میاں نوازشریف نے سچ کہاکہ ۔۔۔ ملک کسی اور مارشل لاکا متحمل نہیں ہوسکتا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ملک ڈاکوﺅں اور طالع آزماﺅں کی شکار گاہ بنے رہنے کا بھی متحمل نہیں ہوسکتا ۔۔۔

aj-ki-baat-newمیڈیا سے ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو کرتے ہوئے میاںنوازشریف نے بڑی سنجیدہ بات کہہ دی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ملک مزید کسی مارشل لاءکا متحمل نہیں ہوسکتا۔ کون اختلاف کرے گا ان کی اس بات سے ؟

مگر سوچنے کی بات یہاں یہ ہے کہ کیا ملک مزید کرپشن ` مزید بدعملیوں ` مزید جوڑ توڑ ` مزید لاقانونیت ` مزید بے ضمیری ` مزید بے حسی `مزید مفاد پرستی ` برُی حکمرانی کے مزید طول و تسلسل ` اور قومی مفادات سے مزید چشم پوشی اور مزید انحراف کا متحمل ہوسکتا ہے ؟
یہ ملک جمہوریت کے نام پر سیاست کو کاروبار کا درجہ دینے والی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کا ” وسیلہ ءتجارت “ بننے کے لئے قائم نہیں ہوا تھا۔ یہ ملک برصغیر کے مسلمانوں کو ان دعاﺅں کے صلے میں ایک تحفے کے طور پر ملا تھا جو مغلوں کے آفتابِ اقبال کے غروب ہونے کے بعد ہمارے بزرگ گڑگڑا کر بار گاہ ایزدی میں مانگتے رہے تھے۔
اس ملک کا خواب علامہ اقبال ؒ نے دیکھا اور اسے ایک حقیقت کا روپ قائداعظم ؒ نے دیا۔ اس ملک کے باسیوں پر قدرت کی طرف سے یہ ذمہ داری عائد کردی گئی کہ اسے اسلامی فلاحی مملکت بناکر مسلم نشاة ثانیہ کی طرف پہلا عظیم قدم اٹھائیں گے۔
اگر ہم کسی اور مارشل لاءکے متحمل نہیں ہوسکتے تو ہم اس بات کے متحمل بھی نہیں ہوسکتے کہ یہ ملک دولت کے ایسے پجاریوں کی شکار گاہ بنا رہے جن کی ”پیاس ِ زر“ بجھانے کے لئے شاید سمندر بھی کافی نہیں۔
وقت آگیا ہے کہ اہل ِپاکستان اپنے عزیز وطن کو ان حکمران طبقوں کے شکنجے سے آزاد کرائیں جو اس کے وسائل کو اپنے بے پایاں خفیہ خزانوں میں منتقل کرنے کی دوڑ کو جمہوریت کا نام دیتے ہیں۔
(9دسمبر2011ءکو بھی یہ کالم شائع ہوا تھا)

Scroll To Top