سسٹم کو کوئی خطرہ نہیں صرف نواز شریف کی ذات کو خطرہ ہے، بلاول بھٹو

  • جب نواز شریف اقتدار میں ہوتے ہیں تو ان کو میثاق جمہوریت یاد نہیں رہتا، اگر رابطہ کرینگے تب بھی ان سے بات نہیں کریں گے ، چیئرمین پی پی پی

کوئٹہ: پاکستان پےپلزپارٹی کے چےئرمےن بلاول بھٹو زرداری مےڈےا سے گفتگو کرررہے ہیں

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی (ن) لیگ کے ساتھ نہیں بلکہ جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے۔ نواز شریف اگر رابطہ کریںگے تب بھی ان سے بات نہیں کروں گا۔ سسٹم کو کوئی خطر نہیں صرف نواز شریف کی ذات کو خطرہ ہے۔ عجیب بات ہے جب نواز شریف اقتدار میں ہوتے ہیں تو ان کو میثاق جمہوریت یاد نہیں رہتا۔ نواز شریف حکومتی وسائل استعمال کررہے ہیں اور حکومت میں رہ کر بھی اپوزیشن کا رول ادا کررہے ہیں۔ آئندہ الیکشن میں شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور میں دونوں الیکشن لڑیں گے۔ این اے 120 سے پیپلزپارٹی کے امیدوار فیصل میر ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے 1973 ءکے آئین میں تمام شہریوں کو برابر کے سیاسی سماجی اور معاشی حقوق دینے میں پیپلزپارٹی اقلیتوں کو برابر کا شہری سمجھتی ہے اور ان کے سیاسی سماجی اور معاشی حقوق کا دفاع کرتی ہے انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس نواز شریف کو ٹارگٹ کرنے کیلئے نہیں کیا گیا یہ ایک انٹرنیشنل ایشو تھا اور ان کو ریلی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا نواز شریف ہر تقریر میں عدالتوں کی توہین کررہا ہے ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے نواز شریف کی کہیں مدد نہیں کی بلکہ جمہوریت کی مددکی ہے نواز شریف کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں اور پیپلزپارٹی جمہوریت کے ساھ ہے نواز شریف کے ساتھ نہیں اگر انہوں نے رابطہ کیا تو ان سے نہ کوئی میٹنگ ہوگی اور نہ ہی ان کا فون سنا جائے گا۔ نواز شریف ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے نظریے کے پیچھے چھپنا چاہتے ہیں اگر لایکشن آج بھی ہوجائیں تو ہم تیار ہیں۔ پاامہ کیس بین الاقوامی ایشو تھا جسے پاکستان پیپلزپارٹی نے سب سے اٹھایا اور پانامہ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے کسی شخص کا نام نہیں ہے پیپلزپارتی نے عوامی رابطہ مہم شروع کردی ہے اور اپنا سیاسی رول ادا کرتی رہے گی انہوں نے کہا کہ کے پی کے احتساب بل کیا ہے کیا سندھ کو حق نہیں کہ اس کا بل سیاسی ہونا چاہیے امید کرتے ہیں کہ نیب سے زیادہ احتساب بول اگلی بار پھر زرداری کی ہے گزشتہ انتخابات میں صدر زرداری کو ایوان صدر میں بند کیا گیا اور انہوں نے الیکشن کمیشن نہیں کی‘ دہشت گردوں کی طرف سے ن لیگ ‘ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کو خطرہ نہیں تھا لیکن پیپلزپارٹی کے خلاف انہوں نے ایکشن لیا اور پیپلزپارٹی کو الیکشن مہم نہیں چلانے دی۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا ادارہ لوگوں کو بلیک میل کرتا ہے اور ریکوری میں اپنا حصہ رکھتا ہے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 62 ‘ 63 کے حوالے سے اسمبلی میں بل آتا ہے کہ اس کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

Scroll To Top