ایک قوم تحریک

  • ہماری ”ایک قوم تحریک “ کے مقاصد کی ترجمانی جس قدر مکمل طور پر ملک کے مایہ ناز ناول نگار نسیم حجازی مرحوم کی تصنیف ”خاک اور خون“ میں کی گئی ہے، اس قدر مکمل طور پر شاید کئی دہائیاں گزرنے کے بعد ہم آج نہ کرسکیں۔ خاک اور خون کو تحریک پاکستان کا ”آنکھوں دیکھا حال“ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس کے اختتامی باب ”اے قوم“ میں ناول کے ہیرو سلیم نے ان تمام خطرات کے بارے میں قوم کو آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی جن کا سامنا ہم نے اپنی گذشتہ دہائیوں میں کیا ہے۔
    وطن عزیز سے محبت کرنے والے کروڑوں اصحاب (اور خواتین) کے لیے یہ دستاویز مشعل ِ راہ کا درجہ رکھتی ہے۔

( غلام اکبر )


naseem-ejazi-logoaaaa

  • اے قوم 

سردیوں میں ہندوستانی فوج سامان رسد اور بارود کے ذخیرے جمع کر رہی تھی۔ نئے پل اور نئی سڑکیں تعمیر کر رہی تھی اور موسمِ بہا ر کے آغاز کے ساتھ ہی ہندوستان اپنی پوری طاقت کے ساتھ نیا حملہ کر چکا ہے۔ جونا گڑھ کو ہڑپ کرنے کے بعد اسے یقین ہو چکا ہے کہ امنِ عالم کے اجارہ دار ان فیصلوں کو رد نہیں کر سکتے جو طاقت کے بل بوتے پر منوائے جاتے ہیں۔
پاکستان کو بالآخر کشمیر کی جنگ میں کودنا پڑے گا۔ مجاہدین کشمیر تیاری کے لیے جو تھوڑا بہت موقع دے رہے ہیں، پاکستان کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی مظلومیت اور بے بسی کا ڈھنڈوراپیٹ کر یو -این-او کو کشمیر کے معاملہ میں عملی مداخلت پر مجبور کر دیں گے انہیں فلسطین سے سبق حاصل کرنا چاہیے….فلسطین میں امن عالم کے اجارہ داروں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کمزور اقوام کو ان سے عدل یا انصاف یا رحم کی اُمید نہیں رکھنی چاہیے…. عرب ممالک فلسطین پر یہود کی یلغار کے سامنے مضبوط محاذ نہ بنا سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سیکورٹی کونسل نے بھی تقسیم فلسطین کی حمایت کی….اینگلو امریکن بلاک کی یہود نوازی کے بعد دنیا کا خیال تھا کہ روس اس ناانصافی کی مخالفت کرے گا لیکن یہ پہلا فیصلہ تھا کہ جس پر کمیونسٹ اور سرمایہ دار دونوں متفق تھے۔ ایک اجنبی قوم کو مسلمانوں کے گھروں میں لا کر بٹھا دیا گیا۔
فلسطین کے مسلمانوں کا جرم یہ نہ تھا کہ ان کی منطق کمزور تھی، جرم یہ تھا کہ وہ اپنے گھر کی حفاظت نہ کر سکے۔ ان کے پاس وہ تلوار نہ تھی جو غیر منصفانہ فیصلے کو رد کر سکتی۔
حالات اب پاکستان کو مفروضات کی دنیا میں رہنے کی اجازت نہیں دیتے۔ کشمیر پر ہندوستان کے نئے حملے کی شدت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اسے بھی جونا گڑھ کی طرح ایک فیصلہ شدہ امر بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے….اور تلوار کا فیصلہ منطق سے نہیں ، صرف تلوار سے ردّ کیا جاسکتا ہے…. مجاہدین نے اپنی بے سرو سامانی کے باوجود جس عزم و استقلال کا ثبوت دیا ہے، اس کی مثالیں تاریخ میں بہت ہی کم ملتی ہیں۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کشمیر کی جنگ پاکستان کی جنگ ہے۔ یہ صرف کشمیر کے پینتیس لاکھ مسلمانوں کا نہیں بلکہ پوری قوم کی بقاءکا مسئلہ ہے۔ یہ ہندوستان کے برصغیر میں کفر اور اسلام کا آخری معرکہ ہے۔ اس اجتماعی جنگ کی ذمہ داری صرف کشمیر کے مٹھی بھر بے سرو سامان مجاہدین پر نہیں ڈالی جا سکتی ۔ ہمیں مجاہدوں کے بازو شل ہوجانے اور ان کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ تک بہہ جانے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ آزاد کشمیر کی رائفلیںایک لا متناعی عرصہ تک دشمن کے ٹینکوں اور طیاروں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں…. کشمیر پاکستان کی بیرونی فصیل ہے، اگر دشمن کی یلغار کو وہاں نہ روکا گیا تو وہ کشمیر کو ختم کرنے کے بعد پاکستان پر حملہ کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔
ہندوستان نے دہلی اور مشرقی پنجاب کے لاکھوں مسلمانوں کو ملک بدر کیا تو وہ مغربی پاکستان آگئے۔ بہار اور مغربی بنگال کے مسلمان مشرقی پاکستان میں پناہ لے رہے ہیں۔ ہندوستان نے جونا گڑھ پر چڑھائی کی تو وہاں سے مسلمانوں کے قافلے کراچی اور سندھ پہنچنے لگے۔ کشمیر میں ہندوستانی فوج داخل ہوئی تو کشمیر ی مہاجرین کے لیے مغربی پنجاب اور صوبہ سرحد میں کیمپ کھل گئے….پاکستان مہاجرین کی جائے پناہ ہے، پاکستان انصار کا قلعہ ہے۔ پاکستان وہ ساحل ہے جہاں ہم خون کے دریا عبور کرنے کے بعد پہنچے ہیں۔ پاکستان وہ منزل ہے جس کے راستوں کی کھائیاں ہم نے اپنی لاشوں سے پاٹی ہیں…. پاکستان وہ درخت ہے جسے ہم نے اپنی خون اور آنسوو¿ں سے سینچا ہے….پاکستان وہ چار دیواری ہے جس کے اندر قوم کی منتشر قوتیں جمع ہو رہی ہیں اور پاکستان کے انصار و مہاجرین کے لیے یہ سوچنے کے لیے بہت تھوڑا وقت ہے کہ اگر وہ کفر کے سیلاب کو اس چار دیواری سے دور نہ رکھ سکے تو اس کا انجام کیا ہوگا۔

Scroll To Top