شریف فیملی میں سب اچھا نہیں رہا !

zaheer-babar-logoبلاشبہ پنجاب کے صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کا کہنا خاصی اہمیت کا حامل ہے کہ مسلم لیگ ن کے اراکین کی اکثریت شہباز شریف کو پنجاب کی وزرات اعلی سے ہٹا کر وزیراعظم بنانے کے حق میں نہیں۔ غیر ملکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ ان کی ذاتی رائے بھی یہی ہے کہ میاں شبہاز شریف کو اس مرحلے پر وزیر اعلی پنجاب کے منصب سے ہٹا کر مرکز میں نہیں لے جانا چاہے۔ دوسری جانب رانا ثناءاللہ نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی تقریب حلف برداری میں شہباز شریف کی غیر حاضری اور قائد ایوان کے انتخاب کے موقعہ پر حمزہ شہباز کے موجود نہ ہونے کو ہرگز اہمیت نہ دی۔ صوبائی وزیر قانون نے شریف فیملی میں اندرونی اختلافات کی بھی سختی سے تردید کی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے میاںنوازشریف کو تاحیات نااہل قرار دینے کے سیاسی اثرات سے انکار نہیںکیا جاسکتا۔ سابق وزیر اعظم اور ان کے قریبی حلقوں کی یہ رائے کسی طور پر درست نہیں کہ میاںنوازشریف کو محض اس بنا پر نااہل قرار دے دیا گیا کہ انھوں نے اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی۔ اہل پاکستان کی اکثریت باخوبی آگاہ ہے کہ سابق وزیر اعظم اور ان کے خاندان پر کروڈوں نہیں اربوں روپے کی ہیرا پھیری کا الزام ثابت ہوا۔ شریف فیملی نہ صرف ملک کے اندر درجنوں کاروبار جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ وہ بیرون ملک کئی کمپنیوں کے مالک ہیں۔ عدالت عظمی کی جانب سے تشکیل دی گی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں جس قسم کے انکشافات ہوئے وہ میاں نوازشریف تو کیا پوری پاکستانی قوم کو شرمسار کرگے۔ اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا کہ نہ شریف فیملی اور نہ ہی ان کے حامی ان مالی بدعنوانیوں پر شرمندگی کا اظہار کررہے جس پر سپریم کورٹ کی جانب سے مہر تصدیق ثبت کی جاچکی۔
افسوس کہ پاکستان مسلم لیگ ن سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت اعلی عدلیہ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کررہی۔حد تو یہ ہے کہ نئے منتخب ہونے والے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو انصاف پر مبنی نہیں قرار دے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں عدالتوں سے پی ایم ایل این کے حق میں ایک نہیں کئی فیصلے سامنے آئے جسے شریف خاندان نے انصاف کی فتح قرار دے کر قبول کیا۔ شریف خاندان کو آج نہیں تو کل اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ اگر کسی بھی ملک کے نظام انصاف کو متنازعہ بنا دیا جائے تو پھر وہ سیاسی استحکام کا خواب کیونکر شرمندہ تعبیر ہوگا۔
ادھر تازہ پیش رفت یہ ہوئی چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار نے پانامہ لیکس کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے جناب جسٹس اعجاز الحسن کو نگران جج مقرر کردیا ہے۔ عدالت عظمی کے 28جولائی کے فیصلے میں ایک طرف میاں نوازشریف کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیا گیا تو دوسری جانب ان کے بچوں مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز ، داماد کپٹن ریٹائر صفدر اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس دائرکرنے کا بھی حکم دیا تھا۔ عدالت عظمی نے نیب کو چھ ہفتوں میں ریفرنس دائرکرنے اور چھ مہینوں میں رپورٹ مکمل کرکے عدالت میں پیش کرنے کا بھی کہا تھا ۔ رجسڑار آفس کی جانب سے اس ضمن میں نوٹفکیشن بھی جاری کردیا گیا جس کے مطابق سپریم کورٹ کے فاضل جج جناب جٹس اعجاز الحسن پانامہ فیصلے پر عمل درآمد کے نگران ہونگے اور اس کے ساتھ نیب اور احتساب عدالت میں جاری کاروائیوںکی بھی نگرانی کریں گے۔ نوٹفکیشن کے مطابق جناب جسٹس اعجاز الحسن اس وقت بیرون ملک ہیں لہذا ان کی عدم موجودگی میں جناب جسٹس اعجاز افضل مانیٹرنگ کے فرائض سرانجام دیں گے،“
یقینا پانامہ لیکس میں عدالت عظمی کے فیصلے نے قومی سطح پر مثال قائم کی۔ میاںنوازشریف کی نااہلی سے قبل یہ تاثر عام تھا کہ یہاں کسی بھی طاقتور شخص کے خلاف قانون کی بالادستی قائم کرنا ممکن نہیں۔ عدالت عظمی کے پانچوں ججز داد تحسین کے مستحق ہیں جنھوں نے تمام تر دباو اور دھونس کو نظر انداز کرتے ہوئے تاریخ رقم کردی۔ پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ کے فیصلے نے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند کیا ۔ آج عالمی برداری اپنی اس رائے پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہے کہ پاکستان میں قانون پر عمل داری صرف اور صرف کمزور طبقہ کے لیے ہے۔
اس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے کہ میاں نوازشریف گذشتہ 35 سال سے قومی سیاست میں پر چھائے ہوئے ہیں مگر ان کی جانب سے کھلے دل سے عدالت عظمی کے فیصلے کو قبول نہیں کیا گیا۔پی ایم ایل این کے قائدین پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر بدستور رائے زنی کررہے۔ شریف فیملی کے خلاف فیصلے آنے سے قبل مسلم لیگ ن کے حامی اور مخالف امید کررہے تھے کہ ایک پختہ سیاسی جماعت ہونے کی دعویدار پارٹی کسی طور پر غیر زمہ دارنہ طرز عمل اختیار نہیں کریگی مگر باجوہ ایسا نہ ہوا۔
اس پس منظر میں صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کی جانب سے شبہازشریف کو وزیراعظم نہ بننے کی تجویز دینا شریف خاندان کے اندر جاری اس کشمکش کی نشاندہی کررہی جو کئی سالوں سے جاری وساری ہے۔ایک خیال یہ ہے کہ میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد حمزہ شہباز کو وزیراعظم نہ بنانا اس خیلج کو مذید گہرا کرگیا لہذا آنے والے دنوں میں شریف فیملی قانونی ، سیاسی اور خاندانی تنازعات پر کس حد تک قابو پاتی ہے یہ دیکھنے کے لیے شائد زیادہ دن انتظار نہ کرنا پڑے۔

Scroll To Top