرکاءنے ہاں کا جواب دیا ۔نوازشریف نے کہاکہ آج نوازشریف کو انہوںنے نکال دیا مگر آپ کے دلوں سے نہیں نکال سکے ۔نوازشریف نے کہاکہ انہوںنے کاغذوں پر نکال دیا آپ کے دل سے نہیں نکال سکے ۔آپ کل انشاءاللہ نوازشریف کو دوبارہ وزیر اعظم بنا دینگے لیکن میرا مقصد وزیراعظم بننا نہیں ہے ،میرا مقدمہ عوام کی عدالت میں ہے کہ پاکستان کے مالک بیس کروڑ عوام ہیں ۔پاکستان کے مالک گوجرانوالہ کے لاکھوں لوگ ہیں یا نہیں ؟ پھر مجھے کس بات پر نکالا گیا اس لئے کہ پاکستان کی روشنیاں واپس آرہی تھیں ، لوڈیڈنگ کو ختم کیا جارہا تھا ، بجلی سستی ہورہی تھی ، ملک ترقی کرر ہا تھا ، بے روز گار ی کا خاتمہ ہورہا ہے ، دنیا پاکستان کو مان رہی تھی کہ پاکستان ترقی کررہا ہے ،یہاں کارخانے چلنے شروع ہوگئے ، تجاروت بڑھنی شروع ہوگئی ، بے روز گاری ختم ہو نا شرورع ہوگئی اور پاکستان میں شاہراہیں ، موٹروے ، ہائی وے سب بن رہے تھے اور بڑے زوروں سے بن رہے تھے ، پاکستان کے اندر امن قائم ہورہا ہے ،اب دنیا تسلیم کررہی ہے کہ پاکستان بدل رہا تھا یہ راس نہیں آیا ، یہ لوگوں کو بر داشت نہیں ہوا اور دھرنے شروع ہوگئے ،یہ سوچا جارہا تھا کہ نوازشریف کامیاب ہوگیا تو پھر اگلے سال پھر نوازشریف اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت آجائیگی ، یہی وہ لوگ سوچ رہے تھے ، گوجرانوالہ کے لوگ بتائیں یہ لوگ وہی سوچ رہے تھے ؟ جس پر شرکاءنے جواب میں ”یس “کہا ۔نوازشریف نے کہاکہ پاکستان میں بد حالی ختم ہوگئی ،پاکستان میں امن قائم ہوگیا ، پاکستان خوشحال ہوگیا ، غربت کا خاتمہ ہوگیا ، ہسپتال بننے شروع ہوگئے ، ہیلتھ کارڈ ملنے شروع ہوگئے تو وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کی کوئی عزت نہیں رہے گی ، نوازشریف دوبارہ منتخب ہو جائیگا ، پاکستان کے عوام دوبارہ وزیراعظم بنائینگے ، اسی وجہ سے نوازشریف کے خلاف سازشیں ہوئیں ، پچھلے ساڑھے تین سال سے سازشیں ہورہی تھیں ہم نے مقابلہ کیا اس کے باوجود ترقی کا پہیہ تیز کیا ، یہ سازشیں بھی تیز ہوگئیں ۔انہوںنے کہاکہ نوالزشریف کو وزارت عظمیٰ سے رسوائی کے ساتھ نکالا گیا ہے ، کیوں نکالا گیا ؟ گوجرانوالہ کے لوگوں بتائیں کیوں نکالا گیا ؟ کیا کرپشن کی تھی نوازشریف نے ؟ کیا رشوت لی تھی نواز شریف نے ، کونسی نے کمیشن نوازشریف نے لی تھی ، کونساروپیہ خورد برد کیا تھا ، یہ وہ بھی مانتے ہیں جنہوںنے نکالا ہے نواز شریف نے کوئی کرپشن نہیں کی ، تو پھر بندہ ان سے پوچھے ،نوازشریف کو آپ نے کیوں نکالا ؟آج میرا پوچھنا بھی بنتا ہے عوام بھی پوچھیں ، نوازشریف نے کونسی پاکستان کی غدارزی کی ؟ نوازشریف پاکستان سے وفادار ہے جب سے پیدا ہوا ہوں پاکستان کا وفار دار ہوں ، کوئی کرپشن ثابت کرو ،مجھے بتائیں میں نے کونسی حرام کی کمائی کی تھی ، پہلے بھی دو بار وزیر اعظم رہا ، میں نے ایٹمی دھماکے کئے ، ایٹمی قوت بنانے والے وزیر اعظم کےساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے ؟ آپ اس بات کا حساب لوگے یا نہیں ؟ جب وزیر اعظم نوازشریف تھا دوڈھائی سال کے بعد حکومت توڑ دی گئی ،پھر ڈھائی سال بعد مشرف نے توڑ دی ،پھر وزیراعظم کو فارغ کر دیا گیا نوازشریف نے کہا کہ میں پوچھتا ہوں کہ کروڑں عوام کے ووٹ کی عزت ہے یا نہیں ؟ آپ ووٹ دیں اور کوئی پھاڑ کر آپ کے ہاتھ تھما دیں ، آپ کو حساب لینا ہوگا ۔ اس سے قبل
گجرات جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہاہے کہ ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس نہیں ہوسکتی ہے ، کروڑوں عوام نے وزیر اعظم بنایا پانچ افراد نے باہر نکال دیااس نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے ، جتنی تیزی سے ملک ترقی کررہا تھا اتنی تیزی سے مجھے نکالا گیا ، حق حاکمیت عوام کا ہے اسے کوئی نہیں چھین سکتا ، میرے پیغام کا انتظار کریں ، مجھے نکالنے والے جج بھی کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ، پھر عوام پوچھتے ہیں مجھے کیوں نکالا گیا ؟مجھے تیسری بار ہٹایا گیا ہے ، آپ کے ووٹ کی کوئی وقعت نہیں ، آپ کا ووٹ بیکار گیا ، اس نظام کو بدلنے کےلئے عوام کو میرا ساتھ دینا ہوگا ، ستر سالوں سے ملک کے ساتھ مذاق ہورہا ہے ، یہی صورتحال رہی تو ملک پستیوں کی طرف چلا جائیگا ، کے پی کے کا بندہ کہتا ہے کرائے کے لوگ لائے گئے ہیں ؟ کیا آپ کرائے کے عوام ہیں ؟۔ جمعہ کو گجرات میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ گجرات میں عوام کی عدالت میں ہوں اور میری اپیل عوام کی عدالت سے ہے ،کیا آپ نے عدالت کا فیصلہ قبول کیا ہے ؟ جس پر جلسے کے شرکاءنے نہیں میں جواب دیا۔ نواز شریف نے کہاکہ سارے پاکستان کی یہی آواز ہے ، کوئی سن سکتا ہے تو سن لے ، سارے پاکستان کا یہی عالم ہے ، گلگت بلتستان کا یہی عالم ہے ،آزاد کشمیر کا یہی عالم ہے ، بلوچستان کا یہی عالم ہے ، سندھ کا یہی عالم ہے اور خود کے پی کے کا یہی عالم ہے۔نواز شریف نے کہاکہ مجھے نہیں پتا کہ کے پی کے کی حکومت کا کیا عالم ہے مگر کے پی کے کے عوام کا یہی عالم ہے ، پنجاب کا یہی عالم ہے۔ نوازشریف نے کہاکہ کے پی کے کے ایک بندے نے کہا تھا کہ یہ کرائے کے لوگ ہیں ؟ آپ کرائے کے عوام ہیں؟ جس پر شرکاءنے نہیں میں جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ میں پیچھے والوں سے معذرت چاہتا ہوں ،ہمارا راستہ تبدیل کرادیا گیا ، میں معافی چاہتا ہوں جس والہانہ طریقے سے آپ استقبال کررہے ہیں تمام عوام کو سلام پیش کرتا ہوں ۔