کچھ شریف النفسی کے بارے میں 10-12-2011

kal-ki-baatاگر دوبرس قبل چوہدری شجاعت حسین آ ج کا اخبار پڑھ سکتے اورصفحہ اول پر اپنا بیان پڑھتے تو مجھے یقین ہے کہ یا تو وہ حواس باختہ ہوکر اپنی انگلی دانتوں سے کاٹتے یا پھر اپنے وکیل کو بلا کر کہتے کہ اخبار کے پبلشر اور ایڈیٹر پر ہتک عزت اور ہرجانے کا دعویٰ کردو۔
آپ یقینی طور پر سوچ رہے ہوں گے کہ میں کس بیان کی بات کررہا ہوں ` تو آج کل چوہدری صاحب کو ن سا ایسا بیا ن دیتے ہیں جس میں جناب آصف علی زرداری کی درازی ءعمر اور درازیءصدارت کے لئے دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی دعائیں نہیں ہوتیں ؟
بات یہ کچھ ” اسلام “ قبول کرلینے جیسی ہی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ چوہدری صاحب نے ” اسلام “ کب اورکن حالات میں قبول کیا ` اور یہ بھی کہ ” اسلام “ نے بھی کب اور کیسے چوہدری صاحب کو قبول کیا۔ مگر پھربھی دل و دماغ میں اتنا بڑا انقلاب آنا کسی معجزے سے کم نہیں۔” زمانہ ءقبل از قبولِ اسلام “میں چوہدری صاحب کے منہ سے غلطی کے ساتھ بھی پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کے اکابرین کا نام نکل جایا کرتا تھا تو وہ وضو کے بغیر اپنے آپ کو پاک صاف محسوس نہیں کیا کرتے تھے۔ اور آج کا زمانہ دیکھیں! چوہدری صاحب جب تک بصد ادب و احترام زر داری صاحب کا نام نہیں لے لیتے ` خود کو ” باوضو“ محسوس نہیں کرتے۔
ہماری قومی سیاست کچھ ایسا ہی ” کارخانہ ءکرشمہ ساز “ ہے۔ یہاں میں یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ جن سیاست دانوں کو میں قدرے قریب سے جانتا ہوں ان میں چوہدری صاحب کو میں نے سب سے زیادہ شریف النفس پایا۔
بالکل اسی طرح جس طرح کالم نگاروں میں سب سے زیادہ ” شریف النفس “ میں عطاءالحق قاسمی صاحب کو سمجھتا ہوں جنہوں نے گزشتہ شب میاں نوازشریف کے اعزاز میں ایک شاندار دعوت کا اہتمام کرکے اپنی ” شریف النفسی “ کا مظاہرہ کردکھایا۔ آئندہ جب بھی آپ محترم قاسمی صاحب کا کوئی ایسا کالم پڑھیں گے جس میں میاں صاحب کو ” مشکل کشا “ اور عمران خان کو ” مشکل ساز “ ثابت کیا گیاہوگا تو آپ کو وجہ جاننے اور سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔ قرون اولیٰ اور قرون وسطیٰ میں بھی فرماں روا اپنے درباروں میں قصیدہ خواں رکھا کرتے تھے!

Scroll To Top