ایک قوم تحریک

  • ہماری ”ایک قوم تحریک “ کے مقاصد کی ترجمانی جس قدر مکمل طور پر ملک کے مایہ ناز ناول نگار نسیم حجازی مرحوم کی تصنیف ”خاک اور خون“ میں کی گئی ہے، اس قدر مکمل طور پر شاید کئی دہائیاں گزرنے کے بعد ہم آج نہ کرسکیں۔ خاک اور خون کو تحریک پاکستان کا ”آنکھوں دیکھا حال“ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس کے اختتامی باب ”اے قوم“ میں ناول کے ہیرو سلیم نے ان تمام خطرات کے بارے میں قوم کو آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی جن کا سامنا ہم نے اپنی گذشتہ دہائیوں میں کیا ہے۔
    وطن عزیز سے محبت کرنے والے کروڑوں اصحاب (اور خواتین) کے لیے یہ دستاویز مشعل ِ راہ کا درجہ رکھتی ہے۔ 

( غلام اکبر )

naseem-ejazi-logoaaaa

naseem-ejazi-logoaaaanaseem-ejazi-logoaaaa


اے قوم !

ہم بددیانتی اور بے انصافی کا شکار ہوئے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ہماری کمزوری اور بے بسی نے ہمیں ان عدالتوں کے فیصلوں کے سامنے سرجھکانے پر مجبور کر دیا جن سے عدل و انصاف کی امید رکھنا ایک خود فریبی تھی۔
ہم نے کفر کو اسلام کا دوست سمجھ کر صدیوں کے تاریخی حقائق کو جھٹلایا تھا۔ ماضی کی تاریخ شاہد ہے کہ غیر اسلامی نظام میں عدل و انصاف کی کرسیوں پر بیٹھنے والوں نے ہمیشہ مظلوم کے آنسوو¿ں سے ظالم کے قہقہوں کا سامان مہیا کیا ہے۔ عدل و انصاف صرف ان کے لیے ہے…….. جو بے انصافیوں کے خلاف لڑنے کی ہمت رکھتے ہیں ۔
اے قوم!
تیرے درد کا علاج بین المملکتی کانفرنسوں میں نہیں۔ تیرا دشمن حالات کے مطابق اپنا طریقہ¿ کار بدلتا رہتا ہے۔ لیکن اس کے مقاصد میں تبدیلی نہیں آتی…….. وہ ہندوستان کی تقسیم پر رضا مندنہ تھا لیکن جب اس نے محسوس کیا کہ ماو¿نٹ بیٹن اس کی کشتی میں بیٹھ چکا ہے اور اس کا طریقِ کار بالآخر تقسیم کے حقیقی مقصد کو فوت کر دے گا تو اس نے تقسیم کا اصول مان لیااورتُو خوش ہوگئی کہ تجھے کسی قربانی کے بغیر پاکستان مل گیا ہے۔ دشمن نے اپنے ترکش کا نیا تیر نکالا اور دہلی سے مشرقی پنجاب کے آخری کونے تک قتل و غارت کا طوفان بپا کر دیا اور اس کے ساتھ ریڈ کلف ایوارڈ کا خنجر تیرے سینے میں گھونپ دیا گیا ۔تیرے سپاہی باہر تھے، تیرا اسلحہ ہندوستان میں روک لیا گیا تھا اور تیرے وہ ہاتھ جو مدافعت کے لیے اٹھ سکتے تھے پہلے ہی باندھ دیے گئے تھے۔ ان حالات میں تیرے لیے تاریخِ انسانی کی سب سے بڑی بے انصافی اور ظلم کے سامنے سر جھکا دینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ۔اور پھر تجھے امید تھی کہ ریڈ کلف کا فیصلہ مان لینے کے بعد تیرا دشمن تیری امن پسندی اور نیک نیتی پر خوش ہو جائے گا لیکن یہ ایک اور خود فریبی تھی۔ تو یہ سمجھتی تھی کہ مشرقی پنجاب کا طوفان وہیں رک جائے گالیکن یہ طوفان دہلی میں پہنچ گیا اور پھر امن پسندوں کا ایک گروہ یہ کہہ کر اپنے آپ کوتسلیاں دے رہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کا کوئی امکان نہیں۔ یہ دونوں کے لیے خود کشی کے مترادف ہو گا….لیکن ہندوستان نے دوسرا قدم اٹھایا اور کشمیر پر حملہ کردیا …….. تو دنیا کی رائے عامہ کے سامنے دشمن کے ظلم و استبداد اور اپنی صلح جوئی اور امن پسندی کا ڈھنڈورا پیٹ رہی تھی کہ ہندوستان کی فوجیں جو نا گڑھ میں داخل ہوگئیں۔
اے قوم!
تیرے فرزانے دنیا کی رائے عامہ سے اپیلیں کر رہے تھے ۔ کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی پر دن دہاڑے ڈاکہ ڈالا جا رہا تھا۔ لیکن امنِ عالم کے اجارہ دار خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔ بالآخر تیرے دیوانوں کو ہوش آیا۔ مظلومیت، بے بسی اور مجبوری کی انتہا دیکھنے کے بعد تیری ڈوبتی ہوئی نبضوں میں زندگی کا خون دوڑنے لگا۔تیرے شاہین صفت جوانوں نے تیری پکار سنی، تیرے محمد بن قاسم تیری بیٹیوں کی آنکھوں میں بے بسی کے آنسوو¿ں کی تاب نہ لا سکے۔ ہندوستان میں سومنات کے نئے پجاریوں نے تیرے فرزندوں میں پھر ایک بار غزنوی کی روح بیدا ر کی …….. اور کشمیر کی وادیوں میں تیرے شیروں کی گرج سنائی دینے لگی۔ تیررے فرزانے ابھی ساحل سے محوتماشا تھے کہ تیرے دیوانے بے خطر دریا میں کود پڑے اور موجوں سے کھیلتے ہوئے منجدھار تک جاپہنچے۔
نہرو کی افواج چھ دن کے اندر اندر مجاہدین کی قوت مدافعت کچل دینے کے عزائم سے میدان میں آئی تھیں لیکن وہ تلواریں جن کی تیزی مشرقی پنجاب میں نہتے اور بے بس انسانوں کی گردن پر آزمائی گئی تھی کشمیر میں کند ثابت ہورہی تھیں۔

Scroll To Top