بھارتی افواج کے کشمیریوں کےخلاف مظالم

  • زین العابدین

    h

مقبوضہ جموں و کشمیر مےں 2016کے دوران تحریکِ آزادی مےںآنےوالی تےزی اور اس مےں کشمیری نوجوانوں، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کی شرکت سے بھارت اور ووادی مےں اسکی کٹھ پتلی انتظامیہ شدید پرےشان اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ اسلئے جہاں اےک طرف وہ کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کررہی ہے وہیں تحریکِ آزادی کے رہنماو¿ں کو بھی نشانہ بنارہی ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو ہرساں کرنے کی غرض سے انہیں سکول کالجوں مےں زدوکوب اور تشدد کیا جارہا ہے اور آزادی کی تحریک کے متحرک کارکنوں سے بھارتی جےلےں بھری جارہی ہےں جہاں ان کےساتھ غےر انسانی سلوک کیا جارہا ہے۔مزید براں مقبوضہ وادی کے کالجوں، سکولوںاور ےونیورسٹیوں کو زبردستی بند کیا جارہا ہے جس سے تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہورہی ہےں۔
ہزاروں کی تعداد مےں اےسے کشمیری بھارتی جےلوں مےں اپنی زندگی کے شب و روز گزار رہے ہےں جنہوں نے اپنے پےدائشی حق اور آزادی کےلئے آواز اٹھائی۔ انکے خلاف کالے قوانین کی اےسی دفعات لگائی گئی ہے´ں جنکی وجہ سے انکی رہائی کئی دہائیوں تک ممکن نہیں ہوپاتی۔بھارت کی مختلف جےلوں مےں قےد کشمیری قےدیوں کی ھالتِ زار بھی ناگفتہ بہ ہے جن کےساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے۔ اسکی تازہ مثال مقبوضہ جموں کی کٹھوا جےل کے قےدیوں کی ہے جہاں جےل کے سٹاف نے وہاں زےرِ حراست کشمیری قےدیوں کو ان سے ملاقات کےلئے آنےوالوں اور خاندان کے دیگر افراد کے سامنے برہنہ کر کے شدید تشدد کا نشانہ بناےا۔ بھارت نے ان جےلوں کو ابو غرےب جےل کی طرز کے عقوبت خانوں مےں تبدیل کر دیا ہے۔ ان عقوبت خانوں کے قےدی یہ شکاےت بھی کرتے ہےں کہ انہیں ہفتوں تک اپنے گھر والوں اور رشتہ داروں سے ملنے نہیں دیا جاتا۔جےل مےںآنےوالے ملاقاتےوں سے توہین آمےز روےّہ رکھا جاتا ہے اور قےدیوں کو نہاےت غےر معےاری خوراک دی جاتی ہے جس سے انکی صحت مسلسل خراب ہورہی ہے۔قےدیوں کو پینے کے پانی کی بھی شدید قلت ہے۔ جہاں قےدیوں کی دوبےرکوں کے پاس پانی کا صرف اےک واٹر کولر ہوتا ہے اور بےرک بند ہونے کی صورت مےں قےدیوں کو پےنے کےلئے پانی تک نہیں دیا جاتا، انہیں صرف اےک گھنٹے کےلئے بےرک سے باہر لاےا جاتا ہے۔ جےل کے یہ قےدی بدترین ذہنی دباو¿ سے گزرتے ہےں۔ کشمیری قےدیوں کے خاندان کے دےگر افراد کو بھی ہراساں کرنے کےلئے مختلف حربے استعمال کئے جاتے ہےں۔جےل انتظامیہ ان قےدیوں سے سیاسی انتقام لے رہی ہے۔کشمیری قےدیوں کی اس بد حالی پر مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے مجرمانہ خاموشی اوربے حسی اختیار کررکھی ہے جو قابلِ مذمت ہے۔
کشمیری قےدیوں کی اسی حالتِ زار کے باعث آل پارٹیز حریت کانفرنس نے رےڈ کراس کی بےن الاقوامی کمےٹی اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری قےدیوں کی اس زبوں حالی کا سختی سے نوٹس لےں اوربھارتی جےلوں مےں ہونےوالی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کےلئے بھارت پر دباو¿ ڈالےں۔ مزید برآں بے گناہ کشمیری قےدیوں کو اس قےد سے رہائی دلانے کےلئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرےں۔ےہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ کشمیری قےدیوں کی اکثریت کےخلافAFSPAکے کالے قانون کے تحت جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے ہےں۔ اس قانون کے تحت بھارتی افواج اور پولیس کو یہ کھلی آزادی ہوتی ہے کہ وہ جس کو چاہےں محض شک کی بنیاد پر گرفتار کرلےں اور اسکی گرفتاری کا کہیں کوئی ریکارڈ بھی درج نہیں کیا جاتا۔
