سازش !۔ میمو گیٹ !!۔ ایٹمی اثاثے !!! 01-12-2011

kal-ki-baatسارے کے سارے بیانات ہماری انفرادی اور قوم کی اجتماعی ذہانت کا امتحان لیتے نظر آتے ہیں۔ صدر زرداری نے اپنی جماعت کے 45ویں یوم تاسیس کے موقع پر فرمایا ہے کہ موجودہ جمہوری نظام اور ان کی حکومت کے خلاف جو سازشیں ہورہی ہیں پی پی پی کو انہیں ناکام بنانے کے لئے سینہ سپر ہونا ہوگا۔
انہوں نے سازشوں کے مرکز کی نشاندہی نہیں کی اور نہیں بتایا کہ سازش کی بُو انہیں کہاںسے آرہی ہے ¾ رائے ونڈ سے راولپنڈی سے یا اُس پرشکوہ عمارت سے جو پارلیمنٹ کے پہلو میں کھڑی نظر آتی ہے۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ سازش گھر کے اندر ہی کہیں پنپ رہی ہو!
وزیراعظم گیلانی نے فرمایا ہے کہ” میمو گیٹ“ کے تانے بانے اگر ملائے جانے ہیں تو صدر زرداری سے جاکر نہیں مل سکتے ' خود اُن کے یعنی وزیراعظم کے ساتھ آملےں گے۔ یہ بیان گیلانی صاحب کے ” شوقِ ایثار “ کی بھرپور عکاسی کرتا ہے ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ جب واشنگٹن کے دماغ 2008ءمیں پاکستان کی نئی حکومت کا ڈھانچہ تیار کررہے تھے تو گیلانی صاحب ہنوز وزارت عظمیٰ کے امیدواروں میں ہی تھے۔ امریکی انتظامیہ میں بہت سارے لوگ ان کا نام تک نہیں جانتے تھے۔
ایک بیان نجم سیٹھی صاحب کا بھی قابل ذکر ہے۔ اس میں انہوں نے کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی صاحب کو ایٹمی اثاثوں کے خطرے میں ہونے کا ذکر نہیںکرناچاہئے کیوں کہ وہ ماضی میں کئی بار ایٹمی اثاثوں کے محفوظ ہونے کی بات بھی کرچکے ہیں۔
یہاں جو نکتہ سمجھنے کا ہے وہ یہ ہے کہ جب امریکی ذرائع پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں تو ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کہیں وہ اسلامسٹوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔
شاہ محمود قریشی نے جب یہ کہا کہ زرداری صاحب کی موجودگی میں ایٹمی اثاثے خطرے میں ہیں تو وہ یہ الزام لگاناچاہ رہے تھے کہ زرداری صاحب امریکہ کی خوشنودی کے لئے ایٹمی اثاثوں کے ساتھ وہ سلوک کرسکتے ہیں جو امریکہ چاہتا ہے کہ ہم کریں !
سازش !۔۔ میمو گیٹ !!۔۔ ایٹمی اثاثے !!!
کہیں یہ سارے بیانات ایک ہی سلسلے کی کڑیاں تو نہیں ؟

Scroll To Top