افغانستان کو حقائق کا ادارک کرنا ہوگا

zaheer-babar-logoچیف آف آرمی سٹاف نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعاون کے خواہاں ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کورکمانڈر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ آخری دہشت گرد کے خاتمہ تک جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے سپہ سالار کا کہنا تھا کہ مشترکہ کوششوں سے ہی آئین اور قانون کی عملدآری قائم ہوگی۔ “
پاکستان اور افغانستان دونوں کو ہی ایسے دشمن کا سامنا ہے جس کا نہ تو کوئی باضابطہ ٹھکانے ہے اور نہ ہی چہرہ۔ کب اور کیسے کشت وخون کا کوئی واقعہ رونما ہوجائے اس سلسلے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ بدقسمتی ہے کہ کابل پاکستان کی تمام تر کوششوں کے باوجود اعمتاد کی فضا بحال کرنے کو تیار نہیں۔ افغان قیادت اپنی خامیوں پر قابو پانے کی بجائے پاکستان پر الزام تراشی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ حامد کرزئی ہوں یا اشرف غنی اس حقیقت سے پہلو تہی کے مرتکب ہورہے کہ انتہاپسند کسی بھی علاقے کے ہوں قیام امن کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ اور افغانستان دونوں ہی پاکستان پر ڈبل گیم کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اتحادی ہونے کے دعویدار ممالک اس پر یقین کرنے کو نہیںکہ گزرے ماہ وسال میں ضرب عضب اور اب ردالفساد قابل زکر کامیابیاں حاصل کرچکے۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب پاکستان کے گلی کوچے کشت وخون کا منظر پیش کرتے تھے۔ آج کل کی طرح خودکش حملے اکا دکا نہیں آئے روز ہوا کرتے تھے۔ٹی ٹی پی کی قیادت قبائلی علاقوں میں اعلانیہ موجود تھی جبکہ ملک میں انتہاپسندی کے خلاف متفقہ نقطہ نظر قومی سطح پر مفقود تھا۔ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی مسلم لیگ ن کی حکومت حزب اختلاف کی سب ہی جماعتوں کی رضامندی سے ٹی ٹی پی پاکستان سے بات چیت کررہی تھی۔ ٰایک طرف پاکستانی طالبان سے بات چیت کا عمل جاری تھا تو دوسری جانب قتل وغارت گری کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے لہذا ملک میںغیر یقینی صورت حال نمایاں تھی۔
ریکارڈ پر ہے کہ ضرب عضب کے آغاز پر پاکستان کی جانب سے افغانستان سے درخواست کی گی کہ وہ سرحدوں کی نگرانی سخت بناتے ہوئے اسے ممکن بنائے کہ کالعدم جماعت کے اراکین کسی طور پر افغانستان نہ جانے پائیں مگر کابل باجوہ ایسا نہ کرسکا۔ آج ہم سب جانتے ہیںکہ کالعدم تحریک طالبان کا سربراہ ملا فضل اللہ افغانستان میں روپوش ہے۔
افغان قیادت اس حقیقت کو تسلیم کرچکی کہ ملا فضل اللہ افغان سرزمین میں ان کے قابو سے باہر ہے۔
افغانستان میں حالیہ چند سالوں میں بھارت کو فیصلہ کن اثر رسوخ حاصل ہوا ۔ چانکیہ سیاست کے پیروکاروں نے انتہائی چابکدستی سے افغان حکومت ، سیاست ، میڈیا ، کاروباری طبقہ اور عام آدمی تک اثر رسوخ حاصل کرلیا ہے۔ کئی دہائیوں کی قربانیوں کے باوجود افغانستان پاکستان سے نالاں ہے ۔ اس کے برعکس پاکستان میںآج بھی ہزاروں نہیںلاکھوں افغان مہاجرین موجود ہیں جو یہاں آرام سکون سے رہ رہے۔ اشرف غنی حکومت یہ سمجھنے کو تیار نہیںکہ افغانستان کے ساتھ مختلف موقعوں پر تعاون کرکے پاکستان نے نقصان اٹھایا ہے۔اس کی بڑی مثال روس افغان جنگ ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو بے تحاشا مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ ایک طرف ملکی معشیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا تو دوسری جانب مہاجرین کے علاوہ ناجائز اسحلہ ، منشیات اور انتہاپسندی جیسے مسائل نے پاکستان کی مشکلات بڑھا دیں۔
اسے ملکی خارجہ پالیسی کی ایک اور ناکامی کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان افغانستان بارے اپنا مقدمہ موثر انداز میں پیش نہیں کرسکا۔ تمام تر قربانیوں کے باوجود ہونا تو یہ چاہے تھا کہ عالمی برداری پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرکے نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کرتی مگر ایسا نہ ہوا۔
افغان قیادت اس حقیقت کا ادراک کرنے میں ناکام ہے کہ عصر حاضر میں انتہاپسندی عالمی مسلہ بن چکی۔ ایک طرف یہ ترقی یافتہ ملکوں کے لیے درد سر ہے تو دوسری جانب ترقی پذیر ملک اس پر قابو پانے میںناکام ہورہے ۔ کابل کو سمجھ لینا چاہے کہ وہ جوں جوں پاکستان پر الزام تراشی کریگا تو اس کا فائدہ وہ شدت پسند گروہ اٹھائیں گے جو مخصوص اہداف رکھتے ہیں۔ اس سارے کھیل جو ملک بھرپور طریقہ سے فائدہ اٹھا رہا وہ بجا طور پر بھارت ہے۔ مودی سرکار باخوبی جانتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کئی لحاظ سے اس کے لیے فائدہ مند ہے۔ مثلا دو پڑوسی اسلامی ملکوں کا باہم دست وگریباں ہونا جنوبی ایشیاءمیںمسلمانوں کی اجتماعی طاقت کو نقصان دے گا۔ اس خطے میں پاکستان ہی بھارت کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا خواب اکھنڈ بھارت ہے۔ اس خواب کو عملی طور پر تعبیر تب ہی مل سکتی ہے جب خطے میں مسلمانوںکے مقابلے میں ہندووں کے مفادات محفوظ رہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے درست کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کو پاکستان کے خلوص پر شک وشبہ کا اظہا کرنے کی بجائے انتہاپسندی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں سے سیکھنا ہوگا۔ کابل کو جان لینا چاہے کہ انتہاپسندی کے خلاف پاکستان کی لڑائی خطے کی ریاستوں کی بقا کے لیے ضروری ہے جسے تمام تر مشکلات کے باوجود جاری وساری رہنا چاہے ۔

Scroll To Top