نفرتوں کا خوفناک کھیل 13-12-2011

kal-ki-baatژاں پال سارترے نے کہا تھا کہ اگر کسی قوم کو تباہ کرنا مقصود ہو تو ایسے حالات پیدا کردیئے جائیں جن میں اس قوم کے لئے اپنے اکابرین یا لیڈروں سے نفرت کرنا ناگزیر ہوجائے۔
میںنہیں جانتا کہ ” پاکستان میں ایسے حالات کب تھے جب اس کے عوام بڑی غالب اکثریت میں اپنے لیڈروں سے نفرت نہیں کرتے تھے ۔؟“
اگر ہم صرف اُس ماضی کو سامنے رکھیں جس کی یادیں آج کی نوجوان یا ادھیڑ عمر نسل کے ذہنوں میں زندہ یا تازہ ہیں تو ہمارے لئے اس حقیقت کا اعتراف کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا کہ ہماری تمام تر سیاسی صف بندیاں ” نفرت “ کی بنیاد پر ہوتی رہی ہیں۔
باہمی نفرت کی بنیاد پر پروان چڑھنے والی پولرائزیشن کا آغاز 1960ءکی دہائی کے آخر میں ہوا تھا جب ایک طرف ” شوکت ِاسلام “ کے پرچم تلے ” پاکستان کا مطلب کیا ۔ لا الہ الااللہ ۔۔“ کے نعرے بلند ہورہے تھے تو دوسری طرف ” بھٹو واہ تے مودودی ٹھاہ “ کی صداﺅں سے فضائیں گونج رہی تھیں۔
اس پولرائزیشن کو عروج پاکستان قومی اتحاد کے قیام اور اس کے پرچم تلے چلنے والی تحریک کے ساتھ حاصل ہوا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کا بانی اِن ہی نفرتوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔ المیہ یہاں یہ ہے کہ ان نفرتوں کو ہوا دینے میں خود بھٹو مر حوم نے خاصا نمایاں کردار ادا کیا تھا۔
پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت میں بھٹو پر چلائے جانے والے مقدمے اور اس مقدمے کے نتیجے میں دی جانے والی سزا پر نظرثانی کے کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوچکی ہے۔
میں نہیں جانتا کہ نظر ثانی کی اس مشق سے کیا حاصل ہوگا۔ لیکن اگر ہم اس کے نتیجے میں سیاست کی عمارت کو نفرت کی بنیادوں پر کھڑا کرنے کا کھیل ختم کردیتے ہیں تو یہ بات ہمارے مستقبل کے لئے بڑی خوش آئند ہوگی۔
میری نظر میں یہ حقیقت ایک المیے سے کم نہیں کہ ہم نے اپنی تاریخ کی چند مرکزی شخصیات کو نفرتوںکا ہدف بنا رکھا ہے۔ میں ان شخصیات میں مولانا مودودی مرحوم اور جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے ساتھ ساتھ جنرل ضیاءالحق مرحوم کو بھی شامل کرتا ہوں۔ کوئی بشر نہ تو کامل فرشتہ ہوتاہے اور نہ ہی کامل شیطان۔۔۔
ہم سب کے اندر کسی نہ کسی کونے میں ہر وقت شیطان ضرور چھپا رہتا ہے ۔ ہماری عظمت اس پر غالب رہنے میں ہے۔

Scroll To Top