جناب وزیراعظم کیا یہ ڈاکہ آخری نہیں ہوگا ؟

aaj-ki-bat-logoخدا کرے کہ پاکستان کے قومی خزانے پر دن دہاڑے ڈاکہ زنی کی یہ آخری واردات ہو۔۔۔ امین او ر صادق نہ ہونے کی بناءپر نا اہل قرار پانے والے سابق وزیراعظم متعدد جرائم میں نامزد ملزم بھی ہیں۔۔۔ اس وقت ان کی حیثیت ایک عام شہری کی ہے جس پر سنگین الزامات ہیںاور جسے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے تحت نیب کی عدالتوں میں متعدد مقدمات کا سامنا کرنا ہے۔۔۔ اگر وہ بے قصور قرار پا بھی جائیں تو بھی وہ دوبارہ کبھی پارلیمنٹ کی رکنیت حاصل نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی وزیراعظم بن پائیں گے۔۔۔

انہیں اسلام آباد سے لاہور پہنچانے کے ” ایک عظیم ترقیاتی منصوبے“ کی تکمیل پر دو دنوں میں قومی خزانے سے کم ازکم دو ارب روپے خرچ کئے جاچکے ہوں گے۔۔۔ مقصد مسلم لیگ(ن) کے ووٹروں اور بیرونی دنیا کو ” باتصویر خبرنامے “ کے ذریعے یہ باور کرانا ہے کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ملزم کس قدر مقبولیت کا حامل ہے۔۔۔!
اگر اس سفر پر اخراجات کا بوجھ شریف خاندان خود برداشت کرتا تو یہ اُن کا حق تھا۔۔۔ مگر نئے وزیراعظم نے کمال فراخدلی سے قومی خزانے کے منہ کھول دیئے ہیں۔۔۔ سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے۔۔۔اگر میں یہ کہوں کہ یہ سپریم کورٹ اور آئین کے خلاف ایک کھلی بغاوت ہے تو غلط نہیں ہوگا۔۔۔میں نہیں سمجھتا کہ شاہد خاقان عباسی اس قدر کم علم یا بے علم ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ ایک مجرم اور ایک ملزم کو اس قدر زبردست پروٹوکول دینا اور اس مقصد کے لئے قومی خزانے سے دولت پانی کی طرح بہانا کتنا بڑا جرم ہے۔۔۔ دیکھا جائے تو آرٹیکل 6کا اطلاق آئین کے خلاف بغاوت کے جرم میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر بھی ہوسکتا ہے۔۔۔
7اگست کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ” وزیراعظم آج بھی میاں نوازشریف ہیں۔۔۔ “ کیا یہ آئین اور پارلیمنٹ دونوں کی توہین نہیں ۔۔۔؟
شاہد خاقان عباسی ایک مجرم اور ایک ملزم کو پاکستان کا حقیقی وزیراعظم سمجھنے کے جرم کا ارتکاب کب تک کرتے رہیں گے۔۔۔؟ کب انہیں یقین آئے گا کہ وزیراعظم وہ خود ہیں۔۔۔؟
میں سابق وزیراعظم کے بارے میں ” مجرم“ اور ” ملزم“ دونوں الفاظ استعمال کررہا ہوں۔۔۔
صادق اور امین نہ ہونے کا جرم ان پر ثابت ہوچکا ہے ورنہ وہ اب بھی وزیراعظم ہوتے۔۔۔
دیگر سنگین الزامات ہنوز ثابت کئے جانے ہیں۔۔۔ جب تک ثابت نہیں ہوتے وہ ” ملزم“ ہی سمجھے جائیں گے ۔۔۔

Scroll To Top