جنرلز نے ووٹ کی حرمت کو پامال کیا: ججوں نے بھی بیک جنبش قلم عوامی مینڈیٹ کی دھجیاں بکھیر دیں، نواز شریف

  • کبھی ڈکٹیٹر، تو کبھی جج آکرآپ کے ووٹ کی پرچی پھاڑ کر ہاتھ میں دے دیتا ہے ،ا وسطاً ڈیڑھ سال میں ہر وزیراعظم گھر چلا جاتا ہے، ڈکٹیٹرز آئین توڑتے ہیں اور پھر 10،10 سال حکومت کرتے ہیں، کوئی ایسی عدالت ہے جو آمروں کا احتساب کرے
  • میری نا اہلی 20کروڑ عوام کی نا اہلی ہے ، عوامی مینڈیٹ کی توہین بر داشت نہیں ، آپ کی نا اہلی کا مقدمہ لے کر نکلا ہوں ،ا س کھیل تماشے کو ہمیشہ کےلئے ختم کرینگے،میرا ایجنڈا آئین اور قانون کی بالادستی ہے، نواز شریف کا گوجر خان ،سوہاوہ اورجہلم میں خطاب
جہلم، نااہل وزیر اعظم نواز شریف کارکنوں سے خطاب کر رہے ہیں

جہلم، نااہل وزیر اعظم نواز شریف کارکنوں سے خطاب کر رہے ہیں

گوجر خان /سوہاوہ/جہلم (این این آئی)سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی نا اہلی 20کروڑ عوام کی نا اہلی ہے ، عوامی مینڈیٹ کی توہین بر داشت نہیں کر سکتے ،میں آپ کی نا اہلی کا مقدمہ لے کر نکلا ہوں ،ا س کھیل تماشے کو ہمیشہ کےلئے ختم کرینگے ۔ جمعرات کو پنجاب ہاﺅس راولپنڈی سے لاہور راونگی کے دوران پاکستان مسلم لیگ(ن)کے رہنماوں کی بڑی تعداد ان کے ہمراہ تھی جن میں طارق فضل چوہدری، دانیال عزیز، وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر،وزیر مملکت عابد شیر علی، مئیر راولپنڈی سردار نسیم خان،رکن قومی اسمبلی ملک ابرار احمد،سنیٹر چوہدری تنویر،طلال چوہدری،حنیف عباسی،راجہ حنیف ،ضیاءاللہ شاہ، راحت قدوسی،ملک افتخار احمد، سابق ایم این اے ملک شکیل اعوان،چوہدری دانیال تنویر اورپی ایم ایل این کی مقامی قیادت اور سینکڑوں کارکن سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے قافلے کے ساتھ روانہ ہوئے۔ریلی کے دوران راولپنڈی کچہری چوک پرجوش نعروں اور رقص سے کارکنوں نے جذبات کا اظہار کیا، نواز شریف نے ہاتھ ہلا ہلا کر کارکنوں کی محبت کا جواب دیا۔عابد شیر علی،دانیال تنویر ملک ابرار،طارق فضل چوہدری اور طلال چوہدری اپنی گاڑیوں کی چھتوں پر چڑھ کر کارکنوں کا جذبہ بڑھاتے رہے۔مسلم لیگ (ن) کی ریلی کے لیے خصوصی طور پر تیار کی گئی گاڑی میاں نوازشریف کے قافلے کے ساتھ رہی جس میں اسپیکرز اور ساو¿نڈ سسٹم لگایا گیا ،میاں نوازشریف کی ریلی کے لیے راولپنڈی پنجاب ہاوس،مریڑ چوک اور کچہری چوک کے گردونواح میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے، پولیس کمانڈوز سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار میاں محمد نواز شریف کی گاڑی کے اطراف تعینات کیے گئے تھے اور کارکنان کو گاڑی کے قریب آنے سے روکا جارہاتھا۔ جی ٹی روڈ کے راستے میں آنے والے شہروں اور قصبات میں سابق وزیرا عظم کے استقبال کے لئے استقبالیہ کیمپ لگائے گئے ،جہاں پارٹی کارکنانوں نے پرجوش انداز میں اپنے قائد کا استقبال کیا، بھنگڑے ڈالے گئے، جگہ جگہ استقبالیہ بینرز اور پوسٹرز آویزاں کئے گئے۔ گوجر خان میں کارکنوں سے مختصر خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہاکہ عوامی مینڈیٹ کی توہین برداشت نہیں کر سکتا انہوںنے کہاکہ میرا ایجنڈا آئین اور قانون کی بالادستی ہے ۔انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ کیا آپ میرے اس ایجنڈے پر ساتھ دیں گے ،میری جدوجہد عوام کےلئے ہے۔سوہاوہ میں خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ووٹ دےکر مجھے وزیر اعظم بنا یا ،معزز جج صاحبان نے گھر بھجوا دیا ،کیا آپ کو یہ فیصلہ منظور ہے ۔انہوںنے کہاکہ میرے پر کرپشن ،کمیشن یا کک بیک کا کوئی الزام نہیں ہے ،میں آپ کی نا اہلی کا مقدمہ لے کر نکلا ہوں،وزیر اعظم کو نا اہل کرنے کا مطلب عوام کو نا اہل کرنا ہے نواز شریف نے کہا کہ جب کرپشن کا کوئی کیس نہیں تو نا اہل کیوں قرار دیا گیا ؟،یہ وزیر اعظم کی نہیں عوام کی توہین ہے اور یہ توہین 70سالوں سے چلی آرہی ہے ،میں آپ کو دعوت دوں گا ،کیا آپ میرا ساتھ دیں گے؟، یقین ہے سوہاوہ کے عوام میرا ساتھ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ کیا مجھے ملک کی خدمت کا انعام دیا گیا ہے یا سزا ،اس کھیل تماشے کو ہمیشہ کےلئے ختم کریں گے اور اس روایت کو بدلیں گے ۔بعد ازاں دینہ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انشاءاللہ اس ملک اور عوام کی تقدیر بدلیں گے ، نواز شریف نے عوام سے سوال کیا کہ آپ زور سے بتائیں کہ میرا ساتھ دوگے جس پر لوگوں نے ہاں کا جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ ستر سال سے قوم کی توہین کی جاتی رہی ہے اور اب ہم اس کھیل کو ہمیشہ کیلئے بدلیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی نا اہلی نہیں آپ کی نااہلی کا مقدمہ لیکر نکلا ہوں،آپ نواز شریف کا ساتھ دیں، نواز شریف آپ کا ساتھ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ میرے خلاف لوٹ مار کاکوئی کیس نہیں ہے میرے خلاف کک بیک اور کرپشن کا کوئی کیس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے مجھے ووٹ دیکر منتخب کیا اور پانچ معزز ججوں نے مجھے گھر بھجوا دیا کیا یہ منظور ہے؟ جس پر عوام نے نامنظور کے نعرے لگائے۔ انہوں نے کہا کہ آج بجلی اور گیس آرہی ہے ، بیروزگاری ختم ہو رہی ہے موٹروے بن رہے ہیں ، آج لوگوں کو روزگار مل رہا ہے، غربت اورجہالت دور ہو رہی ہے اس موقع پر انہوں نے سوال کیا کہ آپ بتائیں کہ 2013ءکے مقابلے میں حالات بہتر ہوئے ہیں یا نہیں ۔جہلم میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہاکہ میرے پاس آپ کا شکریہ ادا کرنے کےلئے الفاظ نہیں ہیں انہوںنے کہاکہ 2013 میں آپ کے پاس آیا تھا اور آپ سے کہا تھا ملک بڑی مشکل میں ہے ،معیشت تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے ، ملک اندھیروں میں ڈوب چکا تھا، مزدور طبقہ پریشان تھا لیکن میں نے وعدہ کیا تھا کہ اس ملک سے اندھیروں کو ختم کردوں گا اور روشنیوں کو