ایک قوم تحریک /اے قوم

  • naseem-ejazi-logoaaaa
    ہماری ”ایک قوم تحریک “ کے مقاصد کی ترجمانی جس قدر مکمل طور پر ملک کے مایہ¿ ناز ناول نگار نسیم حجازی مرحوم کی تصنیف ”خاک اور خون“ میں کی گئی ہے، اس قدر مکمل طور پر شاید کئی دہائیاں گزرنے کے بعد ہم آج نہ کرسکیں۔ خاک اور خون کو تحریک پاکستان کا ”آنکھوں دیکھا حال“ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس کے اختتامی باب ”اے قوم“ میں ناول کے ہیرو سلیم نے ان تمام خطرات کے بارے میں قوم کو آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی جن کا سامنا ہم نے اپنی گذشتہ دہائیوں میں کیا ہے۔
    وطن عزیز سے محبت کرنے والے کروڑوں اصحاب (اور خواتین) کے لیے یہ دستاویز مشعل ِ راہ کا درجہ رکھتی ہے۔
  • ( غلام اکبر )

اے قوم!

تو نے تاریخِ انسانی کا سب سے تاریک دور دیکھا ہے۔ دنیا میں ظالم اور مظلوم کی داستان بہت پرانی ہے۔ انسانیت کے خرمن پر کئی بجلیاں گری ہیں۔ باغِ آدم میں کئی آندھیاں آئی ہیں۔ وحشت اور بربریت کے ہاتھوں نے بارہا انسان کا منہ نوچا ہے لیکن آگ اور خون کا جو کھیل تو نے دیکھا ہے وہ کسی اور نے نہیں دیکھا۔
تیرا ادیب اور تیرا شاعر تجھے دلکش افسانے اور میٹھے راگ سنانے کے کے لیے آیا تھا۔ لیکن تُو خاک اور خون میں لوٹ رہی تھی۔ وہ تیر ی محفل میں کلیوں کی مسکراہٹوں اور قمریوں کے ترانوں کا طلب گار تھا لیکن اس کے سامنے خون کی ندیاں، راکھ کے انبار اور لاشوں کے ڈھیر تھے۔ وہ تیرے قدموں پر ستاروں کی مسکراہٹیں ، قوس قزح کے رنگ اور روئے زمین کی تمام دلفریبیاں اور رعنائیاں نچھاور کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے سامنے لٹی ہوئی عصمتیں تھیں۔
اے قوم!

