چند ہزار کی ریلی

zaheer-babar-logoسپریم کورٹ کے پانچ فاضل جج صاحبان کی جانب سے پانامہ لیکس کے مقدمہ میں متفقہ طور پر نااہل قرار دیے جانے کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف اسلام آباد سے لاہور کی جانب گامزن ہیں ۔ خیال کیا جارہا ہے کہ مسلم لیگ ن سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ریلی کو آگے بڑھا رہی تاکہ تاثر دیا جاسکے کہ میاں نوازشریف کے ساتھ اب بھی عوام کی قابل زکر تعداد موجود ہے۔ ادھر سابق راولپنڈی میں ریلی کے پیش نظر متعدد روٹس کو سیل کردیا گیا جبکہ ہوٹل، مالز اور دکانیں بند ہونے کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔جڑواں شہروں کی اہم سڑکوں پر ریلی کے باعث شہری متبادل راستے تلاش کرتے پریشان حال رہے۔ حکام کے مطابق میاں نوازشریف کی ریلی میں 5 سے 6 ہزار کے قریب لوگ جبکہ 700 سے 800 حکومتی اور نجی گاڑیاں قافلے میں شامل ہیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد میں واقعہ پنجاب ہاس کے عقبی دروازے سے صبح 11 بجے کے بعد روانہ ہوئے جس پر مرکزی دروازے پر انہیں رخصت کرنے کے لیے آنے والے کارکنوں نے مایوسی کا اظہار کیا۔روانگی سے قبل قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ 'شہباز شریف پنجاب کی جان اور پاکستان کی شان ہیں، انہوں نے پنجاب کو دیگر صوبوں کے لیے رول ماڈل بنایا'۔ایک سوال کے جواب میں میاں نوازشریف نے کہا کہ ' اسلام آباد سے لاہور ریلی پاور شو نہیں بلکہ مجھے اپنی سنچری مکمل کرنی ہے، میں کہیں نہیں جارہا'۔ادھر نواز شریف کے گاڑی میں سوار ہونے سے قبل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کو گلے لگا کر الوداع کہا۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی بھرپور کوشش کے باوجو د میاں نوازشریف کے لیے جند ہزار سے زیادہ بندے اکھٹے نہیں کیا جاسکے۔ افسوسناک حقیقت تو یہ ہے کہ حکمران جماعت کے تمام تر دعووں کے باوجود متاثر کن شو پیش نہیں کیا جاسکا جبکہ حکومتی وزراءپوری قوت سے اس ریلی کو کامیاب بنانے کا جتن کررہے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ کا احسن اقبال کا اس موقعہ پرکہنا تھا کہ 'سیاستدان عوام سے دور نہیں رہ سکتے، عوام ہر اسٹاپ پر نواز شریف کو روک کر ان کا خیر مقدم کررہے ہیں، میرے خیال میں قافلہ 2 سے 3 دن میں لاہور پہنچ جائے گا'۔ادھر وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے راولپنڈی کے کمیٹی چوک کا دورہ کیا اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔
اگرمگر اور چونکہ چنانچہ کے باوجود حکمران جماعت اس بنیادی سوال کو جواب دینے میں تاحال ناکام نظر آتی ہے کہ آخر اس احتجاجی ریلی کا مقصد کیا ہے۔ یہ بھی کہ یہ احتجاج کس کے خلاف کیا جارہا۔ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے بھی اپنے سماجی رابطے کے اکاونٹ میں نواز شریف کی ریلی کو ان کا بنیادی حق قرار دیا۔بعقول ان کے 'عوام سے رابطہ قائم رکھنا پر سیاسی جماعتوں کی پالیسی ہے، لوگوں کے اعتماد سے نواز شریف کو تحریک ملتی ہے'۔انہوں نے اپنے بھائی، لیڈر اور ریلی کے تمام شرکا کی حفاظت کی دعا بھی کی۔سابق وزیراعظم کی ریلی کے پیش نظر جی ٹی روڈ پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ ان کے لیے بلٹ پروف کنٹینر بھی تیار ہے۔ریلی کی حفاظت کے لیے پولیس کی بھاری نفری مختلف مقامات پر تعینات رہے گی۔ہنگامی صورتحال میں ریلی کے شرکا کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے محکمہ صحت پنجاب کا موبائل ہیلتھ یونٹ بھی خصوصی طور پر قائم کیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم موجود رہے گی۔ سیکیورٹی کی صورتحال یقینی بنانے کے لیے اس بات کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے ریلی کے شرکا کے علاوہ کوئی دوسری گاڑی قافلے کے قریب نہ جاسکے۔
ایک طرف تو سابق وزیر اعظم کی ریلی میں عوام کی قابل زکر تعداد دکھائی نہیں دی تو دوسری جانب سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی پوچھا جارہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے ایسی ریلیوںکا انعقاد کریں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیںکہ اگر وزیراعظم سمیت وفاقی وزراءمیاں نوازشریف کی ریلی میںپیش پیش ہونگے تو سرکاری انتظامیہ تعاون کرنے میںکیونکر پیش پیش نہیںہوگی۔ ادھر مسلم لیگ ن کی اس ریلی کے سبب جی ٹی روڈ پر سفر کرنے والے نئی مشکلات سے دوچار ہوچکے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ چلانے والے گاڈی مالکان نے اپنی گاڈیاں کھڑی کردی ہیں جبکہ دوسرے متبادل روٹ کے سبب مسافروں کے لیے مذید مسائل پیدا کررہے ہیں۔ حکومت پنجاب کی جانب سے 9 اگست سے لے کر 11 اگست تک کا متبادل ٹریفک پلان جاری کرنا بتا رہا کہ سابق وزیر اعظم کی ریلی کو تین دن سے زائد بھی لگ سکتے ہیں۔ سرکاری ٹریفک پلان میں ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرنے والوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جی ٹی روڈ سے اجتناب کرتے ہوئے سفر کے لیے موٹرووے کا استعمال کریں۔
سیاسی پنڈتوںکا خیال ہے کہ حکمران جماعت کی جانب سے نکالی جانے والی ریلی کسی لحاظ سے سودمند ثابت ہوتی نظر نہیں آتی۔ بادی النظر میں مسلم لیگ ن کے لیے اب یہ بھرم قائم رکھنامشکل ہوچکا کہ پنجاب سارے کا سارا نوازشریف کے ساتھ ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اس ریلی کا اثر این اے 120کے ضمنی انتخاب پر بھی پڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کا ووٹر بڑی حد تک بیزاز ہوسکتا ہے۔

۔

Scroll To Top