شاید وہ کچھ ہو جائے جو ہمیں نظر نہیں آرہا 24-11-2011

kal-ki-baatچند برس قبل نیسم جیکب نے ایک کتاب لکھی تھی جس کا ٹائٹل ہے ”دی بلیک سوان“ ۔یعنی کالی بطخ ۔ فاضل مصنف نے اپنی اس تصنیف میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جب تک نیوزی لینڈ میں پہلی مرتبہ کالی بطخ نہیں دیکھی گئی، یہ بات طے شدہ اور مسلمہ سمجھی جاتی تھی کہ بطخ ہوتی ہی سفید ہے ۔
”کالی بطخ“ کا استعارہ نیسم جیکب نے بنیادی طور پر تاریخی عمل کو سمجھنے کے لئے استعمال کیا ہے۔
جب تک کوئی واقعہ رونما نہیں ہو جاتا وہ ”بلیک سوان “ ہوتا ہے ۔ اپنے اس نظرےے کو سمجھانے کے لئے موصوف نے ہٹلر کی مثال دی ۔ 1930ءتک ہٹلر ایک ”بلیک سوان “تھا ۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ اس قدر عظیم قد کاٹھ اختیار کرے گا کہ اس کے دم سے کرہ ارض کی بنیادیں ہل جائیں گی۔
اگر ہم پاکستان کے حوالے سے ”بلیک سوان “ تلاش کریں تو بے شمار ملیں گے ۔ صدر زرداری کی صدارت 27دسمبر 2007ءکے غروب آفتاب تک بلیک سوان تھی۔ بلخ شیر مزاری ، معین قریشی اور معراج خالد بھی ہمارے ”بلیک سوان “تھے۔ انہیں نجومیوں نے بھی نہیں بتایا ہو گا کہ وہ پاکستان کی وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔
ہمارے اکثر تجزیہ کار بڑے تیقّن کے ساتھ حالات کا تجزیہ کیا کرتے ہیں۔ بیتے ہوئے حالات اور حالیہ حالات پر تبصرہ کرنا ایک بات ہے، مگر آنے والے حالات کی تصویر کھینچ کر پیش کر دینا بالکل دوسری بات ہے۔
یہاں میں رائے دینے اور حقیقت بیان کرنے کا فرق واضح کرنا چاہوں گا۔ رائے محض رائے ہوا کرتی ہے ۔ حقیقت وہ نہیں ہوتی جو رائے دینے والے کو نظر آتی ہے۔ حقیقت کو میں نیسم جیکب کے الفاظ میں ”بلیک سوان “ کہوں گا۔
کیا اگلے عام انتخابات درمیانی مدت میں ہوں گے؟
اس سوال کا جواب اثبات میں ہو یا نفی میں اسے بلیک سوان ہی کہوں گا۔
کیا اگلے عام انتخابات موجودہ اسمبلی کی آئینی مدت کے اختتام پر ہوں گے ؟
اس سوال کا ہر جواب بھی میری نظروں میں ”بلیک سوان “ ہوگا۔
تو پھر حقیقت کیا ہے؟
جواب سیدھا سادہ سا ہے ۔
حقیقت مستقبل کی آغوش میں چھپی ہوئی ہے۔
جب سامنے آئے گی تو شاید ہمارے آج کے سارے تجزےے بے معنی ہو کر رہ جائیںگے۔
شاید قدرت کو وہ سب کچھ منظور نہ ہو جو ہم دیکھ رہے ہیں یا چاہ رہے ہیں کہ دیکھیں ۔
اور شاید قدرت کو منظور وہ کچھ ہو جو ہمیں نظر نہیں آرہا۔

Scroll To Top