انہوںنے کہاکہ اتناجذبہ نواز شریف نے پہلے کبھی گجرات میں نہیں دیکھا ،آج نواز شریف آپ سے وعدہ کر نے آیا ہے ، نواز شریف وہی ہے جس کو آپ نے 2013میں ووٹ دیا تھا ، کس لئے ووٹ دیا تھا ؟ انہوںنے کہاکہ اس زمانے میں نہ پنکھا چلتا تھا اور نہ ہی چولہا جلتا تھا ،آج چولہا بھی جلتا ہے اور پنکھا بھی چلتا ہے ، فیکٹری بھی چلتی ہے ، کسان کا ٹیوب ویل بھی چلتا ہے ، کاروبار بھی چلتا ہے اس وقت اندھیرے تھے ، آج روشنیاں ہیں ،لوڈشیڈنگ ختم ہورہی ہے ،خوشحالی آرہی ہے۔انہوںنے جلسے کے شرکاءسے سوال کیا کہ لوڈشیڈنگ ختم ہورہی ہے یا نہیں ہورہی ، شرکاءنے کہا کہ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے پاکستان کےساتھ کیا سلوک کیا ؟ نواز شریف نے دن رات ایک کر کے لوڈشیڈنگ کو ختم کر انے کےلئے کر دار ادا کیا ،اگلے سال لوڈشیڈنگ اس ملک سے رخصت ہو جائیگی ۔نواز شریف نے پاکستان کی اکانومی کو آگے بڑھایا ، ترقی کی رفتار تیز کی۔ انہوںنے کہاکہ اگر یہی سپیڈ رہتی اور نواز شریف کو نہ نکالا جاتا تو اگلے دو تین سالوں میں اس ملک میں کوئی شخص بے ر وز گار نہ رہتا لیکن انہوںنے کام نہیں کر نے دیا ، جتنی تیزی سے نواز شریف ملک کو ترقی کی طرف لیے کر جارہا تھا اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ مجھے باہر نکالا گیاہے ۔انہوںنے کہاکہ کیوں نواز شریف کو نکالا گیا ؟ مجھے بتایا جائے نوازشریف نے کونسی کرپشن کی ہے ؟ نوا زشریف پر کرپشن کا کوئی دھبہ اور داغ نہیں ، نواز شریف نے قومی خزانے کی امانت کو امانت سمجھا خیانت نہیں کی ،یہ وہ جج صاحبان بھی کہہ رہے ہیں جنہوںنے مجھے نکالا ہے کہ نواز شریف نے کرپشن نہیں کی ۔انہوںنے کہاکہ قوم پوچھتی ہے نواز شریف کو پھر کیوں نکالا گیا ؟ اس لئے نکالا گیا کہ نواز شریف نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی ،کوئی باپ بیٹے سے تنخواہ لیتا ہے ؟ کیا آپ کو اس سے اتفاق کیا ہے ؟ جس پر جلسے شرکاءنے نہیں کا جواب دیا ۔انہوںنے کہاکہ آپ کے ووٹ کو پاﺅں تلے روندا گیا ، آپ کے ووٹ کی پرچی کو پھاڑ دیا گیا ،یہ آپ کے ووٹ کا احترام ہے ، آپ کے ووٹ کا کوئی احترام نہیں کیا گیا ، آپ کے ووٹ کی کوئی وقعت نہیں ہے ، آپ کا ووٹ بےکار گیا ۔نوازشریف نے کہاکہ کروڑوں عوام نے نوازشریف کو وزیر اعظم منتخب کیا ،پانچ لوگوں نے نواز شریف کو رسوا کر کے دفتر سے باہر نکال دیا ہے ، کیا یہ آپ کو منظور ہے ؟ کیا آپ کو واقعی یہ منظور ہے جس پر عوام نے جواب دیا نہیں ۔انہوںنے کہاکہ یہ سلسلہ کب تک چلے گا ،ستر سالوں سے یہی ہوتا آرہا ہے ۔