پی اے سی اجلاس:پٹرول ، ڈیزل 30 روپے فی لیٹر خرید کر 70سے 80 روپے لیٹر فروخت کرتے ہیں: حکومت کا اعتراف

  • وزارت پٹرولیم میں 1ارب 18 کروڑ روپے کی کرپشن کی تحقیقات کا حکم، اشتہارات کی تقسیم اور اربوں کے فنڈز کے اجراءکا ریکارڈ طلب

پٹرول ، ڈیزل 30 روپے فی لیٹر خرید کر 70سے 80 روپے لیٹر فروخت کیا جااسلام آباد (آن لائن) پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ ڈیزل اور پٹرول 30سے 35 روپے فی لیٹر خرید کر عوام کو 70 روپے سے 80 روپے فی لیٹر فروخت کیاجاتا ہے اجلاس میں وزارت پٹرولیم میں ایک ارب 18 کروڑ روپے کرپشن کا نیا سکینڈل بھی سامنے آگیا وزارت کے حکام نے ہالا آئل فیلڈ سے 11800 ملین روپے کا خام تیل بائیکو نامی ریفائنری کو فروخت کیا اور سات سال سے یہ رقوم وصول ہی نہیں کی جاسکیں ۔ پی اے سی نے وزارت اطلاعات ونشریات سے گزشتہ دس سالوں کے دوران میڈیا کو دیئے گئے اشتہارات کا مکمل ریکارڈ اورتفصیلات حاصل کرنے کیلئے سیکرٹری اطلاعات کو طلب کرلیا ہے جبکہ کرپٹ سرکاری افسران کا کڑااحتساب کرنے کیلئے پی اے سی کے قوانین میں ترمیم کرنے کابھی باضابطہ فیصلہ کرلیا گیا ہے وزارت خزانہ کو پی اے سی کی طرف سے بھیجے گئے 40 حکمناموں پر اسحاق ڈار نے ایک حکمنامہ پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جس کی اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے جبکہ محکمانہ کمیٹی میں نمٹائے گئے اربوں روپے مالیت کے آڈٹ اعتراضات کا ازسرنو جائزہ لینے کیلئے نئی کمیٹی بھی تشکیل دی جو اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کرے گی ۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس سید خورشید شاہ کی صدارت میں بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا اجلاس میں وزارت پٹرولیم اور وزارت خوراک و زراعت بارے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں سیکرٹری نیشنل فوڈ سکیورٹی نے انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی دور حکومت میں سیکرٹری نیشنل فوڈ سکیورٹی نے انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی دور حکومت میں آغاز حقوق بلوچستان منصوبے کے تحت جاری کئے گئے اربوں روپے کے فنڈز خرچ کئے جانے کے بغیر واپس کردیئے گئے تھے اجلاس میں پی اے سی کے اختیارات کاب ھی رونا رویا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ پی اے سی نے جو بھی ہدایات دی ہیں ان پرعملدرآمد ہی نہیں کیا جاتا بالخصوص وزارت خزانہ ان احکامات کو رد کردیتی ہے کسی کرپٹ شخص کا احتساب کرنے کیلئے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے سسٹم کو جدید خطو ط پر استوار کرنا ہوگا ایڈیٹر جنرل نے کہا کہ پی اے سی ہدایات دیتی ہیں ان پر عمل بروقت نہیں کرتی وزارت خزانہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی ہدایات پر نظام میں اصلاحات لائیں کیونکہ مالی معاملات بارے سسٹم اور سٹرکچر وزارت خزانہ میں بنتے ہیں تاہم وزارت خزانہ مالی قوانین میں ترمیم نہیں کرسکتی وزارت خزانہ کو چالیس حکمنامے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے بھیجے ہیں ان کی روشنی میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اور مالی معاملات میں بہتری نہیں لائی جاسکی پی اے سی کے وزارت خزانہ کے سیکرٹری کی عدم موجودگی کا نوٹس لیا اور موجودگی کو یقینی بنانے کا حکم دیا پی اے سی چیئرمین نے کہا کہ وزارت خزانہ ، ایڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مابین ایک مشترکہ اجلاس طلب کیا ہے اس میں مالی معاملات میں اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا جائے گا اعظم سواتی نے کہا کہ ملک کی وزارتوں میں اربوں روپے کی مالی بدعنوانیاں سامنے آئی ہیں ذمہ دار کرپٹ افراد کو کٹہرے میں لانا ہوگا ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ وزارت میں مالی بدعنوانیوں پر بروقت علاج کیاجاسکے ایسا نہ ہو کہ وزارت کے سیکرٹری کے مرنے کے بعد احتساب ہو یہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے ساتھ بھونڈا مذاق کیاجارہا ہے پی اے سی کے چیئرمین نے کہا کہ جب وزارت خزانہ فنڈز ریلیز کردے تو اس کا لیپس نہ ہونے کو ممکن بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں عارف علوی نے کہا کہ ملک میں