بھارت کاکشمیریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال

  • زین العابدین

بھارت اور اسرائیل کی ناجائز ریاست مےں کئی باتےں مشترک ہےں ان مےں سے اےک یہ ہے کہ دونوں کے ہاتھ معصوم انسانوں کے لہو سے لتھڑے ہوئے ہےں۔ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر مےں اور اسرائیل نے فلسطین مےں قتل و غارت گری کا بازار گرم کررکھا ہے اور دونوں نے اپنے اپنے ناجائز قبضوں کو برقرار رکھنے کےلئے نہ صرف لاکھوں انسانوں کے پےدائشی حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے بلکہ انکے خلاف ہر طرح کے ظلم و ستم اور تشدد کے سلسلے کو بھی شروع کر رکھا ہے۔کشمیری ہوں ےا فلسطینی دونوںپچھلی سات دہائیوں سے ظلم و ستم کی چکّی مےں پس رہے ہےں اور انکے حقوق کےلئے کم ہی آواز اٹھائی جاتی ہے۔
اسرائیل کی ظالمانہ پالیسیاں بھارت کےلئے رول ماڈل کادرجہ رکھتی ہےں۔ فلسطینیوں کےساتھ دنیا بھر خصوصاً برِصغیر کے مسلمانوں کی گہری جذباتی وابستگی ہے اسی وجہ سے بھارت نے اسرائیل کےساتھ مضبوط تعلقات ہونے کے باوجود انہیںہمےشہ خفیہ رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر مےں اسرائیلی فوجی افسران کی آمدورفت معمول کا حصہ بن چکی ہے جو جےل اور حراستی مراکز مےں قےدیوں پر تشدد کے نت نئے طریقوں اور ہتھےاروں کے استعمال کے تجربات کا تبادلہ کرتے اور اےک دوسرے سے استفادہ کرتے ہےں۔
2014مےںBJPکے برسرِ اقتدار آتے ہی مودی نے مسلمانوں کے جذبات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسرائیل کےساتھ تمام شعبوں مےں تعلقات بڑھائے اور اسی سلسلے مےں جولائی 2017مےں مودی نے اسرائیل کا دورہ بھی کیا جو کسی بھی بھارتی سربراہ کا اسرائیل کاپہلا دورہ تھا۔
اس مےں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پراپنا غاصبانہ قبضہ برقرار رکھنے کےلئے ہمےشہ اسرائیل کی مثال کو سامنے رکھا ہے جس نے فلسطین پر اپنا قبضہ قائم رکھنے کےلئے ظلم و ستم اور جبر کا ہر طریقہ آزماےا ہے اور اس نے نہ تو کبھی کسی بےن الاقوامی قانون کی پرواہ کی ہے اور نہ ہی کسی اخلاقی پابندی کا خیال رکھا ہے۔ جس طرح اسرائیل فلسطینیوں کو انسان نہیں سمجھتا بالکل اسی طرح بھارت بھی کشمیریوں کو انسان سمجھنے پر تےار نہیں۔جس طرح اسرائیل بے گناہ اور نہتّے فلسطینیوں کےخلاف پراپےگےنڈا کرتا ہے بالکل اسی طرح بھارت نے بھی نہتّے کشمیریوںکےخلاف منفی پراپےگےنڈے کا سلسلہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ پچھلی سات دہائیوں کے دوران بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر مےں ہونےوالی انسانی حقوق کی پامالیوں پر پردہ ڈالنے کےلئے مختلف ہتھکنڈے اور حیلوں بہانوں کو استعمال کرتا رہتا ہے۔ سات لاکھ بھارتی قابض افواج کی وادی مےں تعیناتی اور اسکے ہاتھوں مےں پبلک سےفٹی اےکٹ جےسے کالے قوانین کی اندھی طاقت دےکر انہیں قانون سے بالاتر بنا دیا گےا جو کشمیریوں کو بلا روک ٹوک ریاستی دہشتگردی کا نشانہ بناتے رہے ہےں اور کوئی ان کا ہاتھ روکنے والا نہیں۔ اسی طرح بھارت نے اےک جانب وادی مےں اتنی سخت پابندیاں عائد کررکھی ہےں کہ نہ تووہاں کسی انسانی حقوق کی تنظیم ےا کارکن کو جانے کی اجازت ہے اور نہ ہی وہاں ذرائع ابلاغ کو آزادی سے کام کرنے دیا جاتا ہے تاکہ وہاں ہونےوالی انسانی حقوق کی پامالیوں سے دنیا کو مکمل طور اندھےرے مےں رکھا جاسکے۔ ٹےلی فون، موبائیل اورانٹر نےٹ سروس تو آئے دن معطّل رہتی ہے اسی طرح سماجی رابطے کی وےب سائٹس کو بھی عموماً بلاک رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے وادی کا رابطہ باقی دنیا سے کٹ جاتاہے۔ مزید برآں بھارت کشمیر کی آزادی کی تحریک کو بدنام کرنے کےلئے کبھی اسے دہشتگردی کےساتھ ملانے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی اسے سرحد پار مداخلت قرار دےکر پاکستان کےخلاف پراپےگےنڈا کرتا ہے۔ کشمیری مجاہدین کی آزادی کی تحریک کو بدنام کرنے کےلئے بھارت کی جانب سے یہ الزام بھی لگاےا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کشمیری مجاہدین کو کیمیائی ہتھےار فراہم کررہا ہے جنہیں وہ وادی مےں اپنی کارروائیوں مےں استعمال کررہے ہےںحالانکہ حقیقتِ حال اسکے بالکل برعکس ہے۔