نواز شریف نے کہاکہ میں یہ مذاق بر داشت نہیں کر سکتا ، کیا آپ بھی یہ مذاق بر داشت کر نے کو تیار ہیں ،آپ جس کو منتخب کر تے ہیں اس کو خدمت کا موقع بھی ملنا چاہیے تیسری مرتبہ مجھے ہٹایا گیا ہے انہوںنے کہاکہ پہلی بار صدر نے فارغ کر دیا ، دوسری مرتبہ پرویز مشرف نے حکومت توڑی ،آج عدالت کے ہاتھوں نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا ہے ،کیا آپ کو اس طرح کی تذلیل منظور ہے ، بتایا جائے کیا کر ناچاہیے ؟ کیا مجھے آرام سے گھر بیٹھ جانا چاہیے یا ظلم کا مقابلہ کر نا چاہیے ، ؟انہوںنے کہا کہ میرا ساتھ دو گے ، ایک معصوم آدمی جس پر کوئی کرپشن کا داغ یا دھبہ نہیں ہے اس کو اس طرح تذلیل کر کے نکال دینا قبول ہے ؟انہوںنے کہاکہ آپ کومیرا گھر بیٹھ جانا منظور نہیں ہے تو پھر میرا ساتھ دو گے ،سوچ کر نوازشریف سے وعدہ کر و ، کیا نواز شریف کا ساتھ دو گے ۔ جس پر شرکاءنے ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔نواز شریف نے کہاکہ اس ملک کو بدلنا ہوگا ، قوم کو بدلنا ہوگا ، یہ قوم پستیوں کی طرف چلی جائےگی اس قوم کی دنیا میں کوئی عزت نہیں ہوگی ،اگر ملک کے اندر یہ حال ہے تو باہر کا حال کیا ہوسکتا ہے وہ آپ جانتے ہیں ، ملک کو بدلنے کےلئے نوازشریف کا ساتھ دینا ہوگا ، تقدیر بدلنے کےلئے ساتھ دینا ہوگا ، توقع کرونگا کہ آپ ساتھ دوگے ،۔ انہوںنے کہاکہ آج پاکستان میں امن قائم ہورہاہے کراچی میں امن قائم ہورہا ہے ،ملک ترقی کی جانب چل رہا ہے ،ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ووٹ کے تقدس کا احترام ہوناچاہیے ،آپ کا ووٹ ہو اور پھر کوئی کان پکڑ کر باہر بھیج دے کیا منظور ہے ، یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس نہیں ہوسکتی ہے انشاءاللہ اس نظام کےخلاف اٹھ کھڑے ہونگے ،میرے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ساتھ دوگے ، میرے قدم سے قدم ملا کر ساتھ چلو گے ، آپ پاکستان کے تقدیر بدلو گے ،میں پورا ساتھ دونگا ، میرے پیغام کا انتظار کرو۔انہوںنے کہاکہ نوازشریف وزیر اعظم نہیں ہے تو کوئی فکر نہیں ہے ،پاکستان کی ترقی کا راستہ کوئی نہیں روک سکے گا ، میں جو آپ کو کہونگا وہ آپ کو کر نا پڑےگا ۔نوازشریف نے کہاکہ یہ بیس کروڑ عوام کی عزت کا معاملہ ہے انہوںنے کہاکہ میں نہیں کہہ رہا کہ آپ مجھے دوبارہ وزیر اعظم بنائیں ، حق حاکمیت آپ کا ہے ، یہ حق آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا اگر یہ جذبہ جوان ہے تو کوئی فکر کی بات نہیں ،نواز شریف انشاءاللہ آپ کے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ ہے ۔

Scroll To Top