ہمارے اہل ِفکر اپنی سیاسی وفاداریوں کو کیوں چھپاتے ہیں ؟ 29-11-2011

kal-ki-baatمیڈیا آج کی دنیا میں جس ہمہ گیری کے ساتھ سیاسی رحجانات `رویوں `فیصلوں `وفاداریوں اور واقعات پر اثر انداز ہورہا ہے اس کا بڑا جامع اظہار ٹائم میگزین کے ایک ایڈیٹر فرید ذکریا نے اپنی ایک گزشتہ تصنیفThe Rise of the Restمیں کیا تھا۔ اس بات کو بھی اب تین برس گزر چکے ۔ تب بارک اوباما میڈیا کو اپنے سیاسی سفر کی سب سے موثر سواری بنا کر ایوانِ صدارت کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔ میڈیا کی طاقت کو جس مہارت سے اوباما نے اپنے سیاسی عروج کے لئے استعمال کیا تھا اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ مگر میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ یہ کبھی کسی کو ` تو کبھی کسی کوکاٹتی ہے۔ امریکہ کی گزشتہ صدارتی مہم میں یہ تلوار اوباماکے ہاتھ میں تھی اور اب اسی تلوار کی ایک دھار کا سامنا خود اوباما کو ہے۔
میں نے فرید ذکریا کی جس تصنیف کا ذکر کیا ہے اس کا موضوع یہ تھا کہ امریکہ اس لئے زوال پذیر نظر نہیں آرہا کہ اسے واقعی زوال کا سامناہے ` امریکہ کے زوال پذیر نظر آنے کی وجہ یہ ہے کہ باقی دنیا میں عروج کا سفر بڑی تیز ی کے ساتھ شروع ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں فریدذکریا نے چین کا ذکر بطور خاص کیا تھا۔
اس کتاب میں ایک باب میڈیا کے بارے میں بھی تھا۔ اس باب میں یہ نقطہ نظر اختیار کیا گیا تھاکہ میڈیا کے قلم اور کیمرے کی رسائی اب ایسی ایسی جگہوں تک ہوجاتی ہے کہ کوئی راز اب راز نہیں رہتا۔ دنیا کے تاریک ترین اور سب سے دور افتادہ علاقے میں بھی کوئی واقعہ ہوجائے تو بھی لوگ اس سے بے خبر نہیں رہتے۔
پاکستان کے سیاستدانوں کو آج میڈیا کی اسی طاقت کا سامنا ہے۔ یہاں میں اس بات کا ذکرضرور کروں گا کہ یہ طاقت جہاں مثبت اثرات ڈالنے کی خاصیت رکھتی ہے وہاں وہ محاورہ بھی یاد دلاتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ” بندر کے ہاتھ میں استرا آجائے تو ؟ “
اس ضمن میں کسی کا نام لینا میرے لئے مناسب نہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی سوچ رکھنے والے کسی بھی شخص کے لئے غیر جانبدار رہنا ممکن نہیں۔ غیرجانبداری منافقت کا دوسرا نام ہے۔ میں نے زندگی میں غیر جانبداری کا لبادہ کبھی نہیں اوڑھا۔
میں جب بھی قلم اٹھاتا ہوں یا کوئی بات زبان سے کہتا ہوں تو سب سے پہلے اعلان کرتاہوں کہ میں اسلام کے حق میں جانبدار ہوں۔ پاکستان کے حق میں جانبدار ہوں۔ یا پھر عمران خان کے حق میں جانبدار ہوں۔
اگر ناظرین سامعین یا قارئین کی آراءاور سوچوں پر اثر انداز ہونے والے ” ذہن “ بجائے منافقت سے کام لینے کے اپنی سیاسی وابستگیوں کا اظہار برملا کردیا کریں تو ہم سب کی نظروں میں ان کا قد بڑھ جائے گا۔دنیا بھر میں میڈیا اپنی پہچان اپنی سیاسی وابستگیوں کے ذریعے کرا دیا کرتا ہے۔ جیسے فاکس۔ جیسے سی این این۔ صرف ہمارا ملک ایسا ہے کہ یہاں ” اہلِ فکر“ اپنی ” فکر“ کو چھپا کر رکھتے ہیں۔

Scroll To Top