ایک قوم تحریک

  • ہماری ”ایک قوم تحریک “ کے مقاصد کی ترجمانی جس قدر مکمل طور پر ملک کے مایہ ناز ناول نگار نسیم حجازی مرحوم کی تصنیف ”خاک اور خون“ میں کی گئی ہے، اس قدر مکمل طور پر شاید کئی دہائیاں گزرنے کے بعد ہم آج نہ کرسکیں۔ خاک اور خون کو تحریک پاکستان کا ”آنکھوں دیکھا حال“ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس کے اختتامی باب ”اے قوم“ میں ناول کے ہیرو سلیم نے ان تمام خطرات کے بارے میں قوم کو آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی جن کا سامنا ہم نے اپنی گذشتہ دہائیوں میں کیا ہے۔
    وطن عزیز سے محبت کرنے والے کروڑوں اصحاب (اور خواتین) کے لیے یہ دستاویز مشعل ِ راہ کا درجہ رکھتی ہے۔

( غلام اکبر )


naseem-ejazi-logoaaaa

پٹیل، نہرو اور بلدیو ہر روز یہ اعلان کرتے تھے ۔ ”شاباش بہادرو! بھارت ماتا کو تم پر فخر پٹیل، نہرو اور بلدیو ہر روز یہ اعلان کرتے تھے ۔ ”شاباش بہادرو! بھارت ماتا کو تم پر فخر ہے“۔ لیکن بھارت ماتا کے قابل فخر بیٹے حیران تھے کہ ان کے سامنے نہتّوں کو کیوں نہیں ڈالا گیا۔ ہندوستانی حکومت پاکستان سے شکایت کر رہی تھی کہ اس نے قبائلی اور سرحدی رضاکاروں کو سرحد پر کیوں نہیں روکا۔ کوٹلی میر پور اور اکھنور میں ہندوستانی فوج کے دانت کھٹے ہو چکے تھے۔ اوڑی اور پونچھ کے محاذوں پر ہندوستانی فوج اپنی تعداد اور اسلحہ کی برتری کے باوجود مار کھا رہی تھی۔ مجاہدین کی بے سرو سامان فوج اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے اسلحہ چھین چکی تھی۔ اقبالؒ کی روح کشمیر کی وادیوں اور پہاڑیوں میں غازیوں کا خیر مقدم کر رہی تھی اور ہندوستان کے مہاجن بَہی کھاتے کھول کر اپنے نقصانات کا اندازہ لگا رہے تھے۔
سرحدی عقاب جموں سے صرف چند میل دور تھے کشمیر میں طار ق اور خالد پھر ایک بار اپنے اسلاف کی روایات زندہ کر رہے تھے۔ اب سنگینوں کے جواب میں احتجاج کی بجائے تلواریں تھیں۔ اب ہندوستان یو -این- او کے سامنے فریاد کر رہا تھا۔
جب پاکستان کہتا تھا کہ کشمیر کا معاملہ بین الاقوامی عدالت کو سونپ دیا جائے تو ہندوستان پاکستان کی آواز پر کان دھرنے کو تیار نہ تھا لیکن اب وہ سات سمندر پار جا کر یو-این – او کے سامنے فریاد کررہا تھا….بھیڑیے کو یہ شکایت تھی کہ اسے مشرقی پنجاب، دہلی اور جونا گڑھ کی طرح کشمیر میں بھی بھارت ماتا کی آزادی کاجشن منانے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی۔۔ بھیڑیوں کا نمائندہ امن عالم کے اجارہ داروں سے اپیل کر رہا تھا کہ تم پاکستان کو حکم دو کہ وہ آزاد کشمیر کی فوج کو ہماری شکار گاہ سے نکال دے۔ تم کشمیر کے پینتیس لاکھ مسلمانوں کو جکڑ کر ہمارے سامنے ڈال دو اور پھر ہمارے ہاتھ دیکھو۔
آج کشمیر کا مسئلہ سکیورٹی کونسل کے سامنے ہے۔ پاکستان کی وکالت اس کے بہترین دماغ کر رہے ہیں۔ ہندوستان دنیا کی رائے عامہ کے سامنے ننگا کھڑاہے۔ لیکن ہمیں غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے ، یو -این- او میں امن عالم کے اجارہ دار ہمارے ساتھ اسی صورت میں انصاف کریں گے کہ جب ہم میں بے انصافیوں کے خلاف لڑنے کی ہمت اور طاقت ہو گی۔ آج اگر یو -این-او میں ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی آواز بھی سنی جارہی ہے، تو ہمیں ان مجاہدین کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر دنیا کے سامنے کشمیر کے مسئلے کی اہمیت واضح کر دی ہے، جنہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہندوستان جو بین الاقوامی دھڑے بندیوں کے باعث جنوب مشرقی ایشیاءکے ممالک کی راہنمائی کا خواب دیکھ رہا تھا، کشمیر کی دلدل میں پھنس چکا ہے۔۔۔ لیکن ابھی کشمیر کی جنگ ختم نہیں ہوئی اور ہمیں اس خود فریبی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ ہندوستان نے کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے بین الاقوامی انجمن کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ ہندوستان نے مجبوری کی حالت میں فقط اپنا طریقِ کار بدلاہے۔ گذشتہ نقصانات کے بعد اسے کشمیر پر فیصلہ کن حملے کے لیے تیاری کی ضرورت تھی …. کشمیر کی برف باری اور سردی نے اس کے سپاہیوں کے حوصلے ٹھنڈے کر دیئے تھے۔

Scroll To Top