واپس لے کر آو¿ں گا اور آج روشنیاں واپس آچکی ہیں، لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے جو اگلے سال مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔نوازشریف نے کہاکہ پاکستان ترقی کی راہ پر چل رہا تھا، ملک میں امن قائم ہورہا تھا، ورنہ کراچی برباد ہورہا تھا، بلوچستان بھی خدانخواستہ ڈوب رہا تھا لیکن ہم نے ان سب مسائل کو سنبھالا اور ملک میں موٹرویز کا ایک جال بچھایا جبکہ دیانت داری کے ساتھ ملک کی امانت کو امانت سمجھا اس میں کبھی خیانت نہیں کی لیکن پتہ نہیں پھر بھی مجھے کیوں نکالا حالانکہ مجھ پر کسی قسم کا کرپشن کا دھبہ نہیں ہے ،مجھے صرف اس لیے نکالا کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہورہا تھا، سی پیک کا منصوبہ آگیا تھا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر پاکستان کی ترقی کا یہ سفر جاری رہتا تو ایک ایک بے روزگار نوجوان کو روزگار مل جاتا ،خدا جانتا ہے مجھے اپنی فکر نہیں بلکہ اس قوم کے نوجوانوں کے مستقل کی فکر ہے جوروشن ہونے جارہا تھا لیکن میں ان سے کہتا ہوں کہ مایوس نہ ہونا، خدا تمہارے ساتھ ہے اور اس قوم کا مستقبل تاریک نہیں ہوگا۔سابق وزیراعظم نے کہاکہ آئین کو ڈکٹیٹرتوڑتے ہیں اور پھر 10،10 سال حکومت کرتے ہیں، کیا اس ملک میں کوئی ایسی عدالت ہے جو آمروں کا احتساب کرے جو کمر کی تکلیف کا بہانہ کرکے ملک سے بھاگ جاتے ہیں لیکن کبھی ڈکٹیٹر، تو کبھی جج آکرآپ کے ووٹ کی پرچی پھاڑ کر ہاتھ میں دے دیتا ہے اور اوسطاً ڈیڑھ سال میں ہر وزیراعظم گھر چلا جاتا ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ منتخب وزیراعظم کو ایک منٹ میں پانچ معزز ججوں نے فارغ کردیا ، ججز کے قلم کی جنبش سے عوام کے وزیر اعظم کو چلتا کردیا گیا ،کیا یہ توہین عوام کو برداشت ہے ، ججوں نے بھی کہا کہ نواز شریف نے کرپشن نہیں کی ،آپ کو پوچھنا چاہیے جب نواز شریف نے کرپشن نہیں کی تو انہیں منصب سے کیوں ہٹایا؟ سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھے کہتے ہیں نواز شریف نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ کیوں نہیں لی اور اسی وجہ سے مجھے نکالا گیا ،بھلا بیٹے سے بھی کوئی تنخواہ لیتا ہے، اگر نہیں لی تو آپ کو کیا ہے؟ڈاکٹر طاہرالقادری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نواز شریف نے کہاکہ دھرنے والے میدان میں آگئے اور مولوی کینیڈا سے آگئے، مولوی صاحب کو ہر تین ماہ بعد پاکستان کا درد جاگتا ہے ، مولوی صاحب برطانیہ میں رہتے ہیں اور وہیں کا پاسپورٹ بھی رکھتے ہیں۔سابق وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ یہ وہی نواز شریف ہے جس نے ایٹمی دھماکے کے بٹن پر اپنا انگوٹھا رکھا تھا ، میں اپنی بحالی کےلئے نہیں ملک کے مستقبل کےلئے یہاں آیا ہوں ،نواز شریف کو کوئی لالچ نہیں ، فکر ہے تو آپ کی، میرے ساتھ وعدہ کرو کہ اس ملک کو بدلنے کےلئے نواز شریف کا ساتھ دو گے۔

Scroll To Top