آج رات سال کا آخری چاند گرہن ہوگا، پاکستان میں جزوی طور پر دیکھا جائے گا

aچاند گرہن کے دوران زمین کا سایہ چاند پر پڑرہا ہوتا ہے اور اس کا تعلق نحوست یا بدنصیبی سے ہرگز نہیں ہوتا بلکہ اسے مظاہرِ فطرت میں شمار کیا جاتا ہے۔ (فوٹو: فائل)

کراچی: اس سال کا آخری چاند گرہن آج رات یعنی 7 اور 8 اگست 2017 کی درمیانی شب کو ہوگا اور یہ پورے پاکستان میں دیکھا جاسکے گا۔ یہ چاند گرہن جزوی نوعیت کا ہوگا جس کے دوران چاند کا کچھ حصہ تاریک ہوگا اور اس کی روشنی میں بھی کسی حد تک کمی آجائے گی۔

پاکستانی وقت کے مطابق یہ چاند گرہن رات 10 بج کر 22 منٹ پر شروع ہوگا اور11 بج کر 20 منٹ پر اپنے عروج پر پہنچنے کے بعد رات 12 بج کر 18 منٹ پر اختتام پذیر ہوجائے گا۔ اس طرح یہ چاند گرہن 1 گھنٹہ 54 منٹ تک جاری رہے گا۔

اس چاند گرہن کے وقت پاکستان میں 15 ذیقعدہ 1438 ہجری کی رات ہوگی جس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان پر تقریباً پورا چاند ہوگا جب کہ گرہن کی ابتداء سے اختتام تک اُفق سے چاند کی بلندی بھی خاصی زیادہ رہے گی۔ تاہم آج رات پورے پاکستان میں مطلع ابر آلود رہنے کا امکان ہے اس لیے پاکستان میں بیشتر مقامات سے اس کا نظارہ خاصا مشکل رہے گا۔

اس جزوی چاند گرہن کے دوران چاند کا زیادہ سے زیادہ 24.6 فیصد حصہ تاریکی میں ڈوب جائے گا۔ یہ اس سال کا آخری چاند گرہن بھی ہوگا۔

اس کے بعد 31 جنوری 2018 کے روز اگلا چاند گرہن ہوگا جو مکمل چاند گرہن ہوگا لیکن پاکستان میں صرف جزوی طور پر ہی دیکھا جاسکے گا۔ البتہ اگلے سال کا دوسرا اور مکمل چاند گرہن 27 اور 28 جولائی 2018 کی درمیانی رات واقع ہوگا اور اسے پورے پاکستان میں دیکھا جاسکے گا۔

واضح رہے کہ چاند گرہن کے دوران زمین کا سایہ چاند پر پڑرہا ہوتا ہے جب کہ سورج گرہن میں سورج اور زمین کے درمیان چاند آجاتا ہے۔ سورج گرہن ہو یا چاند گرہن، دونوں میں سے کسی کا تعلق بھی نحوست یا بدنصیبی سے ہرگز نہیں بلکہ ان کا شمار مظاہرِ فطرت میں کیا جاتا ہے۔

اسی مہینے یعنی 21 اگست 2017 کے روز مکمل سورج گرہن کا موقعہ بھی آرہا ہے البتہ یہ صرف شمالی امریکا میں ہی دیکھا جاسکے گا اور پاکستان میں 22 تاریخ کی صبح ہونے سے پہلے ہی یہ ختم ہوچکا ہوگا یعنی پاکستان میں کہیں پر بھی دیکھا نہیں جاسکے گا۔ اسی بناء پر اس سورج گرہن کو ’’گریٹ امریکن اکلپس‘‘ (عظیم امریکی گرہن) بھی کہا جارہا ہے۔

Scroll To Top