قائداعظم کے پانچ الفاظ جو نظریہءپاکستان بن گئے

basilsala-azadi-logo”فاﺅنڈنگ فادرز “کی ترکیب بہت کم مملکتوں کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ سب سے پہلے یہ ترکیب ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لئے استعمال کی گئی ۔
امریکہ میں جب بھی کوئی قانونی ،انتظامی یا سیاسی بحران اٹھا کرتا ہے تو تجزیہ کار ہمیشہ ایک دوسرے سے یہی سوال کیا کرتے ہیں کہ ”فاﺅنڈنگ فادرز“نے کیا کہا تھا۔ یہ روایت ایک عرصے سے چلی آرہی ہے ۔
جب بات امریکہ کے فاﺅنڈنگ فادرز کی ہوتی ہے تو فوراً ذہن میں واشنگٹن ، جیفرسن اور میڈیسن کے نام آتے ہیں۔ ان ناموں کے ساتھ جو تصور سوچ میں ابھرتا ہے وہ ”آزادی“ کا تصور ہے۔ فوراً ہی ہمارے ذہن کے پردے پر مجسمہءآزادی کی تصویر نمودار ہوتی ہے۔ ہمارے کانوں میں جیفرسن کے یہ الفاظ بھی گونجتے ہیں کہ ”انسان آزاد پیدا ہوا، پھر وہ غلامی کی زنجیروں میں کیوں جکڑا ہوا ہے اور کیسے جکڑا رکھا جا سکتا ہے؟“
جب ہم آج کے امریکہ کے سامراجی مزاج اور شوقِ کشور کشائی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یوں لگتا ہے کہ جارج بش اور بارک اوبامہ مل کر امریکہ کے فاﺅنڈنگ فادرز کا منہ چڑا رہے ہوں۔
امریکہ کے ہی حوالے سے ”فاﺅنڈنگ فادرز“ کے ضمن میں جس دوسری مملکت کا نام ذہن میں ابھرتا ہے وہ اسرائیل ہے۔ اور اسرائیل کے فاﺅنڈنگ فادرز میں پہلا نام ڈاکٹر ہرزل کا اور دوسرا نام بن گوریاں کا آتا ہے۔
تیسرا ملک پاکستان ہے جس کے ساتھ ”فاﺅنڈنگ فادرز“ کی ترکیب خودبخود نتھی ہو جاتی ہے ۔ دو عظیم اور غیر فانی نام خود بخود ہمارے ذہن کی سکرین کو پوری طرح گھیر لیتے ہیں۔
مفکر ِپاکستان علامہ اقبالؒ اور بانیءپاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ ۔
علامہ اقبال ؒ نے جب خطبہءالٰہ آباد دیا تو مسلمانانِ برصغیر کے مستقبل کے حوالے سے ان کے ذہن میں کیا نقشہ تھا، اس کے بارے میں بھی ہمارے بعض دانشوروں اور نظریہءپاکستان کے ناقدین نے بڑے بڑے سوالات اٹھائے ہیں مگر ان سوالات کی قلعی کھولنے اور ان کا منہ چڑانے کے لئے علامہ اقبالؒ کی اپنی شاعری متعدد کتابوں کی صورت میں موجود ہے، ان کے اپنے افکار ببانگ ِدہل یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ”اسلام ہمارا دیس ہے، ہم مصطفوی ہیں“ ۔
مگر قائداعظم ؒ کی فکری شخصیت کو توڑ مروڑ کر اور ان کے انداز ِفکر کو بگاڑ کر پیش کرنا متذکرہ دانشوروں کے لئے اس لئے زیادہ مشکل نہیں کہ بابائے قوم کے افکار کتابی صورت میں ہمارے سامنے موجود نہیں، اور ان کے سیاسی بیانات کی تشریح ہر شخص اپنی سوچ کے مطابق کرنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے۔ ستم ظریفی کی بات یہاں یہ ہے کہ جس بطلِ جلیل نے دو قومی نظریہ کا پرچم بلند کرکے نظریہ ءپاکستان کا مقدمہ اس قدر کامیابی کے ساتھ لڑا ¾ اسے ہی سیکولر ازم کا حامی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قائداعظمؒ مذہبی پیشواﺅں کو ریاستی امور طے کرنے کا اختیار دینے کے خلاف تھے، مگر یہ بات ان کی سوچ میں رچی بسی تھی کہ جو نظام آنحضرت بنی نوع انسان کی فلاح کے لئے اسلام کے نام سے لائے تھے اس میں ہر دور اور ہر معاشرے کی رہنمائی اور فلاح کے تمام ضروری اصول موجود ہیں۔
اگر وہ تھیو کریسی ¾ پاپائیت یا مذہبی پیشواﺅں کی اجارہ داری کی مخالفت کرتے تھے تو ان ہی اسباب کی وجہ سے کرتے تھے جن اسباب کا نقشہ علامہ اقبالؒ کے اس شعر سے ابھرتا ہے۔
کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو !
