سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہدا¿ انصاف کے منتظر

ahmed-salman-anwer-izhar-khiyalپاکستان کے گرما گرم سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر ڈاکٹر طاہر القادری نے انٹری دینے کا فیصلہ کرلیا۔ بیرون ملک تمام مصروفیات ترک کرکے آٹھ اگست کو پاکستان آنے کا اعلان کر دیا۔ ڈاکٹر علامہ طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ شبہاز شریف 14 شہریوں کے قتل میں نامزد ملزم ہیں ، باقر نجفی کی کمیشن رپورٹ نے شہباز شریف کو سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اب گلی گلی میں گو شہباز گو کا نعرہ گونجے گا۔
یاد رہے کہ 17 جون 2014 کی رات 2 بجے کے قریب جب پولیس اہلکار بھاری مشینری کے ہمراہ تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکریٹریٹ کے باہر پہنچے تو پولیس اہلکاروں نے دعوی کیا کہ سیکرٹریٹ اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی رہائش کے سامنے موجود سیکیورٹی انتظامات عوام کے لیے مشکل کا باعث ہیں، لہٰذا ہم ان رکاوٹوں کو ہٹانے کے احکامات لے کر آئے ہیں۔ تحریک کے قائدین نے پولیس اہلکاروں کو بتایا کہ یہ سیکورٹی بیریئرز آج سے تین سال قبل لاہور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اور پولیس کی نگرانی میں نصب کئے گئے تھے اور مئی 2011ءمیں مقامی پولیس اسٹیشن کی طرف سے جاری کردہ سیکورٹی ہدایات میں بھی ان کی تنصیب کا کہا گیا تھا۔ تاہم پولیس اہلکاروں نے دونوں تحریری دستاویزات دیکھنے کے باوجود انہوں نے عدالتی احکامات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنی کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں 14 افراد شہید اور 90 افراد شدید زخمی ہو گئے۔الیکٹرانک میڈیا نے اس پورے واقعہ اور آپریشن کی مکمل کارروائی عوام پاکستان تک پہنچاتے ہوئے ریاستی دہشت گردی کو بےنقاب کردیا۔ 13 گھنٹے سے ایک سفاکانہ واقعہ کی خبر لمحہ با لمحہ الیکٹرانک میڈیا ٹی وی سکرین پر دکھاتا رہا اور حکمرانوں کو اس کی کوئی خبر نہیں۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب جو اپنے آپ کو خادم اعلیٰ پنجاب کے نام سے منسوب کرتا ہے نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس واقعہ کی کوئی خبر نہیں ہے حالانکہ وہ اپنے آپ کو انصاف کا سب سے بڑا داعی سمجھتا ہے۔شہبا ز شریف واقعہ کہ اگلے ہی روز دعویٰ کیا تھا کہ اگر مجھ پر انگلی بھی اٹھی تو میں مستعفی ہو جاﺅں گا۔ لیکن باقر نجفی رپورٹ کے باوجود بھی ٹس سے مس ہونے کو تیا ر نہ ہوئے۔
اس واقعہ کے نتیجے میں ملک میں غیر معمولی نوعیت کی سرگرمیاں اور فیصلے کیے گئے۔پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااللہ سے عہدہ واپس لے لیا گیا۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے حکم پر ماڈل ٹاو¿ن واقعہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کے لئے جسٹس باقر علی نجفی پر مشتمل یک رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا، جس کے احکامات لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس امتیاز علی خواجہ نے جاری کئے۔پنجاب حکومت ہی کی طرف سے سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کے لیے بنائے گئے یکطرفہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کو اس سانحہ کا براہ راست ملزم قرار دیا گیا۔کارکنوں کو انصاف دلانے کا نعرہ لیے جناب ڈاکٹر طاہر القادری بھی وطن واپس آگئے اوراسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا۔ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کے نتیجے میں ماڈل ٹاون واقعہ کی ایف آئی آر درج ہوئی۔ایف آئی آر میں وزیراعظم نواز شریف ، وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اور متعدد وزراءکو نامزد کیا گیا۔عوامی تحریک نے وزیراعلی پنجاب کی بنائی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اسے ماننے سے انکارکر دیا۔جے آئی ٹی نے چند پولیس والوں کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے ایف آئی آر میں نامزد تمام افراد کو بے گناہ قرار دیا گیا۔یوں پنجاب کی وزرات قانون کا قلم دان ایک بار پھر رانا ثنااللہ کے سپرد کردیاگیا۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو سانحہ ماڈل ٹاو¿ن میں کلین چٹ دیئے جانے پر پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کیا۔اس موقع پر عوامی تحریک کہ مطالبہ تھا کہاس کیس کو فوجی عدالت میں منتقل کیا جائے اور جے آئی ٹی رپورٹ کو شائع کیا جائے۔ایک نئی ،غیر جانبدار جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔چونکہ پولیس ماڈل ٹاو¿ن سانحے میں ملوث تھی، لہذا اسے جے آئی ٹی کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔
دوسری جانب سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کوتین برس بیت گئے ہیںلیکن ریاستی دہشتگردی کا شکار ہوئے 14شہیدوں کو انصاف نہیں مل سکا۔ سانحہ ماڈل کیس میںلاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے قرار دیا ہے کہ بادی النظر میں ماڈل ٹاو¿ن جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں ذمہ دار ٹھہرائی گئی اعلیٰ شخصیات کوبچانے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔
پاکستان میں نظامِ عدل، قانون کی بالا دستی اور آئین کی حکمرانی پہ بات کرنا اگرچہ ایک مشکل امر ہے۔کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی ریاست کے فعال اور دیانتدار اداروں سے مشروط ہوتی ہے۔ ہم ایک ایسی ریاست کا خواب دیکھتے ہیں جہاں عدلیہ آزاد ہو اور ریاست کے سبھی بالائی اور زیریں طبقات اس کے فیصلوں کے پابند ہوں۔جناب طاہر القادری آئندہ آنے والے دنوں میں کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں اور کیا وہ استقامت اور مکمل یکسوئی کے ساتھ حصول انصاف کی اس تحریک کو کامیاب کرپاتے ہیں یا نہیں اس کے لیے ہمیں ان کے آئندہ لائحہ عمل اور سٹریٹجی کا انتظار کرنا ہو گا۔

Scroll To Top