محمد شریف پیدائش کے وقت نسیم حجازی نہیں تھے ۔۔۔۔

aj-ki-baat-newآج میں بالکل ہی ذاتی نوعیت کے معاملے پر قلم اٹھارہا ہوں۔۔۔ اگرچہ میں سمجھتا ہوں کہ نسیم حجازی کا تعلق صرف میری ذات سے نہیں ` وطنِ عزیز کے ہر اس فرزند سے اور قوم کی ہر اس بیٹی سے ہے جسے اپنے مسلم تشخّص پر فخر ہے اور جس کا فکری رشتہ امت محمدی ﷺ کی تاریخ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔۔۔ مگر یہاں میں ایک شخص محمد شریف کا ذکر کرناچاہتا ہوں جو میرے ماموں تھے۔۔۔ اور جو اپنی پیدائش سے لے کر کالج کے اوائلی زمانے تک نہیں جانتے تھے کہ دنیا میں نسیم حجازی نام کا کوئی شخص موجود ہے۔۔۔
محمد شریف کے والد کا نام ابراہیم تھاجو برطانوی را ج میں تحصیل دار تھے۔۔۔بڑی بہن میری والدہ تھیں۔۔۔ تین بہنیں اور بھی تھیں۔۔۔ بھائی دو تھے جن میں سب سے چھوٹے کا نام عبدالحکیم تھا ۔۔۔ میرے یہ ماموں سب سے کم تعلیم یافتہ او ر مالی لحاظ سے سب سے کمزور تھے۔۔۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد کو عروج بخشا۔۔۔ ان کے تینوں بیٹے چارٹرڈاکاﺅنٹنٹ ہیں۔۔۔ سب سے بڑے کا نام اقبال نعیم دوسرے کا نام ظفر الحق اور تیسرے کا نام محمد محسن ہے۔۔۔ محمد شریف کے بھی تین بیٹے تھے۔۔۔ تینوں اللہ کو پیارے ہوچکے۔۔۔ سب سے بڑے خالد مجھ سے ایک سال بڑے تھے۔۔۔
میں یہ ساری تفصیلات ان غلط بیانیوں کی وجہ سے بیان کررہا ہوں جو کم علمی یا بے علمی کی وجہ سے ارادتاً یا غیر ارادی طور پر میڈیا میں ہورہی ہیں۔۔۔
گزشتہ شب عامر لیاقت حسین نے ایک پروگرام میں زورِ بیان کی خاطر فرمایا کہ ایس ای سی پی کے معزول چیئرمین ظفر حجازی نسیم حجازی کے لے پالک بیٹے ہیں اور جس طرح نسیم حجازی نے تاریخ کو مسخ کیا اسی طرح ظفر حجازی بھی ریکارڈ مسخ کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔۔۔
ظفرحجازی میرے کزن ہیں۔۔۔ او ر اگرچہ ہمارے سیاسی قبلے ہمیشہ مختلف رہے ہیں ` ہمارے درمیان برادرانہ جذبات کا ہی رشتہ رہا ہے۔۔۔ اس سے زیادہ میں یہاں کچھ نہیں کہوں گا۔۔۔ لیکن میں اس بات کی وضاحت ضرور کروں گا کہ محمد شریف نسیم حجازی کیسے بنے۔۔۔ وہ کالج کے زمانے میں مختلف جرائد کے لئے اسلامی تاریخ کے پس منظر میں کہانیاں اور افسافے لکھا کرتے تھے۔۔۔ ان کی ایک کہانی اسلامیہ کالج کے اپنے جریدے میں شائع ہوئی۔۔۔ کسی تقریب میں علامہ اقبال ؒ تشریف لائے تو انہوں نے ماموں جان سے مخاطب ہو کرکہا۔۔۔ ” نوجوان تم نسیمِ حجاز ہو۔۔۔“
ماموں جان فرطِ مسرت و افتخار سے جھوم اٹھے او ر انہو ں نے اپنا قلمی نام نسیم حجازی رکھ لیا۔۔۔ میں یہاں یہ بات بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ وہ دستخط پورے نام کے کیا کرتے تھے یعنی ” ایم ایس نسیم حجازی“۔۔۔
ان کے نام کی مقبولیت دیکھ کر سب سے پہلے میرے ایک چچا حجازی بنے۔۔۔ پھر ان کی پوری اولاد حجازی بن گئی۔۔۔ ان میں عبدالقیوم حجازی بھی ہیں۔۔۔ میرے بہنوئی بھی حجازی تھے۔۔۔ ان کی اولاد نے بھی حجازی کہلانا پسند کیا۔۔۔ پھر برادرم ظفر الحق بھی حجازی بن گئے۔۔۔مجھے یاد ہے کہ ماموں جان اِس بات پر بہت چڑا کرتے تھے کہ ان کی ادبی شناخت دوسرے خاندان والوں نے بھی اختیار کرلی ہے۔۔۔
” مجھے بڑی خوشی ہوتی اگر تم بھی حجازی ہوتے۔۔۔“ انہوں نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا تھا جواب میں ` میں نے کہا تھا۔۔۔
” مجھے آپ کا بھانجا ہونے پر فخر ہے۔۔۔نسیم حجازی صرف اور صرف آپ ہیں۔۔۔ میں اپنی جو شناخت لے کر پیدا ہوا وہی میرے لئے کافی ہے۔۔۔“
رہی یہ بات کہ نسیم حجازی نے تاریخ مسخ کی ؟ یا نسیم حجازی کی غیر فانی مقبولیت سے جلنے والے حقائق مسخ کرتے ہیں۔۔۔؟
اس پر تفصیل کے ساتھ روشنی میں آئندہ ڈالوں گا۔۔۔ بلکہ میرے خیال میں خود نسیم حجازی کو ہی اس سوال کا جواب دینا چاہئے۔۔۔ چنانچہ میں ان کی شہرہ آفاق تصنیف ” خاک اور خون ‘ کے ایک باب کا وہ اقتباس پیش کررہا ہوں۔۔۔ جس میں وہ نہ صرف اپنی نسل سے بلکہ اپنے بعد آنے والی نسلوں سے بھی مخاطب ہوئے ۔۔۔ اس باب کا عنوان ہے۔۔۔
اے قوم!

Scroll To Top