مسلم لیگ ن محاذآرائی کے موڈ میں ہے!

zaheer-babar-logoنئی وفاقی کابینہ اس لحاظ سے مکمل طور پر نئی نہیںکہ اس میں شامل کئی چہرے پرانی کابینہ کے ہی ہیں۔ بادی النظر میں کہنے کو شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم ہیں مگر تاثر یہ ہے کہ کابینہ کے سب ہی اراکین کے تقرر میں سابق وزیر میاں نوازشریف کی مرضی کو کیلدی اہمیت حاصل رہی۔ وزرات خارجہ ، وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے لیے جن مسلم لیگ ن کے جن اراکین اسمبلی کا چناو کیا گیا وہ میاں نوازشریف کے خاصے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ خواجہ آصف ، احسن اقبال اور خرم دستگیر خان کی سابق وزیر اعظم سے قربت کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ تینوں حضرات کے نام بطور وزیر اعظم بھی زیر غور تھے۔ بظاہر میاں نوازشریف نے اہم وزارتوں پر ایسے لوگوںکا تقرر کیا جو قومی اداروں محاذآرائی کے لیے پوری طرح معروف ہیں ۔ سیاسی حلقے اس پیش رفت سے یہ نتیجہ بھی اخذ کررہے کہ آنے والے دنوں میں پی ایم ایل این کی حکومت بڑی حد تک محاذآرائی کے موڈ میں ہے۔
نئی کابینہ میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی بھی خاصے نمایاں ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جارہا کہ پی ایم ایل این عام انتخابات میں جنوبی پنجاب میں اپنا زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کے درپے ہے ۔ آٹھ وزیروں اور مشیروں کا تقرر پی ایم ایل این کی نظر میں جنوبی پنجاب کی بڑھتی ہوئی سیاسی اہمیت کو ظاہر کررہاس ۔ بعض حلقوں کے بعقول حکمران جماعت کو باخوبی اندازہ ہے کہ کئی دہائیوں سے جنونی پنجاب کو اس کا جائز حق نہ دینے کے سبب علاقے میں ان کے خلاف غم وغصہ کے جذبات موجود ہیں ۔ وسطی پنجاب میں مسلم لیگ ن کا اثر رسوخ بہرکیف موجود ہے۔ شائد اسی لیے طویل عرصے سے اس علاقے سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کو وزارتیں بھی دیا جاتی رہیں مگر جنونی پنجاب کی داد رسی نہ کی گی۔ جنوبی پنجاب کو پسماندہ رکھنے میں وہاں کے مخدوم اور جاگیر دار پیش پیش رہے وہی شریف بردارن کا کردار بھی کم اہم نہیں رہا۔ سوال یہ ہے کیا نئی کابینہ میں جنوبی پنجاب کی خاطر خواہ نمائندگی پی ایم ایل این کے ووٹ بنک میں اضافہ کا باعث بنے گی تاحال یہ واضح نہیں۔
ادھر نئی کابینہ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اب ہر ہفتہ کابینہ کا اجلاس ہوا کریگا۔ان کے بعقول کابینہ کے اراکین دن اور رات کسی بھی وقت ان سے رابط کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دس سالہ منصوبہ کو آئندہ دس ماہ میں مکمل کریں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کابینہ اراکین وزیر اعظم ہاوس کی جانب دیکھنے کی بجائے اپنی اپنی وزارتوں میں خود مختار ہونگے۔ انھوں نے تمام وزارتوں کو قلیل اور طویل مدتی منصوبے جلد ازجلد وزیر اعظم ہاوس پیش کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔ نئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سی پیک ، توانائی بحران کے خاتمہ ، دہشت گردی کے خاتمہ اور تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ “
اگرچہ شاہد خاقان عباسی کی حکومت کو سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف حکومت کی توسیع کہنا غلط نہیں ہوگا مگر یہ امید بھی کی جاسکتی ہے کہ نئے وزیر اعظم کسی نہ کسی حد تک عوامی مشکلات کو حل کرنے میں پیش رفت دکھائیں۔ اہمیت کی حامل بات یہ ہے کہ عام انتخابات کو اب زیادہ عرصہ نہیں رہ گیا۔ مسلم لیگ ن کے سنجیدہ حلقے بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ چار سال گزر نے کے باوجود پی ایم ایل این ان اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی جس کی بجا طور پر ضرورت تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں عوام سے کیے گیا کوئی بھی وعدہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا۔یہ بتانے کی ضرور ت نہیں کہ میاں نوازشریف اپنی انتخابی مہم میں عوام سے یہ کہہ کر ووٹ طلب کرتے رہے کہ ان کے پاس ہر شبعہ میں تجربہ کار ٹیم ہے جو اپنے تجربہ کی بنا پر مسائل کو بروقت حل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تیسری بار وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود میاں نوازشریف اس بات کا ادراک نہ کرسکے کہ پاکستان بدل چکا ہے یعنی نوئے کی دہائی کے سیاسی حربہ کسی طور پر کارآمد نہیں رہے۔ پرنٹ والیکڑانک میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استمال شہری علاقوںکے علاوہ دیہاتوںمیں بھی اپنا جادو جگا رہا۔ مسلم لیگ ن کی مشکل یہ بھی رہی کہ اسے عمران خان کی شکل میںایسے سیاسی حریف سے پالا پڑا جس نے کسی طور پر انھیں لاپرواہ نہ ہونے دیا۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ لیکس کے مقدمہ میں میاں نوازشریف کا عمر بھر کے لیے نااہل ہونا پی ٹی آئی سربراہ کی بڑی کامیابی ہے۔
مسلم لیگ ن کی نئی کابینہ ایسے موقعہ پر سامنے آئی جب چند روز کے بعد ہی شریف فیملی کے خلا ف احتساب عدالتوں میں مقدمات کی سماعت شروع ہونے جارہی ۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج ان تمام ریفرنسز کی نگرانی کریں گے ۔نیب کو پابند کیا گیا کہ وہ چھ ماہ کے اندار ان ریفرنسر کا فیصلہ کرکے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق کہ آنے والے دن مسلم لیگ ن کا کڑا امحتان ثابت ہونگے ، ایک طرف عدالتوں میں مقدمات کی سماعت ہوگی تو دوسری جانب بنیادی ضروریات زندگی سے محروم حکومت سے وعدوں کی تکمیل چاہیں گے۔

Scroll To Top