بھارت میں بدمست ہاتھی نے 15 افراد کو کچل ڈالا

gبدمست ہاتھی نے جھاڑ کھنڈ میں 11 جب کہ اس سے قبل ریاست بہار میں 4 افراد کو کچل کر مار ڈالا، سربراہ محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات : فوٹو: فائل

نئی دلی: بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ میں 11 جب کہ بہار میں 4 افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے والا بدمست ہاتھی تاحال خوف کی علامت بنا ہوا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست بہار میں 4 افراد کو پاؤں تلے کچل کر ہلاک کرنے والا ہاتھی اب ریاست جھاڑ کھنڈ میں داخل ہوکر خون کی ہولی کھیل رہا ہے اور اب تک مجموعی طور پر 15 افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہے۔

خوف کی علامت بننے والے ہاتھی سے متعلق ریاست جھاڑ کھنڈ کے محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کے سربراہ ایل آر سنگھ کا کہنا ہے کہ ریاست جھاڑکھنڈ میں ہر سال لگ بھگ 60 افراد کو ہاتھی اپنے پاؤں تلے روند کر مار دیتے ہیں اور موجودہ بدمست قاتل ہاتھی بھی ریاست جھاڑکھنڈ کے حدود میں داخل ہونے سے پہلے ریاست بہار میں 4 لوگوں کو ہلاک کرچکا ہےجب کہ مجموعی طور پر 15 افراد کو اپنے پاؤں کے نیچے کچل کر مار چکا ہے۔

ایل آرسنگھ نے بتایا کہ بدمست ہاتھی کے خوف سے عوام گھروں میں محسور ہوگئے ہیں تاہم ماہرین اور شکاریوں پر مشتمل ایک ٹیم بنادی گئی ہے جس نے تجویز دی ہے کہ ہاتھی کو گھیرے میں لے کر پکڑ لیا جائے گا یا پھر انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اسے ہلاک کردیا جائے گا لیکن یہ قدم آخری چارہ کار کے طور پر اٹھایا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں گزشتہ 3 سال کے دوران 11 سو افراد ہاتھیوں، شیر اور چیتوں کا نشانہ بن کرمارے جا چکے ہیں جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو نقصان پہنچانے والے ہاتھی اپنے گروہ سے بچھڑ جاتے ہیں اور وہ مٹر گشت کرتے ہوئے آبادیوں میں گھس کر لوگوں کو ہلاک کرنے لگتے ہیں۔

Scroll To Top