وزیر اعظم آزاد کشمیر کا ناقابل معافی جرم

zaheer-babar-logoسابق وزیر اعظم میاںنوازشریف کی سپریم کورٹ کی جانب سے نااہلی پر وزیراعظم آزاد کشمیر نے جو کچھ کہا اس پر مختلف سیاسی وسماجی حلقوں کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری ہنوز ہے۔ متنازعہ پریس کانفرنس کی ریکارڈنگ موجود ہے جس میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ ”سپریم کورٹ کی جانب سے نوازشریف کی نااہلی کے بعد سنجیدگی سوچنا پڑے گا کہ پاکستان سے الحاق کریں یا کسی اور ملک سے “۔ ٹی وی کمیروں کی چکا چوند میں دیا جانے والے بیان کے بعد راجہ فاروق حیدر ایک سے زائد بار پریس کانفرنس کرکے وضاحتیں دے رہے کہ میڈیا ان کے بیان کو توڈ موڈ کر پیش کیا بعقول ان کے کہ ” بیان کا مطلب یہ تھا کہ کشمیری الحاق پاکستان کے علاوہ کچھ نہیں چاہتے۔“
یاد رہے بیان محض وزیر اعظم آزاد کشمیر ہی نے نہیں دیا بلکہ اس افسوسناک چلن میں گلت بلتسان کے وزیراعلی میں بھی پیش پیش رہے جنھوں نے میاں نوازشریف کی نااہلی کو بغاوت قرار دے ڈالا۔“تاحال یہ واضح نہیں کہ پی ایم ایل این سے وابستہ دونوں شخصیات کے بیانات محض اتفاق ہیں یا کسی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ۔ دراصل مذکورہ دونوں شخصیات کے بیانات کو کو ایک قومی اخبار نے بھرپور اچھالا جس نے انھیں اپنے اخبار میں سپرلیڈ کی شکل دی۔ بادی النظرمیں ایسا نہیں کہ ہے کہ بڑے میڈیا گروپ ان بیانات کے مضر اثرات سے آگاہ نہ تھا سچ یہ ہے کہ مذکورہ گروپ پی ایم ایل این سے حق وفاداری نبھانے کے لیے اس حد تک چلا گیا۔
اس پر جس قدر افسوس کیا جائے وہ کم ہے کہ بعض اہم سرکاری عہدوں پر براجمان شخصیات کسی طور پر اپنے منصب سے انصاف نہیں کررہیں۔ ان کے لیے اول وآخر اپنے ذاتی اور گروہی مفادات مقدم ہیں، یہ حضرات اس نازک فرق کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ملک وقوم کا مفاد پارٹی مفاد سے بالاتر ہوا کرتا ہے۔ تسلیم کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتسان میں مسلم لیگ ن کی حکومتیں ہیں مگر میاں نوازشریف کی ”محبت “ میں ایسی حماقت کا ارتکاب جو لاکھوںنہیں کروڈوں پاکستانیوں کی روح کو گھائل کردے کہاں کی سیاست ہے۔
بظاہر آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کا بیان گلگت بلتسان کے وزیراعلی سے زیادہ خوفناک ثابت ہوا۔ بھارتی میڈیا نے جس انداز میں اسے لیا اس سے راجہ فاروق حیدر کے کہے ہوئے الفاظ میں چھپے زہر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ مقبوضہ وادی میں مسائل کے شکار بھارت کے لیے وزیراعظم آزاد کشمیر کا بیان نعمت سے کم ثابت نہیںہوا۔ ہمہ وقت پاکستان دشمنی پر آمادہ بھارتی میڈیا نے اسے پوری بدنیتی کے ساتھ نمایاں کیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بیان غلطی سے دیا تو پھر یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ اہم عہدے ہر اس قدر غیر زمہ دار شخصیت کو کیونکر تعینات کیا گیا دوسری جانب اگر منفی الفاظ انھوں نے سوچ سمجھ کر ادا کیے تو پھر یہ کسی طور پر بغاوت سے کم نہیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کے استعفی کا مطالبہ کرنے والے ہرگز غلط نہیں کر رہے۔ دکھائی یہ دے رہا کہ ایک طرف پاکستانی سیاست میں یہ معاملہ اٹھے گا تو دوسری جانب آزاد کشمیر کی سیاست میں بھی اس کے نتیجے میں ہلچل پیدا ہوگی۔ اسی پس منظر میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کو بھی مذکورہ بیان کے پس منظر میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔
افسوس کہ راجہ فاروق حیدر اس حقیقت کا ادراک کرنے میںناکام رہے کہ میاں نوازشریف سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں جن کے حامی اور مخالف پاکستان میں موجود ہیں مگر کشمیر کے پاکستان سے الحاق کرنے کا شائد ہی کوئی پاکستانی حامی نہ ہو۔ کشمیر پاکستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے راجہ فاروق حیدر کے بیان کی مذمت کرنے کا سلسلہ بدستور جاری وساری ہے۔ خیال یہ ہے کہ اب پاکستانی سیاسی ہلچل کے اثرات آزاد کشمیر اور گگلت بلتسان میں بھی محسوس کیے جاسکیں گے۔
ادھر عدالت عظمی کی جانب سے میاں نوازشریف کی نااہلی کو بنیاد بنا کر مسلم لیگ ن تادم تحریر جس حکمت عملی پر کاربند ہے اسے ہرگز زمہ دارنہ نہیں کہا جاسکتا۔ جمہوری ملکوں میںسیاسی شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں مگر کسی ایک کے لیے نظام کو داو پر لگانا ہرگز دانشمندی نہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز طے شدہ حکمت عملی کے تحت عدالت عظمی سمیت دیگر قومی اداروں کو نشانہ بنا رہی ۔ پوری قوت سے یہ تاثر دیا جارہا کہ میاں نوازشریف کے خلاف ملک کے اندر اور باہر سازش کی گی جس کے نتیجے میں انھیں اقتدار سے محررم ہونا پڑا۔ خود سابق وزیراعظم بھی سرعام کہہ رہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیںہوا۔ تاریخی طور پر مسلم لیگ ن کی قیادت عدالتوں سے ہمیشہ سرخرو ہوتی رہی ۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے پاکستان پیپلزپارٹی کے سینٹر اعتزاز احسن یوں بیان کرتے رہے کہ عدالتوں میں شریف فیملی کے خلاف کبھی کوئی فیصلہ نہیںآیا“
۔ عدالت عظمی کی جانب سے میاں نوازشریف کی نااہلی پر مسلم لیگ ن کو بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا چاہے تھا۔ تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے میاں نوازشریف کو نہ تو خود نہ ہی حامیوں کو عدالت عظمی بارے غیر مناسب الفاظ استمال کرنے کی اجازت دینی چاہے مگر افسوس ایسا نہ ہوا۔ بلاشبہ اگر وزیر اعظم آزادکشمیر کو یقین ہوتا کہ ان کے ایسے بیان سے میاں نوازشریف ناگواری کا اظہار کریں گے تو وہ کبھی یہ سب کچھ نہ کہتے۔

Scroll To Top