گلوبل وارمنگ سے فصلوں میں پروٹین کی مقدار کم ہو جائیگی

kبھارتی کسان امرتسر کے نواح میں چاول کاشت کررہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

میامی: ہماری فضاؤں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار مسلسل بڑھ رہی ہے جس سےعالمی درجہ حرارت میں اضافےبڑھ رہا ہے۔ اس کے کئی مضر اثرات ہمارے سامنے ہیں اور اب مزید بری خبر یہ ہے کہ عالمی تپش ان اجناس میں پروٹین کی مقدار گھٹا دے گی جسے آپ اور میں بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ 

ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اب تک یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ کس طرح فضا میں بڑھتی ہوئی کاربن ڈائی آکسائیڈ مختلف فصلوں میں پروٹین اور دیگر غذائی اجزا کم کر سکتی ہے لیکن اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

بری خبر یہ ہے کہ 2050 تک اسی وجہ سے 15 کروڑ افراد پروٹین کی قلت کے شکار ہو جائیں گے اور بچوں کی نشوونما پر مضر اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کی تفصیلی تحقیق اینوائرمینٹل ریسرچ لیٹرز میں شائع ہوئی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی جانب سے کی جانے والی یہ پہلی تحقیق ہے جس میں گلوبل وارمنگ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے فصلوں پر پروٹین کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

کھلے کھیتوں میں تحقیق

ماہرین نے کھیتوں اور کھلیانوں میں موجود پودوں اور درختوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زائد مقدار کا جائزہ لیا اور پروٹین میں کمی کا جائزہ لینے کے لیے اقوامِ متحدہ کی عالمی غذائی معلومات کا ڈیٹا دیکھتے ہوئے اس کا موازنہ کیا کیونکہ اگر خوراک میں پروٹین کم ہو تو بچوں میں اموات، قد اور جسمانی افزائش میں رکاوٹ اور دیگر بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔

ماہرین ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ اگر ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھ جائے تو پودے اور درخت نشاستہ (اسٹارچ) زیادہ بنانے لگتے ہیں اور ان میں پروٹین اور دیگر مفید غذائی اجزا کی مقدار اسی تناسب سے گھٹنے لگتی ہے لیکن اب تک اسے ایک مفروضے کی ہی حیثیت حاصل ہے۔

ایک اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھنے سے دنیا میں سب سے زیادہ کھائی جانے والی اجناس میں فولاد اور زِنک کی کمی بھی پیدا ہوسکتی ہے جس سے انسانی آبادی کی خوراک میں یہ اہم اجزا تیزی سے کم ہوکر کئی مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

افریقا اور ایشیا شدید متاثر ہوں گے

ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھنے سے جَو میں 14.6 فیصد، چاول میں 7.6 فیصد، گندم میں 7.8 فیصد اور آلوؤں میں 6.4 فیصد پروٹین  کم ہوجائے گی۔

رپورٹ کے مطابق 2050 تک تقریباً 18 ممالک اپنی فصلوں میں پروٹین کی 5 فیصد مقدار کھو دیں گے اور ان میں افریقا اور ایشیا کے غریب ممالک شامل ہیں جہاں پہلے ہی آبادی خوراک میں پروٹین کی کمی سے دوچار ہے۔

Scroll To Top