آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی کیساتھ کھڑے ہیں: آرمی چیف

  • فورم کا داخلی اور خارجی سکیورٹی بالخصوص افغانستان کی صورتحال کا جائزہ ، علاقائی امن و سلامتی کےلئے اپنا کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ ،قومی اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کو شکست سے دوچار کریں گے،سربراہ بری فوج کا دوٹوک اعلان
  • شرکاءنے آپریشن ردالفساد کے ذریعے حاصل کیے گئے دوررس مثبت نتائج کو سراہا، لائن آف کنٹرول کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے بھی بریفنگ ،203 ویں کانفرنس کی صدارت جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی
راولپنڈی، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ 203ویں کور کمانڈرز کانفرنس کی صدارت کر رہے ہیں

راولپنڈی، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ 203ویں کور کمانڈرز کانفرنس کی صدارت کر رہے ہیں

راولپنڈی ( آن لائن ) پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا ہے کہ ‘آئین اور قانون کی بالادستی ہر صورت برقرار رکھی جائے گی کہ قومی اداروں سے ملکر دہشت گردوں کو شکست دیں گے۔ وہ پیر کو 203 ویں کورکمانڈر کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر ) کے مطابق 203ویں کورکمانڈر کانفرنس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوئی۔فورم نے داخلی اور خارجی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔فورم نے علاقائی سکیورٹی بالخصوص افغانستان کی صورتحال کا جائزہ لیا اور علاقائی امن و سلامتی کے لئے اپنا کردار جاری رکھنے کا عزم کیا۔آرمی چیف نے کہا کہ ہم اس حوالے سے اعتماد پر مبنی باہمی تعاون چاہتے ہیں جو علاقائی امن کی پالیسی کے نتائج حاصل کرسکتا ہے۔کورکمانڈر کانفرنس کو لائن آف کنٹرول کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔فورم نے آپریشن ردالفساد کے ذریعے حاصل کیے گئے دوررس مثبت نتائج کو سراہا۔آرمی چیف نے آپریشن خیبر فور میں کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ اعلی پیشہ وارانہ معیارات کی بدولت کامیابی حاصل کرنے کو سراہا۔قومی سلامتی اور دفاع سے متعلق پاک فوج کے عزم پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دہشت گردوں کو شکست دینے کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے ‘قومی اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کو شکست سے دوچار کریں گے اور آئین و قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔ذرائع کے مطابق کانفرنس میں عدالتی فیصلے کی روشنی میں حکومت کی پر امن تبدیلی کے معاملے پر بھی غور کیا گیا اور جمہوریت کی حمایت جاری رکھنے کے حوالے سے بھی فوجی کمانڈرز نے اپنے عزم کو دہرایا جبکہ بھارت پر واضح کیا گیا کہ وہ کنٹرول لائن پر جارحیت سے باز آئے اور جنگ بندی معاہد ے کا احترام کرے مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں پر بھی مکمل اظہار اطمینان کیا گیا ۔

Scroll To Top