نوجوان نسل اسلام کا پرچم بہروپیوں سے چھین لیں! 15-12-2011

kal-ki-baatگزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمان نے ایک بیان داغا جس میں فرمایا گیا کہ امریکہ کو آصف علی زرداری ` میاں نوازشریف ` اسفند یار ولی خان ` الطاف حسین اور عمران خان کی جمہوریت چاہئے اسے اسلامی جمہوریت منظور اور قبول نہیں۔
اگر مولانا آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے حلیے کا بغور جائزہ لینے کے بعد اپنے آپ سے یہ کہتے رہتے ہیں کہ ” تم ہو اسلامی جمہوریت کا چلتا پھرتا نمونہ “ تو پھر میں انہیں مشورہ دوں گا کہ وہ سلطان ٹیپو شہید کا تیار کردہ ’ ’ آئینِ میسور “ پڑھیں جس میں دین کی تعلیم دینے یا دین کی تبلیغ کرنے والوں پر پابندی لگائی گئی تھی کہ وہ پہلے اپنا ذریعہءمعاش ظاہر کریں اور ریاست اور معاشرے کو اس بات کی قابلِ اطمینان ضمانت فراہم کردیں کہ وہ دین کو ذریعہءمعاش نہیں بنائیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنا ” دینی تشخص“ برقرار رکھتے ہوئے مختلف ادوار میں ارباب ِاختیار کے ساتھ کس قسم کے منفعت بخش سودے کئے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کو جتنا نقصان دین کے تاجروں نے پہنچایا ہے اتنا نقصان اس کے مخالفوں یا دشمنوں نے بھی نہیں پہنچایا۔یہ لوگ ایک مخصوص ” حلیہ “ اختیار کرکے اپنے فتوﺅں او ر اپنی حمایت کی قیمت وصول کرنے کی جو شہرت رکھتے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وقت آگیا ہے کہ نوجوان نسل قائداعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ کی پیروی میں ان بہروپیوںسے اسلام کا پرچم چھین لے اور مسلمانوں کی نشاة ثانیہ کی با عمل نقیب بن جائے۔
” کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پیران کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو !“

Scroll To Top