بھارت کےخلاف کشمیری نوجوانوں کے مظاہروں کے دوران اس بات کا عام مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ بھارتی افواج جان بوجھ کر فائرنگ کرکے کشمیری نوجوانوں کو شہید کرتی رہی ہےں۔ نشانہ باندھ کر کشمیری نوجوانوں کی پےشانیوں پر گولیاں ماری جاتی ہےں جن سے اےک ہی حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ بھارت کسی اےسے کشمیری کو زندہ رہنے کا حق نہیں دے سکتا جو بھارت سے اپنے پےدائشی حق ےعنی استصوابِ رائے کا مطالبہ کرے۔ کشمیریوں پر استعمال ہونےوالے ہتھےاروں مےں کئی اےسے ہتھےار بھی شامل ہےں جن کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔ کشمیریوں پر کئی بار کیمیائی مواد کا استعمال کیا گےا جو انسانیت کے خلاف سنگین جرم کے زمرے مےں آتا ہے ۔
بھارت کے کشمیری مجاہدین کےخلاف کیمیائی ہتھےاروں کے استعمال کو پہلی بار جون 1999مےں رپورٹ کیا گےا۔ اسکے بعد کئی بار ان کیمیائی ہتھےاروں کے استعمال کی اطلاعات ملتی رہیں۔ جولائی 2016 مےں کشمیری تحریک مےں آنےوالی تےزی کے دورانکیمیائی ہتھےاروں کے استعمال کی اطلاعات ملیں۔ سال 2016مےں بھارتی قابض افواج اور پولیس کو کشمیریوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس کا مقابلہ کرنے کےلئے اس نے کئی حربے آزمائے۔ بھارت مخالف مظاہروں اور جلسوں مےں عام کشمیری شہریوں پر جہاں آنسو گےس ، پےلٹ گن اور بارودی اسلحے کا بے درےغ استعمال کیاگےا وہیں اس نے کیمیائی مواد کو بھی بطور ہتھےار استعمال کیا۔9دسمبر 2016کو اننت ناگ مےں مجاہدین پر کیمیائی اسلحہ استعمال کیا گےا۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ مےں 3 جولائی 2017 کو محض 24گھنٹوںکے دوران 3کشمیریوں اور4گھروں کو کیمیائی ہتھےاروں سے نشانہ بناےا گےا۔ شہید ہونےوالے کشمیری نوجوانوں کی لاشوں کی اس کیمیائی مواد کے باعث اس قدر بری حالت تھی کہ انہیں پہچاننا اور شناخت کرنا نہاےت دشوار تھا۔ہزاروں افراد نے ان شہیدوں کے جنازوں مےں شرکت کی اور بھارتی افوج کی طرف سے انکے خلاف کیمیائی ہتھےاروں کے استعمال پر احتجاج کیا۔ اسی طرح کا اےک اور واقعہ پام پورہ مےں بھی پےش آےا تھا جس مےں بھارتی افواج نے 3کشمیری نوجوانوں کوکیمیائی ہتھےاروں کے استعمال سے شہید کردیاجبکہ اےک گھر کو بھی تباہ کردیاتھا۔ کاک پورہ پلوامہ مےں بھی چار گھروں کو کیمیائی ہتھےاروں سے نشانہ بناےا گےا۔ بھارتی افواج کی طرف سے کشمیریوں پر خلافِ قانون کیمیائی ہتھےاروں کے استعمال پر کشمیری سراپا احتجاج ہےں اور بھارت کے انسانیت دشمن اقدامات کی شدید مذمت کررہے ہےں۔
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے مےں جس بے حسی اور انسان دشمنی کا ثبوت دیا ہے اسکی کہیں اور مثال نہیں ملتی۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے مےں نہ تو انسانی اقدار کو درخورِ اعتناءسمجھا ہے اور نہ ہی عالمی قوانین ہی بھارتی مظالم کا راستہ روک سکے ہےں۔ اےسے حالات مےں یہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کی اس ہٹ دھرمی اورڈھٹائی کا نوٹس لےں جسکے باعث ہزاروں لوگ اپنی زندگیوں سے محروم ہوچکے ہےں اور ہر روز اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہےں کیونکہ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہےگا جب تک کشمیری بھارتی غلامی اور جبر و استبدادسے آزاد نہیں ہو جاتے جس کےلئے انکے استصوابِ رائے کے حق کا استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اس حقیقت کا ادراک کیا جانا بھی ضروری ہے کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا اس وقت تک جنوبی اےشیاءمےں امن و استحکام اور خوشحالی کا قیام اےک خواب ہی رہےگا۔

Scroll To Top