میں ترے لیے مشرقی پنجاب سے آگ کی چنگاریاں لے کر آیا ہوں جو تیرے بچوں کو جلا چکی ہیں۔ میں تیرے لیے ان کی پھٹی ہوئی قباو¿ں کے ٹکڑے لے کر آیا ہوں جو تیری بیٹیوں کی عصمت کے خون سے داغدار ہیں۔ میں تجھے دلکش نغمے نہیں بلکہ وہ جگردوز چیخیں سنانے آیا ہوں جواَب تک دہلی اور مشرقی پنجاب کی فضاﺅں میں گونج رہی ہیں۔ میں تیرے ساتھ آگ سے کھیل چکا ہوں۔ خون میں نہا چکا ہوں۔ میرا ماضی اورحال تیرے ماضی اور حال سے وابستہ ہے اور میرا مستقبل تیرے مستقبل سے جدا نہیں۔ تیرے لیے میرا پیغام اس ادیب اور شاعر کا نہیں جو اپنی محفل کی تاریکیوں سے گھبرا کر منہ پھیر لیتا ہے اور غیروں کے عشرت خانوں میں سکون تلاش کر تاہے۔ میں تیرے ساتھ گرا ہوں اور تیرے ساتھ اٹھوں گا۔
میں تلخ حقائق پر تصورات کے حسین پردے نہیں ڈالوں گا۔ دہلی سے لے کر مشرقی پنجاب کے آخری کونے تک ہمارے شہر برباد کیے گئے ہماری بستیاں تباہ کی گئیں، ہمارے گھر جلا ئے گئے۔ معصوم بچوں کو نیزوں پر اچھالا گیا، لاکھوں انسان قتل ہوئے، ہزاروں عورتیں چھینی گئی، وہ زمین جس پر ہم نے آٹھ صدیاں اپنی سطوت اور اقبال کے پرچم لہرائے تھے، ہماری بے گور و کفن لاشیں دیکھ رہی تھی۔ وہ آسمان جس نے غازی محمد قاسمؒ کی غیرت کے سامنے راجہ داہر کو سرنگوں دیکھا تھا، جس نے محمود غزنویؒ اور غوری کا جاہ و جلال دیکھا تھا، ہماری ذلت ، رسوائی او ر بے بسی کا تماشہ کر رہا تھا۔ لیکن کیا سب کچھ بلاوجہ تھا؟ کیا یہ اتفاقی حادثہ تھا؟
نہیں، یہ بلاوجہ نہ تھا۔ یہ اتفاقی حادثہ نہ تھا۔ قانون قدرت میں اقوام کے عروج و زوال کی راہیں معین ہیں۔ عزت اور سربلندی ان کے لیے ہے جو فلاح و ترقی کے راستوں پر گامزن ہوتے ہیں اور جو پستی کا راستہ اختیار کرتے ہیں وہ بالآخر ذلت کے گڑھوں میں گھر جاتے ہیں….
قانونِ قدرت میں کسی قوم کا اجتماعی عمل رائگاں نہیں جاتا…. مشرقی پنجاب کی تباہی اور بربادی ہمارے اپنی کوتاہیوں ، غلط اندیشیوں اور غلط کاریوں کی سزا تھی۔ ہم نے بھیڑوں کی زندگی اختیار کی اور بھیڑیوں کے ہاتھ ہلاک ہوئے۔ ہماری کوتاہی اور خود فریبی کے باعث ایک ایسے دشمن کی تلوار ہماری شاہ رگ تک پہنچ چکی تھی جس کے مذہب اور اخلاق میں کمزور کے لیے رحم یا انصاف کی گنجائش نہ تھی۔ ہمارا دشمن وہ تھا جسے منوجی جیسے استادوں نے ملک گیری کے آداب سکھائے تھے…. ہمارا دشمن وہ تھا جس نے دنیامیں سب سے پہلے نسلیّت کا بت کھڑا کیا تھا۔ جس نے کمزور انسانوں کو مغلوب کر کے اچھوت بنایا تھا اور ان کے خون او ر ہڈیوں پر اپنے سماج کی بنیادیں کھڑی کی تھیں…. صدیوں کے بعد انسانیت کا یہ دشمن ماضی کے کھنڈروں پر ایک نئے سماج کی بنیادیں کھود رہا تھا اور ان کی بنیادوں کو پُر کرنے کے لیے اس نے مسلمانوں کا خون اور ہڈیاں منتخب کی تھیں۔ ہندو کے لیے نئے اتحاد اور تنظیم کی بنیاد اسلام دشمنی کے جذبہ پر رکھی گئی تھی۔ ہم سب کچھ دیکھ رہے تھے لیکن ہم ماضی سے بے نیاز، حال سے غافل اور مستقبل سے بے پروا تھے۔
ہمیں مورچہ بنانے کی اس وقت فکر ہوئی جب دشمن گولہ باری شروع کر چکا تھا………… ہمیں بند لگانے کا اس وقت خیال آیا، جب سیلاب آچکا تھا۔
ہم دن کے وقتڑ سورہے تھے، دشمن آیا ، اس نے ہمیں رسیوں میں جکڑ دیا اور ہمارے سر پر تلوار لے کر کھڑا ہو گیا۔………… ہم بے بس تھے………… ہم مجبور تھے ………… ہم احتجاج کر رہے تھے۔ ہم التجائیں کر رہے تھے۔ ہم نے دنیا کی رائے عامہ سے اپیلیں کیں۔ہم غیر جا نبدار مبصرین کو اپنی مظلومیت کا حال دیکھنے کی دعوت دے رہے تھے…….. لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ جہاں جنگل کا قانون ہو، وہاں فقط شیر کی گرج سنی جاتی ہے، بھیڑ کی ممیاہٹ پر کوئی کان نہیں دھرتا۔
دردمندانِ قوم قرار دادوں، احتجاجوں اور بیانوں کے نسخے آزما رہے تھے ………… بہار میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا تو انہوں نے احتجاج کیا۔ گڑھ مکتھیشر کی باری آئی تو انہوں نے سخت احتجاج کیا…….. پنجاب کی ریاستوں اور دہلی میںتباہی اور بربادی کا طوفان پھوٹ نکلا تو انہوں نے الفاظ کے تمام خزانے لٹا دیے………… احتجاج کرنے والوں کے گلے بیٹھ گئے، الفاظ کے ذخیرے ختم ہو گئے، لیکن تباہی اور بربادی کے طوفان کی رفتار کم نہ ہوئی۔
ہمارے پاس الفاظ کی کمی نہ تھی۔ ہمارے پاس بین الاقوامی شہرت کے مقررّ تھے لیکن ٹریجیڈی یہ تھی کہ پاکستان کا اسلحہ ماو¿نٹ بیٹن کے پاس امانت تھا۔ ٹریجیڈی یہ تھی کہ پاکستان کی افواج باہرتھیں اورسب سے بڑی ٹریجیڈی یہ تھی کہ انگریر کی سیاست انسانیت کے سب بڑے دشمن کو دہلی کے تحت پر بٹھا چکی تھی۔

Scroll To Top