ریاست کے خلاف ایک خائن اور کذاب کا اعلانِ بغاوت

aaj-ki-bat-logoایک بدبخت خائن اور کذاب خلق ِ خدا کو ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف علم ِ بغاوت بلند کرنے پر اکسانے کی مہم پر نکلا ہے۔ آنحضرت کا ارشاد ہے کہ اپنی امت میں مجھے سب سے زیادہ خطرہ اس شخص سے ہے جو بددیانت اور جھوٹا ہو اور اپنی بددیانتی اور جھوٹ کا زہر معاشرے میں پھیلاتا ہو۔۔۔ عبداللہ ابن ابی کی پہچان یہی تھی۔ وہ کلمہ گو تھا مگر اس کے اندر آنحضرت ﷺ کے خلاف حسد اور کینہ بھرا ہوا تھا ۔ امت ِ محمدی ﷺ کی صفوں میں منافقین کی سب سے پہلی منظم جماعت اسی بدبخت نے قائم کی۔۔۔
آپ کو یاد رکھنا چاہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خلافت سنبھالتے ہی سب سے پہلا قدم کیا اٹھایا تھا۔ انہوں نے امت ِ محمدی ﷺ کا شیرازہ بکھیرنے کی پہلی منظم کوشش کے سرغنوں مسلیمہ کذاب ` سجاہ اور طلحہ کے خلاف لشکر کشی کی تھی۔ ان بدبختوں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی امت کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش کی تھی۔۔۔
میاں نوازشریف بھی اہلِ پاکستان کو اپنی غلط بیانی اور ریاکاری سے گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔۔۔
اُن کا سب سے پہلا جھوٹ یہ ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کرپشن نہیں کی اور ان پر امارت دولت اور املاک کی بارش فضلِ ربی سے ہوتی رہی ہے۔ جس فضل ربی کی بات وہ کرتے ہیں وہ ملک کے اندر اور ملک سے باہر بھی ان پر ساون بھادوں کی طرح برستا رہا ہے۔۔۔
الزام ان پر یہ ہے کہ اس ”فضل ربی “ کے پیچھے حکومتی اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے پورے خاندان پر ہر جائز و ناجائز طریقے سے دولت سمیٹنے کے دروازے کھولنا ہے۔ مرکز میں پہلی بار وہ 1991ءکے اوائل میں برسراقتدار آئے۔ فوراً ہی ” ییلو کیب“ اور ” موٹر وے “ منصوبوں کا شور و غوغا ہوا اور میاں نوازشریف کی نابالغ اولاد لندن میں نہایت قیمتی املاک کی مالک بن گئی۔ یہ وہ پانا ماکیس تھا جس کے بارے میں میاں صاحب اور ان کے نقار چیوں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف بہت بڑی سازش تھی۔ اس پاناما کیس کا تعلق میاں صاحب کے اقتدار کے ابتدائی ادوار سے ہی ہے۔ یہ معاملہ کئی ماہ تک عدالت میں رہا اور جن پانچ ججوں کو میاں صاحب جمہوریت کا دشمن قرار دے رہے ہیں ` انہوں نے کمال فیاضی سے بار بار میاں صاحب کو موقع دیا کہ قوم کے سامنے لندن کے فلیٹوں کی ملکیت کے بارے میں ایسے دستاویز ی ثبوت سامنے لے آئیں جن کے بعد ان پر عائد ہونے والے تمام الزامات غلط قرار پائیں۔ جھوٹ ایک ایسی چیز ہے جس کا دفاع کرنے کے لئے بے شمار جھوٹ بولے جاتے ہیں۔ اور ہر جھوٹ دوسرے جھوٹ سے متصادم ہوتا ہے۔ میاں صاحب کی بدقسمتی یہ ہوئی کہ ہر جھوٹ خواہ انہوں نے خود بولا۔۔۔ یا ان کی صاحبزادی نے۔۔۔ یا ان کے صاحبزادوں نے۔۔۔ ریکارڈ ہوگیا۔مقدمہ روزانہ کی بنیاد پر کئی ماہ تک چلا۔ آخر میں 20اپریل2017ءکو ایک تاریخی فیصلہ سامنے آیا۔ پانچ ججوں پر مشتمل بنچ کے دو سینئر ججوں نے فیصلہ دیا کہ میاں صاحب نے جھوٹ بولا ہے اور یہ جھوٹ انہو ں نے اپنی بددیانتیوں اور غلط کاریوں کو چھپانے کے لئے بولا ہے۔ چنانچہ وہ صادق اور امین نہیں رہے اور وزیراعظم کے عہدے پر قائم نہیں رہ سکتے ۔ دوسرے تین ججوں نے یہ فیصلہ دیا کہ حتمی فیصلے سے پہلے میاں صاحب کو ایک اور موقع دیا جانا چاہئے کہ وہ اپنے دعوﺅں کی سچائی ثابت کرنے کے لئے کوئی دستاویزی ثبوت پیش کرسکیں۔ چنانچہ جے آئی ٹی بنی جس کا خود میاں صاحب نے خیر مقدم کیا۔ اس جے آئی ٹی نے تمام ملزموں یعنی میاں خاندان کے تمام افراد کو پور ا پورا موقع دیاکہ اپنی صفائی میں کوئی ٹھوس ثبوت سامنے لاسکیں۔ لیکن ہوا یہ کہ بدنام زمانہ قطری خط کا خالق شہزادہ بھی بھاگ گیا۔ پھر ایسے دستاویزی ثبوت سامنے آئے جن سے یہ انکشاف ہوا کہ میاں صاحب کی صاحبزادی نے جعل سازی کی اور خود میاں صاحب نے اقامہ حاصل کرکے دوبئی میں اپنے ہی ایک صاحبزادے کی قائم کردہ ایک کمپنی میں دس ہزار درہم ماہانہ پر ملازمت کی۔ انہوں نے ملازمت حاصل کرنے کا تو اقرار کرلیا مگر تنخواہ کے بار ے میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ انہوں نے کبھی وصول ہی نہیں کی۔ اب وہ ساری دنیا کو یہ بتا رہے ہیں کہ تنخواہ وصول نہ کرنا ان کا جرم قرار پایا ہے اور وہ اسی جرم کی پاداش میں وزارت عظمیٰ سے محروم کئے گئے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جن مقاصد کے لئے انہوں نے اقامہ حاصل کیا `اپنے صاحبزادے کے ذریعے وہ کمپنی بنوائی اور اس میں پہلے مارکیٹنگ منیجر کی حیثیت سے اور پھر چیئرمین کے طور پر ملازمت کی ` وہ مذموم مقاصد ہی ان کا جرم تھے۔
میاں صاحب جانتے ہیں کہ ان کا ہر جرم بے نقاب ہونے والا ہے۔ کاش کہ وہ ان ہی جرائم پر اکتفا کرلیتے جن کی پاداش میں ان سے وزارت عظمیٰ چھینی گئی ہے ۔ اب وہ ایک ایسا جرم کررہے ہیں جو انہیں زیادہ خطرناک انجام سے ہمکنار کراسکتا ہے۔ وہ خلق ِ خدا کو ریاست کے خلاف بغاوت پر ابھار رہے ہیں۔
انہوں نے ججوں کے خلاف کتنا بڑا جھوٹ بولا ہے کہ انہوں نے بیک جنشِ قلم ووٹ کی حرمت پامال کرڈالی۔۔۔!
عوام نے 2013ءمیں مسلم لیگ (ن)کے حق میں جو مینڈیٹ دیا تھا وہ بدستور قائم ہے۔ وزیراعظم آج بھی مسلم لیگ (ن)کا ہے۔۔۔
ہوا صرف یہ ہے کہ ایک خائن اور کذاب پراقتدار کے دروازے بندہو گئے ہیں۔۔۔

Scroll To Top