بات انسانوں کے مٹھی میں سما جانے والے سمندر کی ۔۔۔

aaj-ki-bat-logoمنشی عرفان صدیقی نے کامیڈین آصف کرمانی کو یہ نہیں بتایا کہ جو ڈائیلاگ میں تمہیں لکھ کر دے رہا ہوں وہ تم نے کس وقت ادا کرنے ہیں۔۔۔ کامیڈمین کرمانی کو ” الفاظ“ اس قدر پرُ شکوہ اور ” متاثرکن“ لگے کہ انہوں نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائے بغیر آسمان کی طرف دیکھا اور اپنی قوت گویائی کا ایکسلریٹر دبا دیا۔۔۔

” کیمرے کی آنکھ اور چشم ِفلک نے کبھی روئے زمین پر انسانوں کا اتنا بڑا جم غفیر نہیں دیکھا ہوگا جتنا بڑا جم غفیر اپنے قائد میاں نوازشریف کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے امڈ آیا ہے۔۔۔“
عرفان صدیقی نے یہ الفاظ یقینا 8اگست کی رات کو لکھے ہوں گے ۔۔۔ 9اگست کی صبح کو ٹھیک ساڑھے دس بجے کا میڈین کرمانی نے ان کی ادائیگی کردی۔۔۔تب تک دور دور سڑکوں پر صرف سپاہی اور سادہ پوش اہلکار کھڑے نظر آرہے تھے اور ابھی حتمی طور پر طے نہیں پایا تھا کہ میا ں نوازشریف ” انسانوں کا سمندر “ اپنی معیت میں لے کر نکل پائیں گے بھی یا نہیں ` کیوں کہ عدالت نے ریلی روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کررکھا تھا۔۔۔
8اگست کی رات کو منشی عرفان صدیقی نے میاں صاحب کی وہ تقریر بھی لکھ ڈالی تھی جو اگلے روز پہلے پڑاﺅ پر انہوں نے کرنی تھی۔۔۔ اس تقریر کے ولولہ آفرین اور ایمان افروز الفاظ یہ تھے۔۔۔” عوام کے سمندر نے باہر نکل کر عدالت کا فیصلہ مسترد کردیاہے۔۔۔“
9اگست کو رات گئے جب میاں نوازشریف نے یہ الفاظ ادا کئے تو عوامی سمندر کی جو لہریں اٹھی بھی تھیں وہ واپس جاکر سوگئی تھیں۔۔۔“
” عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی ترکیب میں عرصہ ءدراز سے پڑھتا اور سنتا آرہا ہوں ۔۔۔ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ایک سمندر ایسا بھی ہوتا ہے جس کی شوٹنگ سٹوزیو کے اندر ہی ہو جایا کرتی ہے۔۔۔ مگر سچ مچ کا ایسا سمندر میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار 1965ءکے آخری ہفتوں میں مال روڈ لاہور پر دیکھا تھا۔۔۔ بھارت کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کے بعد چین کے صدر لیو شاﺅ چی اور وزیر خارجہ چن ژی پاکستان کے عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے لاہور کے ہوائی اڈے پر اتر ے تھے اور ان کا فقید المثال استقبال لاہور کے عوام نے کیا تھا۔۔۔ ایئرپورٹ سے گورنر ہاﺅس تک تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔۔۔ میں تب روزنامہ کوہستان کا ایگزیکٹو ایڈیٹر تھا اور انسانوں کے اُس سمندر کا حصہ بنا تھا۔۔۔
میرا خیال ہے کہ ” انسانوں کے سمندر “ کی ترکیب اخبار کی شہ سرخی میں پہلی بار تب میں نے ہی استعمال کی تھی۔۔۔
تقریباً ویسا ہی سمندر لاہور سٹیشن سے گورنر ہاﺅس تک میں نے 10اپریل 1966ءکو بھی دیکھا جب بھٹو استعفیٰ دے کر راولپنڈی سے بذریعہ ریل کراچی گئے تھے اور لاہور میں ایک رات کے لئے گورنر امیر آف کالا باغ کے مہمان بنے تھے۔۔۔ میری دعا ہے کہ انسانوں کا یہ سمندر میاں نوازشریف کو جلد ازجلد دھکیل کرلاہور پہنچا دے تاکہ جو کاروباری زندگی جی ٹی روڈ پر معطل ہوئی ہے وہ بحال ہوجائے۔۔۔

Scroll To Top