آپ سے بہتر کون جانتا ہوگا کہ آپ نے کون کون ساجرم کیا ہے۔۔۔ ؟ ابھی تو آپ کا صرف ایک جرم پکڑا گیا ہے !

aaj-ki-bat-logo” ہماری جدوجہد کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ ہم جہازوں پر سفرکرنے والے حکمرانوں کو جی ٹی روڈ پر عوام کے درمیان لے آئے ہیں۔“
مولانا سرا ج الحق کے اس بیان پر انہیں خراج تحسین پیش نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ ایک بیان میاں نوازشریف نے بھی دیا ہے جس کے پیچھے پوشیدہ سوچ پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔۔۔
میاں صاحب نے کہا ہے۔۔۔
”سِول بالا دستی تسلیم کی جائے ۔ عدالتی فیصلہ ہم نے تسلیم کیا ہے مگر عوام نے تسلیم نہیں کیا۔ اداروں کے ساتھ ٹکراﺅ کا حامی نہیں مگر سازش سے پردہ ضرور اٹھاﺅں گا۔ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے مگر میں جھکوں گا نہیں ۔“
یہ بیان ویسے ہی تضادات کا مجموعہ ہے جیسے تضادات پاناما کیس کی سماعت کے دوران شریف خاندان کے مختلف افراد کے بیانات میں مختلف اوقات پر پائے گئے۔
ایک روز قبل بھی میاں صاحب نے کچھ ایسا ہی بیان دیا تھا جس میں انہوں نے کچھ دھمکیاں بھی دی تھیں۔ مثلاً یہ کہ ۔ ” ابھی میں نہیں بول رہا مگر ہمیشہ خاموش نہیں رہوں گا۔ “ اور مثلاً یہ بھی کہ ” آج بھی میثاق جمہوریت پر قائم ہوں۔ اب بھی عمل ہو سکتا ہے۔“
میثاق جمہوریت کے ساتھ ہی مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی کی قیادتوں کے درمیان فوج کے خلاف اشتراک ِ فکر و عمل کا خیال آتا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق میاں صاحب اور زرداری صاحب کے درمیان رابطے قائم ہوچکے ہیں۔ اِن رابطوں میں یقینا اس بات پر ہی اتفاق کیا گیا ہو گا کہ خطرات صرف دولت کے ان انباروں کو نہیں جو میاں صاحب نے دنیا بھر میں چھپا رکھے ہیں۔خطرات اُن انباروں کو بھی ہیں جو زرداری کی خداداد ذہانت اور انتھک محنت کے نتیجے میں جمع ہوئے ہیں۔
18ویں ترمیم میں دونوں قیادتوں نے آنے والی کئی نسلوں تک پاکستان میں اقتدار کی تقسیم کا فارمولا طے کرلیا تھا۔ تب جو فوجی قیادت انہیں ملی تھی وہ ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنی تھی۔ دونوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ عمران خان صحرائے گوبی کے چرواہے تمو جن کی طرح بگولا بن کر اٹھے گا اور اس ” جمہوری فارمولے“ کے لئے خطرہ بن جائے گا جس کے ذریعے سندھ میں زرداری خاندان کی ` پنجاب میں شریف خاندان کی ` اور مرکز میں دونوں خاندانوں کی نسل درنسل بادشاہت قائم ہونی تھی۔۔۔
میثاق جمہوریت میں ابتداءسے ہی ایک بڑا سقم یہ رہا ہے کہ اس کے ” شرکاء“ باہمی حریف بھی ہیں۔ یہ بالکل ویسا ہی اتحاد ہے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ اور سوویت یونین میں جرمنی کے خلاف قائم ہوا تھا۔ دونوں کو ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں لیکن دونوں کو معلوم ہے کہ آئندہ جب بھی ” میرے عزیز ہم وطنو “ کی صدا گونجے گی ` دونوں کے تمام خفیہ خزانوں پر خطرات کے بادل برسنا شروع ہوجائیں گے۔
اِن خطرات کے خوف نے ہی میاں صاحب سے یہ کہلوایا ہے کہ ” میثاق جمہوریت پر اب بھی عمل ہوسکتا ہے۔۔۔“
یہ دھمکی دراصل عدلیہ کو دی گئی ہے۔
عدلیہ سے کہا گیا ہے کہ ” ہم مِل کر آئین میں ایسی ترامیم لاسکتے ہیں کہ تمہارے فیصلوں سے ہوا نکل جائے گی اور سیاہ اور سفید کے درمیان جو فرق ہے وہ ختم ہوجائے گا۔ پھر کوئی جج جرا¿ت نہیں کرے گا کہ کسی صاحبِ اختیار کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھے۔۔۔“
میاں صاحب دھمکیاں صرف عدلیہ کو نہیں دے رہے۔۔۔ فوج کو بھی دے رہے ہیں۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ فیصلے کے پیچھے کون ہے تو اُن کا اشارہ براہ راست فوج کی طرف ہے۔ وہ جب یہ کہتے ہیں کہ فیصلہ سازش کا نتیجہ ہے تو اُن کا مطلب یہی ہے کہ فوج اور عدلیہ نے مل کر سازش کی ہے اور اِس سازش میں عمران خان کی حیثیت مہرے سے زیادہ نہیں ۔
یہ درست ہے کہ میاں صاحب خود فوج اور عدلیہ کا براہِ راست نام نہیں لے رہے دونوں ¾ ادارو ںپر براہ راست گولہ باری کرنے کی ذمہ داری انہوں نے اپنے توپچیوں کے سپرد کررکھی ہے۔ جن میں سرفہرست خواجہ سعد رفیق ہیں ۔
مگر اس بات کا مطلب کیا ہے۔۔۔سول بالادستی تسلیم کرنا ہوگی ۔۔۔؟
کیا اس ایک جملے میں وہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے مخاطب نہیں ۔۔۔؟
ہم سب جانتے ہیں کہ نئے وزیراعظم خاقان عباسی کا انتخاب پارلیمنٹ نے کیا ہے ¾ فوج نے نہیں ۔ پھر اس بات کا کیا مطلب کہ سول بالادستی تسلیم کرنا ہوگی۔
کیا سول بالادستی کا مطلب شریف خاندان کو نسل در نسل حکمران رہنے کاا ختیار دینا ہے۔۔۔؟
جمہوریت کے لئے خطرہ کون بن رہا ہے؟
فوج اور عدلیہ پر گولہ باری کہاں سے ہورہی ہے۔۔۔؟
میاں صاحب کہتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔۔۔
یقینا جانتے ہوں گے میاں صاحب۔۔۔
ابھی تو آپ کا ایک جرم پکڑا گیا ہے۔۔۔ آپ سے زیادہ کون جانتا ہوگا کہ آپ نے اس قوم اور اس ملک کے خلاف کیا کیا جرم کئے ہیں ۔۔۔؟
آپ کہتے ہیں کہ فیصلہ عوام نے تسلیم نہیں کیا توایسا کریں کہ ریفرنڈم کرا کر دیکھ لیں اور اگر آپ پر یہ انکشاف ہو کہ عوام فوج اور عدلیہ کے ساتھ ہیں تو آپ اپنے آپ کو قانون کے حوالے کردیں۔۔۔

Scroll To Top