گیارہواں کھلاڑی 26-11-2011

kal-ki-baatچکوال کے جلسہ عام میں عمران خان نے چوہدری نثار علی کو وہ بات سمجھا دی جو میاںنوازشریف کے اس ” جاںنثار “ کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ لاہور کے جلسہ عام میں عمران خان نے کہا تھاکہ میں ایک گیند سے دونوں وکٹیں اڑاﺅں گا۔ اس بات پر تبصرہ کرتے ہوئے چوہدری نثا ر علی کہہ رہے تھے کہ جس کرکٹر کو یہی پتہ نہ ہو کہ ایک بال سے دو وکٹیں نہیں اڑسکتیں اسے قوم سنجیدگی سے کیوں اور کیسے اپنا لیڈر مان سکتی ہے۔ عمران خان نے چوہدری صاحب کو سمجھایا کہ جب نو کھلاڑی آﺅٹ ہوجاتے ہیں تو کریز پر دو بیسٹمین باقی بچتے ہیں۔ جب ایک کی وکٹ اڑتی ہے تو دوسرا بھی آﺅٹ سمجھا جاتا ہے کیوں کہ وہ بیٹنگ نہیں کرسکتا ۔ دوسرے الفاظ میں جب موجودہ جوڑی میں سے کوئی بھی آﺅٹ ہوگا تو دوسرے کو بھی پیولین کی طرف واپسی کا سفر کرنا پڑے گا۔
چکوال سے واپسی کے سفر میں عمران خان نے امید ظاہر کی کہ بات چوہدری نثار کی سمجھ میں آگئی ہوگی یا آجائے گی۔
” ہوسکتا ہے کہ گیارہواں کھلاڑی اصرار کرے کہ وہ آﺅٹ نہیں ہوا اس لئے اسے بیٹنگ جاری رکھنے کا موقع ملنا چاہئے۔ بقول آپ کے ` میاں صاحب کوامپائرز کی مدد سے کھیلنے کی عادت شروع سے ہی ہے۔ “ میں نے جواب میں کہا۔
” میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ نون لیگ والے ہم پر اس قدر مہربان کیوں ہیں۔ جتنے تواتر اور جس قدر شدت کے ساتھ وہ اسٹیبلشمنٹ کا تعلق ہماری تحریک کے ساتھ جوڑ رہے ہیں ` اتنی ہی تیزی کے ساتھ دوسری جماعتوں اور خود نون لیگ کے لوگ تحریک میں شمولیت کے لئے بھاگے چلے آرہے ہیں۔ “ عمران خان نے مسکرا کر کہا۔
سفر میں ہمارے ساتھ عمران اسماعیل ` سیف اللہ نیازی اور عمران خان کے پرانے دوست مبشر اور موبی بھی تھے۔ موبی نے اس موقع پر تبصرہ کیا۔
” جب خدا مدد کرنے کو آتا ہے تو مخالفوں کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔“
آپ یقینا موبی کی اس بات سے اتفاق کریں گے۔
یہاں ایک سوال میرے ذہن میں پیداہورہا ہے گیارہواں کھلاڑی کون ہوگا۔؟ یعنی جسے پیولین کی طرف لوٹنے کے لئے اپنی وکٹ کے اڑنے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

Scroll To Top