اب وہ وقت دور نہیں جب ہم اپنا حرم بتوں سے پاک کردیں گے

aaj-ki-baat-new-21-aprilتمو جن منگولیا کا ایک معمولی چرواہا تھا۔ ایک قبیلے کے سردار زادے کی دشمنی نے اسے ایک ایسی راہ پر ڈال دیا جو اسے تاریخ کے صفحات پر لے گئی۔ ہم اسے چنگیز خان کے نام سے جانتے ہیں۔

یہ بات نیپولین نے کہی تھی کہ وہ قوم خوش قسمت ہوا کرتی ہے جس کا کوئی دشمن ہوتا ہے کیوں کہ دشمن کا وجود ہی رگوں میں حرارت ` جذبوں میں امنگ اور زندگی میں مقصد پیدا کرتا اور قائم رکھتا ہے۔
اور ہٹلر نے تو ثابت کردیاکہ دشمن سے نمٹنے کا عزم جب مثلِ فولاد ناقابل شکست بن جاتا ہے تو ایک کچلی ہوئی بے بس قوم بھی دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسے طوفان کا درجہ دھار لیا کرتی ہے جس کے سامنے قوت و حشمت کے مینار بھی ریت کے گھروندے ثابت ہوتے ہیں۔
بسمارک نے تقریباً سوا صدی قبل کہا تھا کہ دشمن جتنا طاقتور ہوگا ` اس کا مقابلہ کرنے کے لئے طاقت کے حصول کی امنگ اتنی ہی شدید اور عظیم ہوگی ۔ ” جرمنی کو عظیم اس کے دشمنوں نے بنایا ہے۔“
مجھے یہ تمام باتیں لکھنے کی ضرورت اُس شکست خوردہ اور ” حقیقت پسند “ سوچ کی یلغار کے پیش ِنظر محسوس ہورہی ہے جو ” اہل ِ پاکستان “ کو اِن زمینی حقائق سے سمجھوتہ کرلینے کی ترغیب یا دعوت دے رہی ہے کہ نہ تو ہم ” امریکی فیاضی “ سے محروم ہو کر زندہ رہ سکتے ہیںاور نہ ہی ” بھارتی عزائم “ کو للکار نے کی حکمت عملی جاری رکھ کر ” امن کی برکات “ سے فیضیاب ہوسکتے ہیں۔
اگر ہم اپنے پاکستان کو بحرانوں کے طوفانوں سے نکال کر سلامتی اور ترقی کے ساحلوں پر لے جانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اس سوچ کے خلاف سینہ سپرہونا پڑے گا اور جنگ لڑنی پڑے گی جو ہمارے دلوں پر ہمارے دشمنوں کی طاقت کا رعب دبدبہ اور خوف طاری کرنا چاہتی ہے۔
ہم اس فاتح اعظم کی امت ہیں جو بے سروسامانی کے عالم اور رات کے اندھیرے میں اپنا گھر بارچھوڑ کر ایک ایسے سفر پر نکلے تھے جو بنی نوع انسان کی تاریخ کے سب سے بڑے انقلاب کا باعث بنا۔ وہ سفر جو مفلسی کی گو د میں پرورش پانے والے مٹھی بھر ”رجالِ بے سروسامان ‘ ‘ کو قیصر و کسریٰ کی ناقابلِ تسخیر فصیلوں سے ٹکرانے کے لئے اتنی دور لے گیا کہ پھر انہوں نے کبھی پلٹ کر نہ دیکھا۔۔۔!
یہ قوم ایک بار نہیں بار بار اٹھی ہے۔ اور جب بھی اٹھی ہے اس کے شوقِ سفر کے سامنے زمین کی وسعتیں سمٹ گئی ہیں ۔
جتنی رسوائی ہمارے مقدر میں تھی ` اس کا سامنا ہم کرچکے ہیں۔ اب وہ وقت دور نہیں جب ہم اپنا حرم بتوں سے پاک کردیں گے۔
(یہ کالم 30-11-2011
کو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top