اہل پنجاب میاں نوازشریف سے مایوس ہوگے ؟

zaheer-babar-logoاپردیر میں کالعدم جماعتوں کے خلاف جاری آپریشن میںمیجر سمیت 4 سیکورٹی اہلکاروں کی شہادت اس حقیقت پر ایک مہر پھر مہر تصدیق ثبت کررہی کہ سابق وزیر اعظم کی ریلی سے کہیں بڑھ کر بڑے مسائل نے مملکت خداداد پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سیاسی قیادت کا المیہ یہ ہے کہ وہ قومی مسائل کا نہ صرف درست ادارک کرنے میں کامیاب نہیں ہورہی بلکہ حقیقی طور پر ان کو حل کرنے میں بھی دلچیسپی کا مظاہرہ نہیں کیا جاررہا۔حزب اقتدار اور حزب اختلاف نہیں سمجھ پارہیں کہ تیزی سے باشعور ہوتا شہری طبقہ اپنے لیے بنیادی ضروریات زندگی کا حصول چاہتا ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد سے لے کر اب تک پی پی پی اور پی ایم ایل این کی منتخب حکومتیں 9 سال سے زائد کا عرصہ گزار چکیں چنانچہ ملک کی دو نمایاں سیاسی قوتوں سے یہ سوال پوچھا جارہا کہ آخر اب تک کون کون سے مسائل حل کرنے میںکامیاب ہوئیں۔
یاد رہے کہ جمہوریت سے ”محبت “ کے جوش میں سیاست میں بدعنوانی کے پہلو کو نظر نہیں کیا جاسکتا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ وطن عزیز کے نمایاں سیاسی خاندانوں نے محض چند سالوں میں مالی طور ایسی ترقی کی جس کی ماضی میںمثال ڈھونڈنی مشکل ہے۔ سیاست میں پیسہ کا عمل دخل مرحوم ضیاءالحق کے دور میں شروع ہوا جب غیر جماعتی انتخابات کرواکر ”ترقیاتی فنڈز “کے نام پر نوازنے کا آغاز ہوا۔ کسی کو چاہے برا لگے مگر تاریخ یہی ہے کہ شریف خاندان بھی ان ہی دنوں قومی سیاست میں نمایاں ہوا۔ نااہل قرار دیے جانے والے میاں نوازشریف لاہور میں مقامی حکومتوں کے نظام کی زریعے ہی سامنے آئے جو بعدازاں پنجاب اسمبلی میں وزیر خزانہ کے منصب تک جا پہنچے ۔ مرحوم ضیاءالحق نے میاں نوازشریف کی بھرپور سیاسی سرپرستی کی جس کا نتیجہ مبینہ طور پر ان کے خاندانی کاروبار میں بے پناہ ترقی کی شکل میں ظاہر ہوا۔ کہنے کو شریف فیملی دہائی دیتی ہے زوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں صنعتوں کو قومیائے جانے کی پالیسی نے ان کو کاروباری اعتبار سے تباہ کردیا مگر اس دعوی کا ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔
اہل وطن کے سوچنے سمجھنے والے حلقوں کے لازم ہے کہ وہ قوم کی رہنمائی کرتے ہوئے ان عناصر کے بے اثر کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں جو سیاست کے لبادے میں اپنے مخصوص مفادات کی تکمیل کے لیے سرگرداں ہیں۔ مملکت خداداد پاکستان کی مشکل یہ ہے کہ کہنے کو یہاں جمہوریت ہے مگر سیاسی جماعتیں کسی طور پر خود کو مسلمہ جمہوری اصولوں کے مطابق ڈھالنے کو تیار نہیں۔ ملک کی بیشتر سیاسی ومذہبی قوتوں کے قائدین کروڈوں میں نہیں اربوں روپے میں کھیل رہے ۔ پوچھا جارہا کہ ایسے طبقہ سے بہتری کی امید کیونکر رکھی جائے جو صرف اور صرف اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کا اسیر ہے۔
وفاقی وزراءاسحاق ڈار اوراحسن اقبال اس حقیقت کا اعتراف کرچکے کہ ملک کی چالیس فیصد سے زائد آبادی خطہ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی یعنی کروڈوں پاکستانیوں کو دو وقت کا کھانا پیٹ بھر کر میسر نہیں۔ جمہوریت کا یہ پہلو تاریک تر ہے کہ وہ پسے ہوئے طبقہ کی داد رسی کرنے کو تیار نہیں۔شاہانہ مزاج کا حامل رائج نظام اپنے ان ووٹروں کی دار رسی کرنے میں تاحال کامیاب نہیںہورہا جو سسٹم کی ریڑھ کی ہڈی کی سی حثیثت رکھتے ہیں۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ آنے والے ماہ وسال میں وہ تمام سیاسی جماعتیں قصہ پارنیہ بن جائیں گی جو عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے ان کا جذباتی استحصال کرنے میں مشغول ہیں۔ اس ضمن میں نمایاںمثال پاکستان پیپلزپارٹی کی دی جاسکتی ہے جس نے اپنی قائدمحترمہ بے نظیر بھٹو کی ناگہانی موت کے بعد عوامی سیاست سے منہ موڈ لیا۔ پی پی پی کا سیاسی زوال ہر اس جماعت کے لیے باعث عبرت ہونا چاہے جو اپنی بنیادی زمہ داری سے پہلو تہی کی مرتکب ہورہی۔ٹھیک کہا جاتا ہے کہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ اس سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔ پاکستان مسلم لیگ ن دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں یہ دعوی کرکے اقتدار میں آئی کہ اس کے پاس ہر شبعہ کے تجربہ کار لوگ موجود ہیں۔ میاں نوازشریف بھی جلسے جلوسوں میں یہی کہتے رہے کہ وہ قومی مسائل سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ اس کے لیے ان کے پاس ٹیم میںموجود ہے۔ شائد پی ایم ایل این کی قیادت یہی سمجھتی رہی وہ گذشتہ تیس سالوں کی طرح اس بار بھی عوام کی قابل زکر تعداد کو بہلانے میں کامیاب رہے مگر باجوہ ایسا نہ ہوا۔
سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیے جانے والے میاںنوازشریف اپنے دور اقتدار میں شائد کسی ایک مسلہ کو بھی منطقی انجام تک نہ پہنچا سکے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں چار سالوں میں فاٹا میں دہشت گردوںکے خلاف بھرپور کاروائی ہو یا کراچی آپریشن جنرل راحیل شریف ہر جگہ فیصلہ کن کردار ادا کرتے رہے۔ مسلم لیگ ن کے لیے مسائل کی فہرست تو خاصی طویل مگر وہ لوڈشیڈنگ جیسے نمایاں مسلہ کو بھی حل کرنے میںکامیاب نہ ہوسکی۔ریلی کی شکل میںلاہور جانے والے میاں نوازشریف کو ان کے عوام کی عدم دلچیسپی سے اندازہ ہوجانا چاہے کہ عام پاکستانی بالعموم اور اہل پنجاب بالخصوص ان سے مایوس ہیں۔ پی ایم ایل این کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ جے ٹی روڈ کی جماعت کہلانی والی پارٹی جے ٹی روڈ پر ہی عوام کی بڑی تعداد کو میاں نوازشریف کے استقبال کے لیے باہر نکالنے میںکامیاب نہ ہوسکی۔

Scroll To Top