”جنرلوں اور ججوں کے مستعفی ہونے کے بعد اگر عباسی نے کرسی چھوڑنے سے انکار کر دیا تو۔۔؟“

aaj-ki-bat-logo” ابا حضور آپ اپنی بنائی ہوئی موٹروے پر مت جائیے۔ یہ منحوس ہو سکتی ہے ۔ جو سڑک شیر شاہ سوری نے بنائی تھی عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر آپ کو وہیں ملے گا۔جب آپ کی گاڑی اس سمندر کے پاس پہنچے گی تو آپ ہاتھ لہرا کر کہیں گے کہ مجھے راستہ دو تو سمندر دولخت سے گذرتے چلے جائیں گے۔اکثر مقامات پر عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر آپ کا راستہ روکتا رہے گا۔آپ گاڑی سے باہر آکر اُن کے عقیدت مندانہ پُرجوش نعروں کا جواب ضرور دیجئے گا۔پھر آپ ہاتھ کے اشارے سے سمندر کو دولخت کر کے آگے بڑھ جائیں گے۔ ۔ اور بڑھتے رہیں گے۔۔
آپ کو ہمارے بد خواہ ڈرائیں گے کہ سکیورٹی کو نظر انداز کرنا خطرے سے خالی نہیں۔ جیسے وہ اب تک آپ کو عدلیہ اور فوج کے ساتھ ٹکرانے سے روکتے رہے ہیں۔
آپ شیر ہیں۔ آپ کو شیر بن کر دکھانا ہوگا۔ آپ کی چنگھاڑ عدلیہ اور عساکر کے ایوانوں تک پہنچنی چاہئے۔
آپ گوجرانوالہ سے پہلے پہلے انہیں یہ پیغام دے دیں گے کہ ”مجھے تخت سے اتارنے والو، تمہارا وقت تختے پر چڑھنے کا آچکا ہے۔“
مودی انکل کی وساطت سے جن جوگیوں نجومیوں اور جوتشیوں سے میرا رابطہ ہے ان کا کہنا ہے کہ گوجرانوالہ میں پڑاو¿ ڈالتے وقت آپ کو خوشخبری ملے گی کہ تمام کور کمانڈر مستعفی ہو گئے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ جنرل صاحب نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔
اگلی خوشخبری آپ کو کامو نکی میں ملے گی کہ پوری سپریم کورٹ نے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوشی کا اعلان کر دیا ہے ۔
جوتشیوں کا کہنا ہے کہ آپ کا مریدکے پہنچنا عمران خان کیلئے فالِ بدہوگا۔اور وہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر کے جلا وطنی اختیار کر لے گا۔
میں آپ کے اس عظیم الشان سفر کی آپ کو پیشگی مبارک باد دے رہی ہوں“
یہ تقریر ہمارے خصوصی قلمکار اور طلسماتی صلاحیتوں کے حامل دوست ”ہمہ تن گوش“ نے سنی۔ اس کے بعد ہمہ تن گوش نے یہ سنا۔
”بیٹی تم نے ہمارا دل باغ باغ کر دیا ۔ مگر ہمیں دو دھڑکے ہیں۔“
”کون سے ابا حضور۔۔؟“
” ایک تو یہ کہ کہیں کوئی بدبخت ہمیں جامِ شہادت ہی نوش کرا دے۔“
”شہادت خوش بختوں کو نصیب ہوتی ہے اب حضور۔ مگر اللہ آپ کی عمر دراز کرے۔ دوسرا دھڑکا کیا ہے۔؟ “
”جنرلوں اور ججوں کے استعفوں کے بعد اگر عباسی نے کرسی چھوڑنے سے انکار کر دیا تو۔۔؟ہم چھ ماہ تک تحریک عدم اعتماد نہیں لا سکیں گے۔۔“
ہمہ تن گوش نے بس یہاں تک ہی گفتگو سنی اور آکر مجھے سنائی۔
آپ کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ ماضی میں اپنی ”ڈائری“ پر شہرت پانے والے ”ہمہ تن گوش“ نے طویل غیر حاضری کے بعد میری درخواست منظور کرتے ہوئے ہفتے میں دو مرتبہ ڈائری تحریر کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔۔ موصوف اپنی بیانک بیٹریوں کی بدولت سمندر پار تک کی گفتگو گھر بیٹھے سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Scroll To Top