قائداعظم ؒ کی حقیقی سوچ کو سمجھنے اور ان کی فکری شخصیت کو واضح طور پر دیکھنے کے لئے میرے خیال میں بیورلی نکلز(Beverley Nichols)کی مشہور کتاب Verdict on Indiaکا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔ یہ کتاب 1944ءمیں شائع ہوئی تھی ۔
ایک جگہ بیورلی نکلز نے لکھا ۔
”ایشیا کے سب سے اہم آدمی کی عمر اس وقت 67برس ہے ۔ اس کا نام جناح ہے۔ جناح کو میں نے ایشیا کا سب سے اہم آدمی اس لئے قرار دیا ہے کہ آنے والے برسوں میں ایشیا کا سب سے اہم ملک انڈیا ایک بڑی جنگ کا میدان بنا رہے گا ۔ مسٹر جناح اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ جنگ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔ انڈیا کے دس کروڑمسلمان ان کے ایک اشارے پر دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں مڑ سکتے ہیں۔ کوئی اور شخص اتنی قوت اور ایسی سٹریٹجک اہمیت کا حامل نہیں۔ ہندوﺅں میں گاندھی چلے جائیں تو نہرو موجود ہیں، نہرونہیں تو راجگو پال اچاریہ موجود ہیں۔ وہ نہیں تو پٹیل اور دیگر درجنوں موجود ہیں۔ مگر مسلمانوں میں اگر جناحؒ نہیں تو کوئی بھی نہیں اور کچھ بھی نہیں۔ جناحؒ مسلمانوں کی نبض بھی ہیں اور دھڑکن بھی ۔
میرا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ جناح کے بغیر مسلم لیگ ٹوٹ جائے گی ۔ یہ بہت بڑی جماعت ہے اور اس کی جڑیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں مگر جناح کے بغیر یہ کیا کرسکتی ہے، اور کیا کرے گی اس کا کسی کو علم نہیں۔ یہ پٹڑی سے ایک دم اتر بھی سکتی ہے، جنگل کی آگ کی طرح ہر چیز جلا بھی سکتی ہے، اور پورے برصغیر کو قتل گاہ بھی بنا سکتی ہے۔ مگر جناح کی بدولت یہ ایک منظم جماعت اور تحریک ہی رہے گی©“ ۔
آگے چل کر بیورلی نکلز نے لکھا۔
”جناح سے میری پہلی ملاقات18دسمبر 1943ءکو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ مجھے صرف نصف گھنٹہ دے سکیں گے ۔ مگر میری وہ ملاقات تین گھنٹوں سے بھی زیادہ دیر تک جاری رہی۔ اس دوران انہوں نے بڑے وسیع موضوعات پر خیالات کا اظہار کیا۔ بعد میں میں نے ان خیالات کا خلاصہ قلم بند کیا۔ اس خلاصے کو انہوں نے ایڈٹ بھی کیا۔
آپ اس ملاقات کا احوال پڑھ کر جناح کی شخصیت کو پوری طرح سمجھ سکتے ہیں۔“
بیورلی نکلز کے متذکرہ انٹرویو کے کچھ حصے میں یہاں پیش کررہا ہوں۔
بیورلی نکلز: آپ کے مخالف آپ پر سب سے بڑا الزام یہ لگاتے ہیں کہ آپ نے پاکستان کے تصور کو مناسب اور مطلوبہ کاملیت اور تفصیل کے ساتھ کبھی پیش نہیں کیا۔ دفاعی معاملات ¾ اقتصادی معاملات اور اقلیتی امور کے بارے میں بہت ساری باتیں ہیں جنہیں آپ نے مبہم رکھا ہوا ہے۔ کیا آپ پر ہونے والی یہ تنقید منصفانہ ہے؟
محمد علی جناحؒ: منصفانہ تو یہ ہے ہی نہیں، یہ دانش مندانہ بھی نہیں ہے۔ خاص طور پر اگر یہ کسی ایسے انگریز کی ہے جو اپنی تاریخ کی فہم رکھتا ہو۔ جب آئر لینڈ برطانیہ سے الگ ہوا تھا تو وہ دستاویز صرف دس سطور پر مشتمل تھی جسے ہم علیحدگی کا اعلان کہتے ہیں۔ صرف دس سطور سے اتنے الجھے ہوئے معاملے کو حل کیا گیا!۔ ایک ایسا معاملہ جس نے صدیوں سے برطانوی سیاست کو زہر آلود بنائے رکھا! تمام تفصیلات مستقبل پر چھوڑ دی گئیں۔ اور مستقبل میرے خیال میں بڑا سچا ثالث ہوا کرتا ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں تو دس سطور سے بہت زیادہ الفاظ میں پاکستان کی اصولی حیثیت اور عملی نقشے پر روشنی ڈال چکا ہوں۔ جہاں تک مستقبل کا تعلق ہے اس کا واضح خاکہ پیش کرنا کسی بھی شخص کے لئے ممکن نہیں۔ میرے خیال میں ہندوستان کی تاریخ خود بول رہی ہے کہ اس قسم کے واضح خاکے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کون سا واضح خاکہ تھا جس کو سامنے رکھ کر راﺅنڈ ٹیبل کانفرنس میں برما کو الگ کیا گیا؟ یا سندھ کو بمبئی سے جدا کیا گیا؟ کوئی واضح خاکہ موجود نہیں تھا۔ اس کی ضرورت بھی نہیں تھی ۔ اہم بات یہ تھی کہ علیحدگی کا اصول تسلیم کر لیا گیا۔ اس کے بعد سب کچھ منطقی طور پر عمل میں آگیا۔
بیورلی نکلز: آپ پاکستان کے بنیادی اصولوں کی نشاندہی کیسے کریں گے ؟
جناح: پانچ الفاظ میں۔۔۔ مسلمان ایک الگ قوم ہیں۔ میں دوبارہ دہراتا ہوں۔ مسلمان ایک الگ قوم ہیں۔ اگر آپ یہ بات سمجھ لیں اور اگر آپ ایک دیانتدار آدمی ہیں تو آپ خود ہی پاکستان کے مطالبے کو اصولی طور پر مان لیں گے ۔ یہ مطالبہ مانا جائے گا۔ خواہ اس کے راستے میں ان مشکلات سے سینکڑوں گنا زیادہ مشکلات کھڑی کی جائیں جو حقیقت میں موجود ہیں۔ لیکن اگر آپ مسلمانوں کے ایک قوم ہونے کے بنیادی اصول کو نہیں مانتے(جناح نے اپنے شانے اچکائے اور مسکرائے) ……..تو پھر بات ہی ختم سمجھیں۔
بیورلی نکلز: جب آپ کہتے ہیں کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں تو کیا آپ مذہب کو ذہن میں رکھتے ہیں۔۔۔؟
جناح: کسی حد تک۔۔۔ مگر مکمل طور پر نہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام صرف مذہبی ڈاکٹرائن نہیں ، بلکہ ایک حقیقی، حقیقت پسندانہ اور قابلِ عمل نظامِ حیات ہے۔ ہماری پوری زندگی اس نظامِ حیات کے تابع ہے۔ زندگی کا ہر اصول اس کے تابع ہے۔ میرے سامنے اپنی پوری تاریخ ہے ۔ اپنے ہیرو ہیں۔ اپنا فن ِتعمیر ہے۔ اپنی مصوری ہے ۔ اپنی موسیقی ہے۔اپنے قوانین ہیں۔ اور اپنا نظامِ عدل ہے۔
بیورلی نکلز: جناب میں یہ سب باتیں لکھنا چاہوں گا۔
جناحؒ: (قدرے توقف کے بعد) ان تمام شعبوں میں ہمارا نقطہ ءنظر بنیادی طور پر ہندوﺅں کے نقطہ ءنظر سے براہ راست متصادم ہے۔ ہم الگ لوگ ہیں ۔ کوئی ایسی قدر نہیں جو ہماری زندگیوں کو جوڑتی ہو۔ ہمارے نام۔ ہمارے لباس ۔ ہمارے کھانے ۔ سب مختلف ہےں۔ ہماری معاشی زندگی۔ ہمارے تعلیمی تصورات، عورتوں کی حیثیت ۔ جانوروں سے ہمارے روےے۔۔۔ہم ہر ہر مقام پر ایک دوسرے کی ضد ہےں۔ مثال کے طور پر گائے کی بات ہو جائے ۔ ہم گائے ذبح کرکے کھا جاتے ہیں۔ ہندو اس کی پوجا کرتے ہیں۔ گائے کا مسئلہ دونوں کے درمیان زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس قسم کے درجنوں دیگر معاملات ہیں۔ (وقفہ جس کے بعدجناح بولے(۔ آپ نے کیا لکھا ہے؟
بیورلی نکلز : میں نے لکھا ہے کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں۔
جناحؒ: کیا آپ اس حقیقت کو مانتے ہیں؟
بیورلی نکلز: مانتا ہوں
جناحؒ: (مسکراتے ہوئے) اور کیا سوالات ہیں آپ کے پاس؟
سوال و جواب کا یہ سلسلہ خاصا طویل تھا۔ میں اگلے کالم میں شاید اس پر قلم اٹھاﺅں ۔ مگر یہاں میرا مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ بانیءپاکستان کی سوچوں میں اسلام اسی طرح رچا بسا تھا جس طرح برسنے والے بادلوں میں پانی رچا بسا ہوتا ہے!

Scroll To Top