ضرورت سے زائد نیند ڈراؤنے خواب کی وجہ بن سکتی ہے

gاگر آپ 8 گھنٹے سے زائد سوتے ہیں یا دن رات پریشان رہتے ہیں تو امکان ہے کہ آپ کو ڈراؤنے خواب ذیادہ دکھائی دیں گے۔ فوٹو: فائل

ہارورڈ: اگر آپ ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں تو اس کی وجہ 8 گھنٹے سے زائد کی نیند یا پھر سوتے وقت پریشان کن سوچ ہو سکتی ہے۔

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خوفناک خواب انہیں زیادہ دکھائی دیتے ہیں جو کسی ذہنی یا جسمانی حادثے سے گزرنے کے بعد صدمے (پی ٹی ایس ڈی) سے دوچار ہوتے ہیں اور یہ انکشافآکسفورڈ یونیورسٹی کی اسٹیفینی ریک اور ان کے ساتھیوں نے ایک بڑی آبادی میں بھیانک خوابوں کا جائزہلینے کے بعد کیا ہے۔

مطالعے میں 846 افراد اور نیند پر ہونے والے اہم ڈیٹا بیس کا جائزہ بھی لیا گیا جس میں شرکا سے گزشتہ 15 دن کی نیند اور ڈراؤنے خوابوں پر سوالات پوچھے گئے اور ڈراؤنے خوابوں کی شدت ناپنے کے لیے ایک پیمانہ بھی بنایا گیا۔ ہر رضاکار سے ان کی زندگی کے تلخ تجربات، طلاق و قانونی مسائل، شراب نوشی اور فکر و پریشانی کے بارے میں سوالات بھی کئے گئے۔

پریشانی اور بھیانک خواب

ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جو لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند تھے یا روزمرہ معاملات سے پریشان تھے انہیں ڈراؤنے خواب زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ پھر یہ بھی خیال رہے کہ سونے سے پہلے منفی اور پریشان کن خیالات آنکھ بند ہونے کے بعد ڈراؤنے خوابوں کی وجہ بنتے ہیں۔ اس لیے بستر پر جانے سے قبل اچھی باتیں سوچیے اور ڈراؤنے خوابوں سے چھٹکارا پائیں۔

دوسری جانب ٹیم نے یہ بھی معلوم کیا کہ جو لوگ 9 گھنٹے سے زائد وقت تک سوتے ہیں ان میں ریپڈ آئی موومنٹ (آرای ایم) کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور عین اسی حالت میں ڈراؤنے خواب زیادہ نظر آتے ہیں۔ اس مطالعے میں شراب نوشی یا ورزش کرنے یا نہ کرنے سے خوابوں کے درمیان کوئی خاص تعلق سامنے نہیں آیا۔ نہ ہی کسی مخصوص خوراک سے پریشان کن خوابوں کا کوئی تعلق واضح ہوا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ نیند کم کر کے اور سوتے وقت پرسکون اور مثبت سوچ کے ساتھ  ڈراؤنے خوابوں کی تعداد کم کی جاسکتی ہے۔

Scroll To Top