فصلوں کے بیچ بارے میں شکایات عام ہیں اس کا نوٹس لیا جائے سیکرٹری خوراک نے کہا اکہ اس بارے ایک ادارہ جو غلط سیڈ پر ایکشن لیتا ہے نئے رولز بھی بن گئے ہیں اس پر عمل ہوگا تو حالات بہتر ہوجائینگے بلوچستان میں سیڈ سرٹیفکیشن کرنے کا کوئی ادارہ موجود ہی نہیں ہے اس حوالے سے اقدامات کریں گے بیج کی نئی وارائٹی بنانے پرکام ہورہا ہے پی اے سی چیئرمین نے کہا کہ ایک سال سے رولز نہ بنانا ظلم کی بات ہے دس ارب روپے کے اشتہارات چھاپ دیئے لیکن عملی کام کچھ نہیں ہوا وزارت نے ابھی تک رولز ہی نہیں بنائے یہ ظلم ہے انہوں نے کہا کہ وزارت ایک ماہ کے اندر رولز بنائے ورنہ سخت ایکشن لیں گے وزارت پٹرولیم نے عوام کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات بنانے کیلئے قومی خزانہ سے سات کروڑ بائیس خرچ کردیئے شفقت محمود نے اس کو کرپشن قرار دیا اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا یہ رقوم زرداری حکومت میں کرپشن کی نذر ہوئے تھے خورشید شاہ نے کہا کہ ملک میں کرپشن سکینڈل میں یہ سکینڈل ایک چھوٹا سے ٹکرا ہے اخبارات دیکھیں تو آج بھی اشتہارات سے بھرے ہوتے ہیں حکومتیں اشتہاری کمپنیوں کے ذریعے اخبارات میں سیاسی بیانات چھپوانے کے لئے سپیس خریدتی ہیں اشتہارات کی مد میں چھبیس ارب کی کرپشن ہے پی اے سی نے کرپشن کا غلط استعمال اور اشتہارات کی مد میں اخبارات کو ادائیگی بارے ادائیگیوں پر سیکرٹری اطلاعات کو طلب کرلیا اور گزشتہ دس سالوں میں اشتہارات کی مد میں فنڈز کے اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں پی اے سی چیئرمین نے کہا کہ اشتہارات کی مد میں جاری اربوں روپے کی کرپشن کو روکنے کے لئے کردارادا کرے گی پی اے سی نے اربوں روپے مالی بدعنوانیوں بارے نمٹائے گئے آڈٹ اعتراضات کا دوبارہ جائزہ لینے کیلئے سردار عاشق گوپانگ کی سربراہی میں سب کمیٹی تشکیل دے دی ہے یہ آڈت اعتراضات ڈی اے سی یعنی محکمانہ انکوائری کی روشنی میں نمٹائے گئے تھے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے بائیکو کمپنی کی طرف سے وزارت پٹرولیم کو ایک ارب اٹھارہ کروڑ روپے کی عدم ادائیگی کا سختی سے نوٹس لیا اور حکام کی عدم توجہی کے باعث مقدمہ عدالت میں موجود ہے یہ کیس نیب میں بھی زیر تفتیش ہے عدالت میں یہ مقدمہ انتہائی بنیادی سٹیج پر موجود ہے پی پی ایل کے سربراہ کو اس مقدمہ کے بارے میں علم بھی نہیں تھا ایم این اے شفقت محمود نے کہا کہ خام تیل ریفائنری کو دینے بارے کیا کوئی رولز موجود ہیں اس سلسلے میں قومی خزانہ سے اربوں روپے بدعنوانی کی نذر ہونے کا خدشہ بھی ہوتا ہے اگر وزارت پٹرولیم کی ریفائنری کو خام آئل دینے کا حکم دے تو پھر بھی طریقہ کار موجود ہونا چاہیے اس کرپشن اور مالی بدعنوانی کا ذمہ دار ڈائریکٹر جنرل آئل وزارت پٹرولیم ہوتا ہے ڈی جی آئل نے بتایا کہ خام آئل ریفائنری میں جاتا ہے پی اے سی میں انکشاف ہوا کہ خام آئل ریفائنری کو دینے بارے ملک میں قواعد وضوابط بھی موجود نہیں ہیں ڈی جی آئل نے کہا کہ یہ وزارت پٹرولیم کی صوابدید پر ہوتا ہے کہ کسی بھی ریفائنری کو الاٹ کردے ڈی جی آئل نے کہا کہ ریفائنری خام آئل کو تبدیل کرنے میں مشکل ہے پی اے سی نے بائیکو کمپنی کو ایک ارب اٹھارہ کروڑ کا خام آئل دیے کی اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا حکم دیا اس سکینڈل میں سرکاری افسران کا تعین کرنے کی ہدایت کردی ہے اعظم سواتی نے کہا کہ وزارت پٹرولیم کا بڑا سکینڈل ہے اس میں بڑے سرکاری افسران بھی ملوث ہیں پی اے سی کو بتایا کہ پی ایس او نے 253 ارب روپے کے بقایا جات موجود ہیں جو وصول کرنے میں کیپکو 63 ارب ادا کرنے ہیں حیسکو 68ارب دینے میں جبکہ واپڈا کے ذمہ 218 ارب روپے ادا کرنے ہیں پی ایس او حکام نے ساٹھ فیصد درآمد کرتے ہیں چالیس فیصد ملک کے اندر سے لیتے ہیں گزشتہ سال 131ارب منافع ہوا جی ایس ٹی کی مد میں 200 روپے قومی خزانہ میں جمع کرایا ہے ملک میں ایک ارب روپے سیل ہوتا ہے پٹرول 30سے 35 روپے فی لیٹر خریدتے ہیں جبکہ ستر روپے میں فروخت کرتے ہیں ڈیزل 35روپے فی لیٹر آتا ہے جبکہ فروخت اسی روپے میں فروخت کرتے ہیں پی ایس او حکام نے بتایا ہے کہ 253 ارب کے بقایا جات پاور کمپنیوں کے ذمہ ہیں ستمبر دو ہزار بارہ میں پی ایس او کے اقدام سے 610 ارب سرکلر ڈیٹ کی مد میں کلیم کرایا تھا

Scroll To Top