شاہد خاقان عباسی کچھ کر پائیں گے؟

zaheer-babar-logoپاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے شاہد خاقان عباسی ملک کے نئے وزیراعظم منتخب ہوچکے۔ قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں انھوں نے 221 ووٹ حاصل کیے جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے سید نوید قمر 47 ،پاکستان تحریک انصاف کے شیخ رشید احمد نے 33 اور جماعت اسلامی کے حافظ طارق اللہ نے چار ووٹ حاصل کیے ۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مسلم لیگ ن نے شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم نامزد کرکے قومی اداروں کو پیغام دیا ہے کہ وہ کسی طور پر تصادم کے موڈ میں نہیں۔ شاہد خاقان عباسی بارے ان کے حامی اور مخالفین دونوں کا کہنا ہے کہ نئے وزیراعظم صلح جو شخصیت ہیں جو کسی طور پرتصادم پر یقین نہیںرکھتے۔ پی ایم ایل این کے پارٹی زرائع کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ مشاورت میں معاملات کو تحمل سے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ مسلم لیگ ن میںاکثر وبیشتر شاہد خاقان عباسی اور شہبازشریف کی رائے میںمماثلت نظر آئی۔ یاد رہے کہ مری سے تعلق رکھنے والے شاہد خاقان عباسی کے والد خاقان عباسی کا شمار مرحوم صدر ضیاءالحق کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتا تھا۔ خاقان عباسی 1988 کے اوجڑی کیمپ سانحہ میں جان بحق ہوئے تو اسی سال شاہد خاقان عباسی پارلیمانی سیاست میں داخل ہوئے اور قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ شائد خاقان عباسی اب تک ہونے والے ہر الیکشن میں کامیاب ہوئے سوائے 2002 کے انتخاب کے۔
ادھر منگل کو قومی اسمبلی میں قائدایوان کے انتخاب کے موقعہ پر مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی میاں نوازشریف کی تصویر کے ہمراہ ایوان میں داخل ہوئے۔ ہال اس وقت بھی وزیراعظم نوازشریف کے نعروں سے گونجتا رہا جب سپیکر ایاز صادق نے شاہد خاقان عباسی کی کامیابی کا اعلان کیا۔ یہ امر باعث اطمنیان ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد نئے قائدایوان کا انتخاب خوش اسلوبی سے عمل میں آیا۔ درحقیقت جمہوریت اسی کا نام ہے کہ شخصیات کی بجائے نظام کو اہمیت دی جائے۔ مملکت خداداد پاکستان میں جمہور کی بالادستی کا خواب اسی صورت شرمندہ تعبیر ہوگا جب پاکستان کے عام شہری کے مفاد کو اہمیت دی جائے جس کی اب تک کوئی بھی داد رسی کرنے کو تیار نہیں۔ بلاشبہ پارلیمانی نظام حکومت میں سیاسی جماعتوں کا کردار کسی سے مخفی نہیں۔ ملک میں ضرورت ہے کہ پارٹیاں عوام کے ساتھ روابط کو فروغ دیں۔
مسلم لیگ ن کے لیے یقینا لمحہ فکریہ ہے کہ ان کے قائدمیاں نوازشریف کے سپریم کورٹ سے تاحیات نااہلی کے باوجود لاہور سمیت ملک کے طول وعرض میں کہیں بھی بھرپور احتجاج دیکھنے کو نہیںملا۔ افسوس کہ رائج جمہوریت کو اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرتا ہوا نظام کہنا غلط نہیں ہوگا۔ کون انکار کرسکتا کہ دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک میں مقامی حکومتوں کے نظام کے بغیر جمہوریت کا تصور نہیں۔ مگر ہمارے ہاں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب جواد ایس خواجہ کی بھرپور کوشش کے بعد مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد ہوا، نتائج کا اعلان بھی کیا گیا لیکن گلی محلوں کے نمائندوں کو اختیار نہ دیا گیا۔ بلاشبہ سیاسی جماعتوں کا مقامی حکومتوں کے نظام کو اہمیت نہ دینا رائج نظام کو وہ تاریک پہلو ہے جو خود ان کی بقا وسلامتی کے لیے نیک شگون نہیں۔
نئے قائد ایوان شائد خاقان عباسی نے اپنے انتخاب کے فورا قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ 45 دنوں کے لیے آئے ہیں مگر وہ ان میں 45 مہینوںکا کام کریں گے۔ے قائدایوان نے مسلم لیگ ن کی پالیسوںکو جاری رکھنے کے اعلان کے ساتھ ساتھ ملک سے ناجائز اسلحہ ختم کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ نئے وزیراعظم شائد خاقان عباسی کے ارادے اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ بطور وفاقی وزیر پیڑولیم وہ کسی طور پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے۔ زیادہ پرانی بات نہیں کہ ان کے دور میں ملک بھر میں پیڑول کا ایسا بدترین بحران پیدا ہوا کہ عوامی حلقوں نے ان سے استعفی دینے کا مطالبہ کرڈالا ۔
وطن عزیز میں اہل اقتداربارے عام تاثر یہی ہے کہ وہ کم ہی اپنے وعدوں کی تکمیل کرتے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرادی تو یہاں تک کہہ چکے کہ وعدہ کوئی قرآن وحدیث نہیں کہ ان پر عمل کیا جائے۔ پاکستان کے کروڈوں شہریوں کو بادی النظر میں اقتدار کے کھیل سے انھیں کو ئی لینا دینا ۔ بظاہر اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی اشرافیہ نے عام آدمی کو کبھی اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ کسی بھی سطح کی فیصلہ سازی میں اس کو شامل کیا جائے۔
یقینا مملکت خداداد پاکستان میںجمہوریت کے ننھے پودے نے تناور درخت بننا ہے چنانچہ رائج نظام اسی وقت شجر سایہ دار کہلائے گا جب اس کے سایہ میں اہل پاکستان کی اکثریت کی خواہشات عملی شکل اختیار کریں۔ بطور وزیراعظم شائد خاقان عباسی سے بڑی امید لگانا کسی طور پر درست نہ ہوگا ۔ وہ محض 6 ہفتوں کے لیے وزیراعظم بنے ہیں جس کا بڑا مقصد میاں شبہاز شریف کو وزرات عظمی کے منصب پر فائز کرانا ہے ۔ مسلم لیگ ن کے لیے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ کس طرح عوام سے کیے گے وعدوں کو عملی شکل دینے میںکامیابی ہوتی ہے جس کا وعدہ وہ گذشتہ چار سالوں میں کرتی چلی آرہی ہے۔ بظاہر آنے والے دنوں میںسیاسی درجہ حرارت بڑھنے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہونا خارج ازمکان نہیں۔

Scroll To Top