ن لیگ لاہور کے مسائل بھی حل نہ کرسکی

zaheer-babar-logoاین اے 120 کے ضمنی انتخاب میں کلثوم نواز کو الیکش لڑانا ظاہر کررہا کہ حکمران جماعت سیاسی طور پر کس قدر مشکلات کا شکار ہے۔خیال کیا جارہا تھا کہ اس سیاسی معرکہ میں شریف خاندان کے کسی فرد کو اترانے کی بجائے مسلم لیگ ن کا کوئی بھی نمائندہ کھڑا کردیتی مگر باجوہ ایسا نہ ہوا۔ پی ایم ایل این کی قیادت کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ آخر کیوں کم وبیش 35 سال سے قومی سیاست میں فعال رہنے والے ایک شہر کے باسیوں کو بھی خوش نہ رکھ سکی۔ یقینا صوبائی دارلحکومت کے باسیوں کی زندگی کسی طور پر پرسکون نہیں۔ پنجاب پاکستان کا سب سے زیادہ کثیر آبادی والا صوبہ ہے جس کی آبادی کروڑوں میں ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کے دیگر، ترقی یافتہ حصوں میں اتنی بڑی آبادی کے ملک ہوتے ہیں نہ کہ صوبے۔
ماہر سیاسیات کے مطابق کسی بھی ریاست کی آبادی اس قدر زیادہ نہیں ہونی چاہے کہ ریاست اپنی ضروریات کے لحاظ سے خود کفیل ہی نہ ہوسکے۔چنانچہ پانچ دریاوں کی سرزمین کی بڑھتی ہوئی بڑ ا مسئلہ بن چکی۔ پنجاب کے دو یا تین صوبے بنانا لازم ہوچکا مگر جب تک اقتدار حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے پاس ہے بظاہر مزید صوبوں کا قیام ممکن نہیں ۔ اہم یہ ہے کہ صوبائی اسمبلی مزید دو صوبوں کے قیام کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کرچکی ۔ مزید صوبے قائم نہ ہونے کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت تیزی سے سماجی مسائل کا شکار ہو رہا ۔۔حالات کی سنگینی کا اندازہ یوںلگایاجاسکتا ہے کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2014 میں پنجاب میں سب سے زیادہ جرائم لاہور میں ہوئے جبکہ پنجاب بھر کی مجموعی طور پر صوبے میں جرائم کی شرح میں پورے ایک سو دس اضافہ ہوا۔ سوال ہے کہ ساحلی شہر نہ ہونے کے باوجود لاہور میں بڑھتی ہوئی آبادی اور مسائل کی وجہ کیا ہے۔ جواب یہ ہے کہ لاہور بڑی آبادی والے صوبے کا واحد دارالحکومت ہے لہذا اگر پنجاب میں مزید انتظامی یونٹ قائم کیے جائیں تو نہ صرف صوبے کی خوشحالی و بہبود میں اضافہ ہوگا بلکہ لاہور کے مسائل خود بہ خود کم ہوجائیں گے۔ حکمران جماعت کی کوتاہ اندیشی کا انداہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ پنجاب حکومت مسلسل یہ تاثر دینے میں کوشاں ہے اگر ملک کے کسی شہر میں ترقی، امن اور خوشحالی قائم ہے تو وہ لاہور ہے چنانچہ صوبے کے دور دراز شہروں سے بھی روزگار کے لیے لاہور کا رخ کررہے ۔مسلم لیگ ن کے لیے یقینا لمحہ فکریہ ہونا چاہے کہ لاہور میں بنیادی ضروریات زندگی کا حصول مشکل ہوتا جارہا۔لاہور میں فی الوقت تو صاف اور میٹھا پانی دستیاب ہے مگر اس کی سطح تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ شہر کی آبادی کا بڑا حصہ، خاص طور پر گنجان علاقوں میں صاف پانی اور نکاسی آب کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔لاہور کی آبادی کروڑوں میں ہے لہٰذاہر روز بڑی تعداد میں اشیا خورد و نوش کی ضرورت پڑتی ہے۔ افسوس کے ساتھ طلب و رسد میں عدم توازن کی وجہ سے شہر میں ملاوٹ شدہ اور ناقص اشیا خوراک بھی ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو رہی ہیں۔ لاہور میں ہر روز 30 لاکھ لیٹر تازہ دودھ کی ضرورت ہے مگر شہری حکومت نے لاہور میں مویشی پالنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے لہذا تمام ڈیری فارمز شہر کے اردگرد قصبوں اور دیہاتوں میں واقع ہیں۔حالت یہ ہے کہ معیاری دودھ 100 سے 110 روپے فی لیٹر فروخت ہوتا ہے، لہذا کم آمدنی والے افراد جو آبادی کا بڑا حصہ ہیں، ناقص دودھ استعمال کرتے ہیں۔ناقص دودھ میں صرف پانی ہی نہیں بلکہ انتہائی مضرِ صحت اور جان لیوا مختلف کیمیکلز کی ملاوٹ بھی کی جاتی ہے۔ بظاہر ملاوٹ کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ چونکہ دودھ قریبی شہروں سے آتا ہے جو کہ گھنٹوں سفر کے بعد صارفین تک پہنچتا ہے، اس لیے دودھ کو خراب ہونے سے محفوظ رکھنے کے لیے کیمیکلز ملائے جاتے ہیں۔دوسری جانب بڑھتی ہوئی آبادی کے سبب ماضی میں لاہور کے ارد گرد جن زرعی زمینوں پر خوراک کاشت ہوتی ہے، ان پر رہائشی آبادیاں قائم ہوچکی ہیں، جس وجہ سے شہر میں سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجناس کے معیار میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ صوبائی دارالحکومت ہونے کے سبب لاہور میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹ سمیت تمام اہم عدالتیں بھی یہاں موجود ہیں جبکہ لاہور میں صوبے کا واحد معیاری بین الاقومی ہوائی اڈہ ہے۔جسے سالانہ کم وبیش 80 لاکھ افراد استعمال کرتے ہیں۔اکثر بین الاقوامی ایئر لائنز کی آمد اور روانگی صرف لاہور تک ہی محدود ہے۔ لہذا ان مسافروں کو مختلف سواریوں سے اپنے آبائی علاقوں میں جانا پڑتا ہے۔علاوہ ازیں بیورو کریسی کا مرکز سول سیکرٹریٹ، صوبے کے اعلیٰ اور معیاری تعلیمی ادارے، اہم ثقافتی و تجارتی مراکز کا بھی لاہور میں ہی واقع ہیں۔شہر میں کئی نجی اور سرکاری یونیورسٹیاں ہیں،اسی طرح میڈیکل کالجز اور دیگر روایتی اور پروفیشنل کالجز کی بڑی تعداد بھی لاہور ہی میں قائم ہے۔ تمام صوبے میں اعلیٰ صحت مراکز اور معیاری ہسپتالوں کی وجہ سے صوبے بھر کے مریض لاہور کا رخ کرتے ہیں۔ شہر میں اور اس کے چاروں اطراف بے شمار صنعتی زون قائم ہیں۔ جن میں لاکھوں افراد کام کرتے ہیں۔
صوبائی درالحکومت کے مسلسل بڑھتے ہوئے پچیدہ مسائل کئی دہائیوں سے برسراقتدار ن لیگ کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ بہت بہتر ہوتا کہ حکمران جماعت حلقہ این اے 120کے لیے کلثوم نواز کی شکل میں اہل لاہور کے سامنے خود کو مظلوم بنا کر پیش کرنے کی بجائے حقیقی معنوں میں اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ طلب کرتی۔

Scroll To Top