بھارت کو تشدد کی قیمت ادا کرنا ہوگی

zaheer-babar-logoبھارت میں ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر کیے جانے والے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ۔ حال ہی میں معروف مسلمان باڈی بلڈر نوید پٹھان کو سرے عام قتل کردیا گیا۔ اٹھارہ جولائی ریاست مہاراشٹر میںتلواروں اور لاٹھیوں سے مسلح ہندووں نے نوید پٹھان کو جم سے باہر نکالا اور سرعام تشدد کرکے قتل کریا ۔ قریبی عمارت پر لگے سیکورٹی کیمرے نے ان تمام ہولناک مناظر کو فلم بند کرلیا اور نوید پٹھان کے قتل کی وڈیو وائرل ہوگی۔ پولیس کا دعوی ہے کہ اس نے واقعہ میںملوث 7 افراد کو گرفتار کرلیا ۔ ایک اور واقعہ بھارت کی مشرقی ریاست جھارکنڈ کے ضلع بوکارو میں پیش آیا جہاں کمپویٹر کی دوکان پر کام کرنے وال نوجوان مسلمان شاکر کو ہرہنہ کرکے جنونی ہندووں نے نشانہ بنایا۔ مذکورہ واقعہ کی وڈیو بھی منظر عام پر آچکی ۔ پولیس کے مطابق شاکر پر الزام یہ ہے کہ اس نے نابالغ بچی کو چھیڑا جبکہ شاکر کے اہل خانہ کے بعقول یہ تشدد مذہبی منافرت کی بنا پر رونما ہوا۔اطلاعات کے مطابق شدید تشدد کے باعث شاکر کی حالت تاحال خطرے میں ہے۔
دوسری جانب بھارت میں جنونی ہندووں کی جانب سے مسلمانوں سمیت دیگر اقتلیوں کے پر حملوں کے خلاف انڈین آرمڈ فورسز کے ریٹائر فوجیوں نے مودی کو کھلا خط لکھا ہے۔ فوجیوں نے ہندوتوا کی حفاظت کے لیے خود ساختہ محافظوں اور ان کی جانب سے وحشیانہ حملوںکو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ کھلے خط میں فوجیوںکا کہنا ہے کہ وہ اس بربریت کے خلاف” ناٹ ان مائی نیم “ مہم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مودی کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہناتھا کہ ان حملوں کو معاشرے میں ہم غیر متوقع طور پر دیکھ رہے ہیں۔ سابقہ بھارتی فوجیوں نے اپنے خط میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ ہمارے خدشات پر غور کریں اور ہمارے آئین کی روح کا احترام کریں۔ “
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار ریاست میں انسانیت کی تذلیل پر مبنی جو واقعات پہ درپہ رونما ہورہے وہ تشویشناک ہونے کے ساتھ ساتھ قابل مذمت بھی ہیں۔ اعداد وشمار کے اعتبار سے بھارت میںمسلمان 14فیصد جبکہ ہندووں 80 فیصد ہیں مگر ماضی کے برعکس بڑھتا ہوا تشدد عملی طور پر اکثریت کی جانب سے دہشت گردی کی شکل اختیار کرچکا۔بظاہر ان واقعات کی بنیادی وجہ ملزموں کو قرار واقعی سزا نہ ملنا ہے۔ بھارت میں ان دنوں بی جے پی کی حکومت تو ہے ہی مگر نریندر مودی کی شکل میں وزارت عظمی کے منصب پر ایسا شخص براجمان ہے جس کے اپنے ہاتھ مسلمانون کے خون سے رنگین ہے۔ اب سیکولر کہلانے والے بھارت میں مسلمان خواتین کی آبرو ریزی کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا۔
باضمیر بھارتی شہریوں کا درپیش صورت حال پر تشویش میںمبتلا ہونا حیران کن نہیں۔ پڑوسی ملک میں ایک دو نہیں کئی مذاہب بستے ہیں۔یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی کہ اگر آج ہندو انتہاپسندوں کے نشانہ پر مسلمان اور دلت ہیں تو کل دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ بھارت میں رونما ہونے والے ان خون آشام واقعات کے خلاف بھرپورآواز بلند نہیں ہورہی۔ خیال کیا جارہا ہے کہ عام شہری ان واقعات سے یا تو خوف ذدہ ہے یا پھر مصلحت کا شکار ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ آنے والے دنوں میںیہ معاملہ کیا شکل اختیار کریںگے۔
سیاسی طور پر بھارتیہ جتنا پارٹی اس وقت عروج پر ہے۔ مسقبل قریب میں اس کا امکان کم ہے کہ کانگریس ایک بار پھر نئی دہلی میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آجائے۔راہول گاندھی کی شکل میں کانگریس کی نئی قیادت میں ایسی قابلیت دکھائی نہیں دے رہی جو اسے پھر بام عروج تک پہنچا دے۔ سیاسی صورت حال پر نگاہ رکھنے والے حلقوں کے بعقول بھارت میں سیکولرجماعتوں کی حمایت میںکمی بھارتیہ جتنا پارٹی اور اس کی ہم خیال ساسی جماعتوں کی طاقت میں اضافہ کا سبب بن رہیں۔
یقینا پاکستان بھارتی مسلمانوںکی حالت زار سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ وزرات خارجہ مقبوضہ کشمیر سمیت بھارتی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ہونے والے حملوں پر عالمی برداری کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے مگر معاملہ اس سے کئی گنا زیادہ گھبیر ہے۔ پاکستان سمیت علاقائی اور عالمی طاقتوں کو بھارت میں حقیقی معنوں میں سیکولر حلقوں کی حوصلہ افزا کرنا ہوگی۔ بھارت کے سابق فوجیوں کا نریندر مودی کو کھلا خط خوش آئند ہے مگر علاقائی اور عالمی سطح پرکوشش کرنا ہوگی کہ مذید لوگ بھی مودی کی انتہاپسند انہ پالیسوں کے خلاف سامنے آئیں ۔” ناٹ ان مائی نیم “ جیسی مہم کو کامیاب بنانے کی ضرورت ہے۔ بھارت کے سوچنے سمجھنے والے حلقوںکو جان لینا چاہے کہ انتہاپسند ہندووں کی جانب سے مسلمان سمیت پر کسی بھی اقلیت کے خلاف ہونے والا حملہ معاشرے کو انتہاپسندی کی جانب لے جارہاہے۔ اکھنڈ بھارت کا خواب جس دن شرمندہ تعبیر ہوگیا وہ دن بھارت کے زوال کا دن ہوگا۔ بھارتی مسلمانوں پر ہونے والے پر تشدد واقعات حقیقی معنوں میں دوقومی نظریے پر مہر تصدیق ثبت کررہے۔ ماننا پڑے گا کہ تقسیم ہند کا فیصلہ نہ صرف درست تھا بلکہ اس کو بنیاد بنا کر آج بھارت میں مذید خودمختار ریاستوں کی راہ ہموار کرنا ہوگی ۔ کہتے ہیں کہ ہر عمل کا ردعمل ہوا کرتا ہے۔ بھارت میںمسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تشدد مسقبل قریب میں بھارت کے لیے کیسے حالات پیدا کرے گا یہ دیکھنے کے لیے شائد زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے۔

Scroll To Top