جب سے مودی حکومت نے عنانِ اقتدار سنبھالاہے مقبوضہ جموں و کشمیر مےں حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہےں۔ مودی حکومت نے اپنی قابض افواج اورپولیس کو کشمیریوں کو قتل کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ بھارتی قابض افواج نے اپنے ریاستی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جولائی 2017کے مہینے مےں 33کشمیریوں کو شہید کردیا جن مےں سے کئی کو جعلی پولیس مقابلے مےں موت کے گھاٹ اتار دیا گےا۔ بھارتی افواج اور پولیس کے ہاتھوں شہید ہونےوالے کشمیریوں کے ماتمی جلوسوں اور بھارت مخالف مظاہروں مےں بھی اسی فوجی طاقت کا استعمال کیا گےا اور پر امن احتجاج کرنےوالوں پر پےلٹ گن سے فائر کئے گئے اور ان پر آنسو گےس کے شےلز پھےنکے گئے۔ پچھلے اےک ماہ کے دوران 565 کشمیری شدید زخمی ہوئے جبکہ 450 افراد کو گرفتار کر لیا گےا جن مےں حریت قیادت اور کارکنوں کے ساتھ ساتھ نوجوان کشمیری طلباءشامل ہےں۔ بھارتی افواج نے24 کشمیری خواتین کےساتھ بدسلوکی کی۔اےک اندازے کےمطابق مقبوضہ وادی مےں کشمیریوں کے 77 گھروں اور عمارتوں کو نقصان پہنچاےا گےا ےا انہیں تباہ کر دیا گےا۔
بھارت نے کشمیر کی حریت قیادت کےخلاف بھی اپنی انتقامی کارروائیاں تیز کردی ہےں اوراس سلسلے مےں اس نے اپنی اےجنسی NIAکو متحرک کیا ہوا ہے جس نے اب تک سات حریت قائدین کےخلاف جعلی مقدمات قائم کر کے انہیںگرفتار کر لیا ہے جبکہ 30قائدین کو عدالت مےں حاضر ہونے کے سمن جاری کر دئےے ہےں۔ کشمیر کی حریت قیادت کی نظربندیوں اور گرفتاریوں کوتےز کیا جارہا ہے تاکہ انہیں آزادی کی سرگرمیوں مےں شرکت سے روکاجاسکے۔ بھارت کے ذرائع ابلاغ کا متعصبانہ رویہ بھی نہاےت قابلِ مذمت اور قابلِ اعتراض ہے جنہوں نے تمام اخلاقی حدود اور پےشہ وارانہ ذمہ داریوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بے بنیاد الزامات کے تحت کشمیری حریت قیادت کےخلاف اےک مسموم مہم شروع کررکھی ہے اور مسلسل انکی کردار کشی کی جارہی ہے۔
بھارت پچھلے ستر سالوں سے اپنی فوجی طاقت کے استعمال سے کشمیرپر تو قابض ہو گےا ہے مگر اسی فوج اور اسکے ظالمانہ ہتھکنڈوں کے باعث کشمیری بھارت کےخلاف صف آراءہےں۔ بھارت کے اس ناجائز قبضے اور اسکی قابض افواج کی وادی مےں موجودگی نے کشمیریوں کو بھارت کےخلاف اپنی آزادی کی تحریک کو جاری رکھنے کےلئے متحرک کیا ہوا ہے ۔ گزشتہ سات دہائیوں کی تاریخ سے بھارت کوکم از کم اس بات کا ادراک ہوجانا چاہیے کہ اگر کشمیری بھارت کےساتھ نہیںہےں تو وہ اپنی طاقت کے بل پر زیادہ دےر تک کشمیر کو بھی اپنے قبضہ مےں نہیں رکھ سکتا۔ کشمیری اپنے جائز حق کا مطالبہ کررہے ہےں ےعنی اقوامِ متحدہ کے زےرِ نگرانی استصوابِ رائے جس مےں انہیں اپنی قسمت کا خود فےصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے مگر بھارتی ہٹ دھرمی، عالمی قوانین اور سمجھوتوں سے مسلسل انکارکشمیر کے مسئلے کے حل نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ مقبوضہ وادی سے آنےوالی خبریں تو یہی عندیہ دے رہی ہےں کہ کشمیری اپنی آزادی کی تحریک کو اسکے منطقی انجام تک پہنچا کرہی دم لےں گے اور اس کےلئے وہ کسی بھی قربانی سے درےغ نہیں کرےں گے اور بھارت کا کوئی ظالمانہ حربہ اب انکا راستہ نہیں روک سکتا۔

Scroll To Top