آئین کی شق نمبر6اور اسلام 14-12-2011

kal-ki-baatقرارداد ِمقاصد میں یہ طے پا گیا تھا کہ وطن ِ عزیز کے آئین میں کسی ایسی شق یا کسی ایسے قانون کو شامل نہیں کیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ کے فرمانوں اور قوانین پر مشتمل کتاب یعنی القرآن سے متصادم ہو۔
انشاءاللہ تعالیٰ پاکستان تاقیامت قائم رہے گا اور جب تک پاکستان قائم ہے اس کے آئین میں کسی ایسی شق کو نہ تو قبول اور نہ ہی برداشت کیا جائے گا جو قوانین الٰہی سے معنوی یا عملی طور پر ٹکراتی ہو۔
ہمارے لیڈر اکابرین اور سیاستدان اکثر کہا کرتے ہیں کہ 1973ءکے آئین پر عمل کرنا پاکستان کے ہر شہری پر فرض ہے۔ اس ضمن میں آئین کی شق6کا ذکر اکثر ہوتا ہے جسے توڑنا غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ جو سوال یہاں ملک کے ہر کلمہ گو شہری کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے وہ یہ ہے کہ ” کیا قدم قدم پر آئینِ خداوندی کی خلاف ورزی کرنا اور قرآن حکیم کے احکامات سے روگردانی کرنا کسی بھی لحاظ سے 1973ءکے آئین کی شق نمبر6کی خلاف ورزی سے کم سنگین جرم ہے۔؟“
اگر قرارداد ِ مقاصد کی روح کے مطابق قوانین کا اطلاق کیا جائے تو جو گردنیں پھانسی کے پھندوں میں لٹکی نظر آئیں گی اُن میں اُن لیڈروں اور حکمرانوں کی گردنیں بھی ہوں گی جو 1973ءکے آئین کی پاسداری کا ورد کرتے نہیں تھکتے۔
جہاں تک شہرہ ِآفاق شق نمبر6 کا تعلق ہے وہ میری حقیر رائے میں قرآنی تعلیمات سے براہِ راست ٹکراتی ہے۔ جو حکمران احکامات خداوندی سے بغاوت کا مرتکب ہو اور اپنے قول و فعل سے ان قرآنی تعلیمات کامذاق اڑاتا ہو جو مسلمان کو مسلمان بناتی ہیں ¾ اس کے گریبان پر ہاتھ ڈالنا اور اسے گھسیٹ کر اس کے منصب سے اتار پھینکنا خلق ِخدا پر لازم ہوجاتا ہے۔
حسین ؓ اور یزید کے درمیان جھگڑا اور کس بات کا تھا۔؟
میں اس ضمن میں یہ بات بھی کہوں گا کہ اگر باطل دھوکے سے اقتدارپر قابض ہوجائے تو پانچ سال تک اس کی مدتِ اقتدار کے خاتمے کا انتظار کرنا بھی کسی مسلمان معاشرے کو زیب نہیں دیتا۔

Scroll To Top